(انٹرنیٹ پر گردش کرتی تصویر)
پہلی جنگ عظیم کا کوئی واحد مقصد نہیں تھا۔ اس کے بجائے، ہر شریک قوم الگ
الگ سامراجی، علاقائی اور تزویراتی مقاصد کے ساتھ عالمی تنازع میں داخل ہوئی۔بڑی
طاقتیں اور ان کے مقاصد جرمنی: فرانکو-روسی اتحاد کو توڑنے، براعظم یورپ میں تسلط
کو محفوظ بنانے، اور اپنی عالمی طاقت کو بڑھانے کے لیے فیصلہ کن فوجی فتح کی کوشش
کی۔ پہلی جنگ عظیم کا اختتام مرکزی طاقتوں کی شکست اور اتحادی طاقتوں کی فتح کے
ساتھ ہوا، جس کی قیادت برطانیہ، فرانس اور امریکہ کر رہے تھے۔ اہم نتائج اور اثرات
سلطنتوں کا زوال: چار بڑے شاہی خاندانوں کا خاتمہ ہوا: جرمن، روسی، آسٹرو ہنگری،
اور عثمانی سلطنتیں۔ نئی سرحدیں: یورپ کا نقشہ دوبارہ تیار کیا گیا، جس سے پولینڈ،
فن لینڈ، چیکوسلواکیہ اور یوگوسلاویہ جیسی نئی قومیں تخلیق ہوئیں۔ جنگ کا الزام
قبول کرنا، بھاری مالی معاوضہ ادا کرنا، اور اس کے فوجی حجم کو کم کرنا، جس کی وجہ
سے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں۔ انسانی قیمت: تقریباً 20 ملین افراد ہلاک
ہوئے، جن میں فوجی اور شہری دونوں شامل تھے، اور 21 ملین مزید زخمی ہوئے۔ امریکہ
کا عروج: یورپی ممالک قرضوں میں ڈوب گئے، جس سے امریکہ ایک غالب عالمی اقتصادی
طاقت بن کر ابھرا۔ دوسری جنگ عظیم اس لیے ہوئی کیونکہ محوری طاقتیں
(جرمنی، اٹلی اور جاپان) جارحانہ فوجی فتوحات کے ذریعے اپنی سرزمین اور طاقت کو
بڑھانا چاہتی تھیں۔ ایک ہی "مقصد" رکھنے کے بجائے یہ جنگ ہر طرف سے
مختلف مقاصد کے تحت چلائی گئی تھی: محور مقاصد (انہوں نے یہ کیوں شروع کیا) جرمنی:
ایڈولف ہٹلر نے جنگ عظیم اول کو ختم کرنا چاہا۔ کھوئی ہوئی زمین پر دوبارہ دعویٰ
کریں، اور جرمن نسل کے لیے یورپ میں نئے علاقے کو فتح کریں۔ اٹلی: بینیٹو مسولینی
بحیرہ روم کے ارد گرد ایک نئی رومن سلطنت کی تعمیر کرنا چاہتا تھا۔اتحادی مقاصد
(وہ کیوں لڑے)برطانیہ اور فرانس: جرمنی کو یورپ میں آزاد اقوام کو فتح کرنے اور
کچلنے سے روکنے کے لیے جنگ میں شامل ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ: اپنے اتحادیوں کے دفاع
اور محور کے عالمی تسلط کو روکنے کے لیے 1941 میں جاپان کے پرل ہاربر پر حملہ کرنے
کے بعد اس میں شامل ہوا۔ قبل از تاریخ بھی جنگلوں میں بسے قبائل نے
اپنےقبیلے کی معاشی استعداد بڑھانے کے لئےمختلف طریقئہ کار اپنائے ، جس میں دوسرے
قبیلے کے سردار کو طاقت کے بل بوتے پر اٹھا کر اپنے علاقے میں لاکر پابندِسلاسل
کردینا ایک عام سا دستور تھا جیسا کہ امریکن صدر نے آج کی تاریخ میں وینزویلا کے
صدر کو اس کے گھر سے اٹھا کر ایک سب سے زیادہ ترقی یافتہ انسان ہونے کا ثبوت دے کر اپنے ہی ملک میں قائم کردہ بے شمار بین الاقوامی قانونی اداروں کی عمارتوں پر کلنک کے ٹیکے لگا دئے۔ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو اپنا
چوکیدار بنانے کے بعد سے آج تک فلسطین و غزہ کی پٹی پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھائے
گئے ہیں ان پر علیحدہ کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر
امریکہ کا ایران پر حملہ کر دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے نشے میں دُھت کوئی چوکیدار کسی دوسرے چوکیدار (ایران) کو گالیاں
دینا اور تھپڑ مارنا شروع کردے۔اسرائیل اور امریکہ اس جنگ کو صلیبی جنگ کا بدلہ کہنے کے باوجود
نہیں سمجھتے کہ ایران ہی وہ ملک ہے جو ڈٹ کر کھڑا ہے اور اب اس حقیقت کو جان کر
پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی مانند اتحاد بن رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کا واضح
اشارہ ہے۔
