![]() |
(سر ڈیوڈ ایٹنبرو کی تصویریں انٹر نیٹ سے لی
گئی ہیں)
ایٹنبرو بی بی سی میں سینئر مینیجر تھے، بی بی سی ٹو کے
کنٹرولر اور 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بی بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرامنگ کے
ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ اگرچہ اس کا پہلا کام بنیادی طور پر قدرتی دنیا
پر مرکوز تھا، لیکن اس کا بعد کا کام ماحولیاتی وجوہات کی حمایت میں زیادہ آواز
والا رہا ہے۔ انہوں نے سیاروں کی حیاتیاتی تنوع کو بحال کرنے، آبادی میں اضافے کو
محدود کرنے، قابل تجدید توانائی کی طرف سوئچ کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے،
گوشت کی کھپت کو کم کرنے اور قدرتی تحفظ کے لیے مزید علاقوں کو مختص کرنے کی وکالت
کی ہے۔ اپنی نشریات اور فطرت کے لیے جذبہ پر، NPR نے کہا کہ
اٹنبرو نے "دنیا بھر میں گھوم پھر کر اپنی دریافتوں اور جوش و جذبے کو اپنے پیٹنٹ
نیم سرگوشی کے انداز سے بیان کیا۔" سر ڈیوڈ ایٹنبرو کس چیز کے لیے مشہور ہیں؟
ان کے پیشے کی پیش کش 1954 میں زو کویسٹ کے میزبان کے طور پر شروع ہوئی، اور آٹھ
دہائیوں پر محیط ہے۔ اس میں دی لائف کلیکشن، نیچرل ورلڈ، وائلڈ لائف آن ون، دی پلینٹ
ارتھ فرنچائز، دی بلیو پلینٹ اور فروزن پلینیٹ بنانے والی نو دستاویزی سیریز شامل
ہیں۔ سر ڈیوڈ کو میں 1993 سے جانتا ہوں جب میں نے ان کا پہلا ٹیلی ویژن پروگرام
نیشنل جیوگرافک چینل پر دیکھا تھا اُس ڈش اینٹینا کے ذریعے جو میں نے نیا نیا
اپنے گھر کی چھت پر لگایا تھا۔ اس پروگرام
کا نام تھا "دی ایسنس آف مین" یا ((The Essence of Man ۔اس کے بعد سے آج تک جتنے پروگرام سر ڈیود کے
بارے میں نشر ہوئے ہیں تقریباً ہر پروگرام
کسی نہ کسی طرح میری پہنچ میں آہی گیا اور میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے دیکھ
لیا۔ایک نہایت اہم نکتہ کہ میں نے سرڈیودکو اپنی صحت یا اپنی غذا کے بارے میں بات
کرتے کبھی نہیں سنا، ہو سکتا ہو کوئی ایسا
پروگرام نشر ہؤا ہو جو ان کی تندرستی کے بارے میں ہو اور میں نہ دیکھ پایا ہوں
لیکن اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سر ڈیوڈ کی صحت کا راز ہے "فطرت سے ہم آہنگی"۔
ان کے اس روئیے سے میں اتنا متاثر ہؤا کہ مین نے اپنی تیسری کتاب کا نام دیا "اپنے عمل کو فطرت سے ہم آہنگ
بنائیں"۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے کہ انسان سر سے پاؤں تک بالکل تندرست رہتا ہے
لیکن جیسے ہی فطرت سے ذرا سا بھی غیر آہنگ ہونے سے ہمارے جسم اور روح میں غیر
آہنگی رونما ہوتی ہے تو درمیان میں ابلیسی قوت دخل اندازی شروع کر دیتی
ہے جس کو قران پاک میں کہا گیا ہے کہ "ہم اپنے نفس پر خود ظلم کرتے ہیں جس سے
بیماری آتی ہے، میں (اللہ) نے ہر بیماری کی شفاء پہلے ہی بھیج دی ہے تمہارا کام ہے
کہ اسے تلاش کرو" سر ڈیوڈ کو پودوں، کیڑے مکوڑوں ، چرند وپرند کے ساتھ ہر وقت
مصروفِ عمل دیکھا اور موسمی تغیرات کے ان پر اثرات کے بارے میں ہمیشہ سر ڈیود نے
تنبیہ کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت
(نیچر) کے ساتھ انٹر ایکشن کے نتیجے میں ان کی اپنی روح مکمل طور پر جسم سے ہم
آہنگ رہی اور کبھی کسی شیطانی قوت کو درمیان میں گھسنے کا موقع نہ ملا جس کی بابت آج دنیا ان کا 100 واں صحت مند سال
منا رہی ہے۔ بہت مبارک ہو سر ڈیوڈ کو، دعا ہے کہ سر ڈیوڈ مزید سالگراہیں منائیں
مکمل صحت و تندرستی کے ساتھ اور دنیا کو نیچر ( قدرت) کے بارے میں مزید آگاہی
پہنچائیں، آمین!
