![]() |
(ہماری ویب رائٹرز کلب گورننگ باڈی ممبران بانی کے ہمراہ)
ذرا سا شعور آتے ہی جہاں ہم دو
ہوئے ، اپنے ملک پر تبرّہ بھیجنے لگے جس کا مطلب ہوتا ہے (وہ سخت ناگوار الفاظ جو کسی مخالف کی
نسبت بطور لعنت زبان پر لاتے ہیں، وہ نا مناسب الفاظ جو کسی مخالف کے لیے بطور
لعنت استعمال کیے جائیں، لعنت، گالی گلوج، دھتکار)۔سوشل میڈیا نے ہماری یہ مشکل
بھی آسان کردی کہ اب کسی دوسرے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اپنا فون تو ہر وقت ہاتھ
میں رہتا ہے،سیلفی لیتے لیتے وڈیو بنائی جس میں اپنے ملک کوجتنی چاہے گالیاں دیں
اور کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کر کے آرام سے سوگئے۔موضوع خواہ بھی کچھ بھی رکھ لیں جیسے "اسلام میں
صفائی نصف ایمان ہے" ۔ ہمارے ملک میں ہر جانب گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور
پھر بھی ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن یہ مسلمان اپنے ملک سے باہر کسی بھی
ائر پورٹ پر اترتے ہی صفائی کا سختی سے
خیال رکھنا شروع کر دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی کا زیادہ حصّہ اپنے کام اور اپنے
مستقبل کے موضوع کے بجائے ملکی و بین الاقوامی سیاست پر تبصرے میں گزار دیتے ہیں۔زیادہ
تر ڈاکٹر صحافت پر، انجینئر انسانی جسم کے امراض اور اُن کے علاج پر لیکچر دے رہے
ہوتے ہیں۔ جبکہ سیاست دان بڑے بڑے ٹیکنیکی پراجیکٹس اور ان میں استعمال ہونے
والےسائنسی تجربات پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں۔اس قوم کا ہر تیسرا
شخص اپنے آپ کو نہ صرف عالمِ دین سمجھ کر بلکہ دیگر تمام مذاہب و نظریات پر اپنی
مکمل گرفت ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ اُس کی خواہش
ہوتی ہے کہ اُس کی بات اور اُس کے نظریہ کو دیگر تمام لوگ حرفِ آخر تسلیم کر لیں۔مندرجہ
بالا تین رویّوں کے باعث:- ہماری ذات سے متعلّق اپنی ذمّہ داریاں پوری
نہ کر پانا اور اپنے مستقبل کو سنوار نہ پانا وجود میں آتاہے۔ پیشہ ورانہ
تعلیم کے حصول میں کمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اپنے آپ
کو عقلِ کُل سمجھنے اور اپنی سوچ دوسروں پر مسلّط کرنے کا جنون سوار ہوتا چلا جاتا
ہے۔لہٰذا مندرجہ بالا نتائج کی روشنی میں بِلا شُبہ ہم انفرادی طور پر تو
کمزور و پس ماندہ ہوتے ہی ہیں لیکن ہم جیسے افراد کے مجموعہ یعنی ہماری قوم کا حشر
بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو سکتا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ "میں" آج اور
اسی وقت سے اپنا رویّہ تبدیل کرنے کی کوشش شروع کردوں۔ بہتری کے حصول کی کوشش شروع
کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا کوئی وقت مقرر ہوتا ہے، جس لمحے یہ
کوشش شروع ہوجائے وہی اُس کا بہترین وقت ہے۔حضرت جبرائیل علیہ
السلام کو کتاب سپرد کی گئی ہے کہ وہ اسے رسولوں تک لے جائیں ، بارش اور زمین کے
نباتات حضرت میکائیل کے سپرد ہیں ، جہنم کے نگہبان حضرت مالک، جنت کے داروغہ اورخازن کا نام
رضوان ، قبر میں سوال کرنے والے فرشتوں کو منکر نکیر کہا جاتا ہے، حضرت میکائیل
علیہ السلام بارش برسانے اور لوگوں کی روزی وروٹی کے انتظام پر، حضرت اسرافیل علیہ
السلام قیامت کے دن صور پھونکیں گے اور حضرت عزرائیل علیہ السلام روح قبض
کرنے پر مامور ہیں۔گویا خالقِ کائنات نے اپنا نظام چلانے کے لئےایک منظم طریقے پر
اپنے کارندے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ ہر کارندہ اپنا اور محض اپنا کام سر انجام
دیتا ہے ، کبھی کوئی کسی کے کام میں دخل اندازی کرتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کے
کام پر تبصرہ ورنہ سوچیں کہ کسی روز اسرافیلؑ کہیں کہ میں آج سے میکائیلؑ کا کام
کرتا ہوں اور وہ میری ذمہ داری نبھائیں ۔ اس ایک بد نظمی کے باعث سارا نظام درہم
برہم ہو جائیگا یا نہیں۔ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ انجینئیر بیماریوں کے علاج کے بارے
میں اپنے ادارے میں آن ڈیوٹی بیٹھے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹرز اسپتالوں
میں ڈاکٹرز روم میں بیٹھے سیاست پر تبصرے فرماتے پائے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری
حضرات موٹر ویز اور پلوں کے ڈیزائین اور تعمیر پر نکتہ چینی کرکے اطمینان محسوس
کرتے ہیں جب کہ بچت بازاروں میں بنیادی اشیائے خوردونوش خریدنے والے ماہرِ
معاشیات کی مانند تبصرہ کے لئے کسی ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین کو ڈھونڈنے
میں اپنا وقت گزارتے پائے جائیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ گویا
فطرت کے نظام کا نظم و ضبط دیکھ کر بھی ہم کچھ نہیں سیکھ پائے اور ہم نے من
حیث القوم ، تعلیم یافتہ ہوں یا جاہل، سب نے فطرت کے نظام سے غیر آہنگی کے
ریکارڈ توڑ رکھے ہیں جس کے باعث ابھی تک ترقی پذیر ملکوں میں بھی اپنا شمار نہیں
کروا پائے بلکہ پس ماندہ اقوام میں شامل کئے جاتے ہیں۔درج بالا بیان
کئے گئے حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر
وقت صرف کرے، نہ تو کسی دوسرے کے کام میں نقص نکالے، نہ ہی کسی قسم کی نکتہ
چینی کرے۔ سرکاری ادرے میں ملازمت ہو یا پرائیویٹ کمپنی میں، کاروبار ذاتی
ہو یا مشورہ جاتی، ہر صورت میں محض اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فرائض کی انجام
دہی بہتر نتائج کی حامل ہوتی ہے۔آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے ان کے افراد نے صرف
اپنے اوپر عائد کی ہوئی ذمہ داریاں بہ حسن و خوبی نبھائیں ، یہاں تک کے سپر
پاور کے یونیورسٹی کے طالب علموں کو اپنے وزیر خارجہ کا نام تک نہ معلوم تھا
جب ان سے 1974ء میں ایک ٹیلیویزن پروگرام میں پوچھا گیا، گویا ہر فن مولا
ہونا کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ اپنے کسی خاص کام میں ماہر ہونا اپنی قوم کو ترقی
کی جانب لے جانے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔
