Search This Blog

Monday, July 6, 2026

انسان کی ذہانت ختم ہو گئی کیا؟

(انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر،  غزہ  میں بچوں کے قتلِ عام کا تیسرا سال)

جی ہاں انسان کو خالقِ کائنات کی عطا کردہ عقلِ سلیم نے جب اپنی معراج  کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس کی بلندیوں کی شاخوں ادراک، فہم و فراست اور دانش نے مصنوعی ذہانت کے آگے ہتھیار ڈال دئے، تب ہی تو زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے حصول کی خاطر لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام ان  ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ اقوام کا وطیرہ بن گیا ہے جنھوں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ایسے اداروں کی بنیاد رکھی تھی جو انسان کو طاقت کے نشے میں بھی حیوان بننے سے روکنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ابھی چند سال پہلے ہماری سوشل زندگی سکڑتے سکڑتے ہمارے اپنے گھر کے ایک کونے تک محدود ہو چلی تھی تو ہم نے سوشل میڈیا ایجاد کر لیا اور یوں ہم اپنی ہتھیلی پر فون کے ذریعے سوشل ہو گئے اور اب ہماری ذہانت عروج کی بلندیوں پر رواں دواں تھی، اپنی لاٹھی کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ہم نے بھینس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا جو بے چاری قدرتی گھاس کھاتی اور جُگالی کرتے کرتے سو جایا کرتی تھی لیکن صبح سویرے اس کے دودھ سے مستفید ہونے والوں نے اس کو نہایت عمدہ خوراک بنا کر دینی شروع کی تو اس کے بھی نخرے بڑھنے لگے لیکن پھر بھی ایک حد کے اندر۔ ہم انسانوں نے تو زمین پر قبضے کے چکر میں پہلے ایک کو مارا، پھر دس کو، اس کے بعد سو کو ار اس کے بعد تو حد سے کہیں آگے نکل کر لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جان لینا ایک کھیل بن چکا۔ جن تہذیب یافتہ انسانوں ایسے ادارے بنائے جن کے تحت انسان کی درندگی کو لگام دی جا سکتی لیکن انسان کا خون منہ لگ جانے کے بعد تو ان اداروں کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہوجانے والے اب تو انسانوں کی  جان بچانے کے بجائے ایسی ٹیکنالوجی  بنانے پر تُلے ہیں کہ  ہتھیلی پر رکھے فون کے ذریعے ہی لاکھوں انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی مانند لمحہ بھر میں ختم کر کے ان کی عظیم الیشان رہائش گاہوں کو زمیں بوس کر کر اپنی عیاشیوں کے اڈے اپنی مرضی سے تعمیر کر کے زندگی کے مزے لیں۔ اس سلسے میں پہلے روبوٹ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، پھر ڈرون کا اور اب مصنوعی ذہانت کو خالقِ کائنات کی عطا کردہ ذہانت کے نعم البدل کے طور پر لایا جا رہا ہے۔صحیح تو ہے جب انسان کی مَت ماری جاتی ہے تو کچھ تو چاہئیے متبادل کے طور پر۔یعنی انتہا ہے لکیر کے فقیر ہونے کی کہ ساری دنیا بغیر سوچے سمجھےہر ترقی یافتہ  قوم کی پیروی کرنا شروع کر دیتی ہے خواہ پلٹ کر اس  انسانی تباہی کی لپیٹ میں وہ خود بھی آجائے۔ابھی وقت ہے نظر ثانی کر لی  جائے تو بہتر ہے، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے بجائے خون کا ایک قطرہ بنا لیا جائے تو ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔   


 

Archive