![]() |
(پبلشرز کی تجویز کردہ تصویر)
۱ ۔وقت کی
پابندی: کائنات کا سارا نظام وقت کا تابع
ہے یعنی سورج، چاند، ستارے،زمین کی گردش، غرض یہ کہ فطرت کی بنائ ہوئ ہر شے وقت کی
پابند ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان پابندئ وقت کے بغیر ایک متوازن اور
خوبصورت زندگی گزار سکے۔ ہاں یہ ضرور ماننے والی بات ہے کہ بہت پہلے کے دور میں
انسان فطرت کی بنائ ہوئ اِن اشیاء کی مدد سے اندازہ لگا کر تقریباً اپنے تمام کام
کر لیا کرتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اپنے اِن اندازوں کو ناکافی سمجھا گیا اور یوں
وقت کی اہمیّت کے پیشِ نظر اِس میں باریک بینی کے ساتھ بالکل صحیح (Accuracy)ہو نے کی ضرورت پیش آئ۔ کسی بھی چیز کو بالکل صحیح ناپنے کے
لئے کسی آلہ یا انسٹرومنٹ کی ضرورت ہوتی
ہے لہٰذا وقت کو ناپنے کا آلہ بنایا گیا جس کو گھڑی کہتے ہیں۔اگرگھڑی کے بغیر وقت
کو ناپا نہیں جاتا تو اِس کی پابندی کیسےممکن تھی اور کسی بھی پابندی پر عمل نہ
کرنے کے جو نقصانات ہوتے ہیں اُن کے مقابلے میں وقت کی پابندی نہ کرنے سے لا محدود
یعنی تمام زندگی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے کیونکہ گذرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس
نہیں آسکتا۔ مثال کے طور پہ ہمیں صبح چھ بجے اُٹھنا تھا جِس کے لئے ہم نے چھ بجے
کا الارم بھی لگایا لیکن الارم نہ بجا یا کسی اور وجہ سے ہماری آنکھ نہ کُھل سکی
اور اِس کے بجائے سات بجے آنکھ کھلی جبکہ سات بجے ہمیں گھر سے نکل کر ساڑھے سات
والی ٹرین پکڑنا تھی۔ اب غلطی خواہ کسی کی بھی ہو اب صبح کے چھ اُس روز نہیں بج
سکتے بلکہ چوبیس گھنٹے بعد اگلے روز ہی بجیں گے۔ اِس واقعہ کی وجہ سے نتائج کا
خمیازہ ہمیں ہی بُھگتنا پڑےگا تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔وقت کی پابندی نہ کرنے
سے محض ٹرین ہی نہیں نکلتی بلکہ اِس جیسی یا اِس سے بھی خطرناک بے شُمار
مثالیں ہیں جِن کے تذکرے سے یہ کتاب بھی
کم پڑ جائے جبکہ اِس کے برعکس بہت چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ایسی ہیں جو بَر وقت نہ
کی جائیں تو اُن کے منفی اثرات کی جھلک یا
تو ہماری شخصیّت میں نظر آنے لگتی ہے یا پھر ہمارے اِرد گِرد کے لوگ اُن منفی
اثرات سے متاثّر ہوتے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحے کی اہمیّت، قدر و
منزلت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہمیں ہمیشہ وقت کی پابندی کرنی چاہئے تاکہ ہماری
زندگی آسان، کامیاب اور پُر لطف ہو ورنہ پچھتاوا ہی پچھتاوا ہوگا۔ کسی نے صحیح کہا
ہے:-اب پچھتا ئے کیا
ہوت..جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔۲ ۔سُست روی، کاہلی اور ٹال مٹول سے پرہیز:سُست
روی، کاہلی اور ٹال مٹول ہی وہ اسباب ہیں جو وقت کی پابندی میں مانع ہیں۔ یعنی یہ
وہ رویّے ہیں جِن کی وجہ سے ہم کوئ بھی کام وقت پر نہیں کر سکتے۔ اِن تینوں میں سے
کسی ایک پر بھی بہت ہی شروع میں قابو نہ پایا جائے تو رفتہ رفتہ یہ ہماری عادت اور
شخصیّت کا حصّہ بن جاتے ہیں اور پھر اِن سے جان چُھڑانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ یاد رہے
کہ اِن تینوں رویّوں کا تعلّق ذہن سے ہے۔ جیسے بعض مرتبہ ہم جسمانی سُستی محسوس
کرتے ہیں تو اُس پر قابو پانے (Overcome) کرنے کے لئے ہم غُسل کر لیتے ہیں جس کے
ذریعے ہم تازگی اور فرحت محسوس کرنے لگتے ہیں یا کوئ ہلکی پھلکی ورزش کرنے سے بھی
چاق و چوبند ہونے کا احساس ہوتا ہے بالکل اِسی طرح مندرجہ بالا ذہنی کیفیّت کا بھی
تدارک کیا جا سکتا ہے۔سُست روی :- یہ وہ رویّہ ہے جس میں ہمیں کوئ کام کرنے کو کہا
جائے تو ہم فوراً کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ کرتے ہیں لیکن کرتے خوشی سے ہیں
۔کاہلی :- یہ وہ رویّہ ہے جس میں ہمیں کوئ کام کرنے کو کہا جائے تو ہم فوراً نہیں
کرتے اور خوشی سے بھی نہیں مگر دوسرے کے زور دینے یا Push کرنے سے بادِلِ
ناخواستہ کر ہی لیتے ہیں۔ٹال مٹول :- یہ وہ رویّہ ہے جس میں ہمیں کوئ کام کرنے کو
کہا جائے تو ہم فوراً تو کیا بلکہ کوشش
کرتے ہیں کہ کسی طرح معاملہ ٹل جائے اور کام نہ ہی کرنا پڑے۔ اِس میں ہماری خوشی
تو درکنار، مرضی بھی شامل نہیں ہوتی۔اُوپر بیان کئے گئے تینوں ہی رویّے منفی رویّے
ہیں جو ہماری کامیاب زندگی میں شدید رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں لہٰذا ہمیں بہت ابتدائ
درجہ میں ہی اِن کو کسی بھی طریقے سے بدل لینا چاہئے۔۳ ۔کسی جگہ پہنچنے کے وقت میں
اضافی وقت (Margin ) رکھنا: ہمیں
جب کبھی کہیں بھی جانا ہوتا ہے تو جگہ ، موقع اور فاصلے کی مناسبت سے وقت کا حساب
لگا کر تیاری شروع کرتے ہیں تاکہ مقرّر کردہ وقت پر پہنچ سکیں۔ اِس حساب میں اضافی
وقت (Margin ) رکھنے کا قاعدہ کچھ اِس
طرح ہو تو بہتر ہے:-سوچے ہوئے وقت سے پانچ منٹ پہلے تیاری شروع کردیں۔گھر سے روانہ
ہونے والے سوچے ہوئے وقت سے کم از کم پندرہ منٹ پہلے روانہ ہو جائیں- ( یہ اضافی
وقت تیز رفتاری سے بچنے کےلئے ہے)کم یا زیادہ فاصلے کی مناسبت سے اضافی وقت میں
کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔ (یہ اضافی وقت ٹریفک میں خلل یعنی Traffic
jam کےلئے ہے)سفر
کرنے کا ذریعہ یعنی سواری کے حساب سے راستہ طے کرنے کے وقت کا تعیّن کیا جاتا ہے
یعنی پیدل، سائیکل، بس، ٹرین، موٹر سائیکل یا
کار، ہر ذریعہ کے لئے الگ الگ اضافی
وقت رکھنا ہوگا۔ ( یہ اضافی وقت سواری میں
خرابی یا کسی ناگہانی یعنی Mishap کیلئے ہے)اگر
ہم مندرجہ بالا طریقہ کار پر عمل کریں گے تو نہ تو کسی قسم کا تناؤ (Tension) ہوگا اور نہ ہی دیر سے پہنچنے کی شرمندگی کا
سامنا کرنا پڑے گا۔
%20-%20Copy-page-042.jpg)