Search This Blog

Thursday, September 24, 2026

خالقِ کائنات کے نظام کے ٹھیکیداروں سے سوال

(انٹرنیٹ سے لی گئی منہ بولتی تصویر)

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 150 ملین افراد بے گھر ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ سڑکوں کے کنارے، فٹ پاتھوں اور عوامی جگہوں پر سونے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سستی رہائش اور سماجی معاونت کے نظام کی شدید کمی ہے۔ یہ عالمی بحران تمام خطوں میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے، جو کہ مختلف اقتصادی، سماجی اور سیاسی عوامل سے کارفرما ہے۔کوئی کہتا ہے  کہ غریب پیدا ہونا جُرم نہیں لیکن غریب مر جانا جُرم ہے، کوئی کہتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے کوئی چور پیدا نہیں ہوتا، کوئی کہتا ہے کہ مانگنے والا آپ کے دروازے پر آئے تو اس کو خالی ہاتھ واپس نہ بھیجو،کوئی کہتا ہے دینے والا ہاتھ اوپر اور لینے والا ہاتھ نیچے ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے اللہ کے نام پر ایک روپیہ دو گے تو اس کے بدلے اگلے جہاں میں ستر روپے ملیں گے وغیرہ وغیرہ۔سوال یہ ہے کہ  کیا امیر آسمان سے ٹپکتے ہیں اور غریب زمین سے نکلتے ہیں؟دنیا بھر میں رائج شدہ بے شمار نظامِ زندگی آج موجود ہیں اور  آج سے ہزاروں سال پہلے بھی انسان اپنے اپنے حساب سے طرزِ زندگی گذارنے کے لئے مختلف قسم کے نظام گھڑتا رہا ہے۔ ہر دور میں بادشاہ اور رعایہ،   حکمراں اور عوام بنیادی  نظامِ زندگی ہی نظر آتا ہےجس میں ایک شے مشترک ہے کہ بادشاہ اور حکمراں ہمیشہ امیر،  رعایہ اور عوام ہمیشہ ہی غریب کیٹیگری سے رہے اور آج بھی ہیں۔امیر  پہ اعتراض کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور غریب اعتراض کرنے کے قابل نہیں ہوتا، البتّیٰ ایک اور کیٹیگری ہوتی ہے  جس کے پاس خالقِ کائنات کے نظام کو ہر کَس و ناکَس تک پہنچانے کا ٹھیکہ ہوتا ہے جو اس کیٹیگری کے ہر فرد نے بقلم خود اپنے ذمہ لیا ہوتا ہے۔ اس کا ہر فرد خواہ وہ کسی ملک یا کسی بھی عقیدے  سے تعلق رکھتا ہو  وہ اتنی جراؑت نہیں رکھتا کہ بادشاہ یا حکمران کو نظامِ خداوندی سمجھائے لہٰذا اس کے سامعین و قارئین میں بھی ننانوے فیصد عام عوام یا رعایہ ہی ہوتی ہے۔میرا سب سے ایک ہی سوال ہے "امیر و غریب ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں یا  ہم بندوں کی اپنی پیداوار؟  چلو اگر آج تک جواب نہ ملا تو اب بھی نہ ہی سمجھو لیکن ایک اورسوال کا جواب دے دو" کیا کوئی ایسا نظام وضع کیا جاسکتا ہے جس میں امراء  کی دولت میں سے کچھ حصہ لے کر غرباء کو دے دیا جائے اور اس وقت تک تقسیم کیا جائے جب تک سڑک کنارے  پڑے،  پھٹے پرانے چیتھڑوں میں بھوکے پیاسے تمام دنیا کے انسانوں کے پاس سر چھپانے کی جگہہ اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ ہوجائے بغیر اپنا ہاتھ پھیلائے؟"  امیر اور غریب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور دنیا میں مال و دولت کی یہ تقسیم اس کائنات کے نظام کو چلانے اور انسانوں کو آزمانے کے لیے رکھی گئی ہے۔اسلامی اور قرآنی تعلیمات کے مطابق اس کی حکمتیں درج ذیل ہیں: امتحان اور آزمائش: اللہ تعالیٰ امیر کو دولت دے کر آزماتا ہے کہ وہ شکر ادا کرتا ہے، زکوۃ و صدقات دیتا ہے اور غریبوں کی مدد کرتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح وہ غریب کو کم دے کر آزماتا ہے کہ وہ صبر کرتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔نظامِ کائنات کا تسلسل: اگر دنیا میں سب لوگ برابر امیر ہوتے تو کوئی بھی شخص دوسرے کا کام کرنے، مزدوری کرنے، یا نوکری کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ اس تفاوت (فرق) کی وجہ سے دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور انسان ایک دوسرے کے محتاج اور مددگار بنے ہوئے ہیں۔رزق کا مالک صرف اللہ ہے: قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رزق کو کشادہ کرنا یا تنگ کرنا خالصتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اس میں انسان کی اپنی ذہانت یا طاقت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔


 

Archive