![]() |
(کتاب میں دی
گئی تصویر)
۱ ۔ گھر کا کوڑا کرکٹ مخصوص جگہ پر ڈالنا: ہم
خواہ بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہوں ، چھوٹے مکانوں میں یا فلیٹوں میں ، کوڑے کرکٹ کے
معاملے میں واسطہ یا بالواسطہ (Direct or Indirect) طور پر سب برابر کے مجرم ہیں لیکن کسی سے بھی بات کریں وہ اپنی
ذمّہ داری سے مبرّا ہونے کی کوشش میں ناکامی کے بعد تمام تر ذمّہ داری حکومتی
اداروں پر ڈال کر چلتا بنے گا۔ بہر حال یہ ایک طویل بحث ہے۔ ہمیں اپنی ذمّہ داری
نبھانی ہے جس کے تحت اِن نکات پر عمل کرناہوگا :-۱ ۔ اگر ہم بڑے گھر میں رہتے ہیں تو ظاہر ہے ہمارے
پاس ملازم بھی ہونگے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملازم کو تربیّت دیں کہ گھر کا
تمام کچرا گلی محلّہ میں رکھے ہوئے متعلّقہ ادارے کے کوڑے دان میں ڈالے۔۲ ۔ اگر ہم
چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں اور ہما رے پاس کوئ ملازم وغیرہ نہیں تو ہمیں چاہیئے کہ
ہم خود اِس کام کی ذمّہ داری لیں کہ گھر کا تمام کچرا متعلّقہ ادارے کے کوڑے دان
میں ڈالیں۔۳ ۔ اگر ہم کسی فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں تو زیادہ تر اُس عمارت
میں یہ انتظام ہوتا ہے کہ ہمارے دروازے پر آ کر انتطامیہ کا مقرّر کردہ ملازم
ہمارا کچرا لے جاتا ہے اِس لئے ہمیں محض اپنے دروازے کے آگے کچرا رکھنا ہوتا ہے۔ ۴
۔ جہاں فلیٹس یا اپارٹمنٹس میں رہنےمیں اِتنی آسانی ہے وہیں ایک بہت بڑا مسئلہ بھی ہے وہ یہ کہ اُوپر
والی منزلوں کے رہائشی چھوٹا موٹا کچرا اپنی کھڑکی یا بالکونی سے نیچے پھینک دیتے
ہیں جو کہ نہ صرف بد تہذیبی ہے بلکہ دوسروں کیلئے تکلیف و ناگواری کا باعث بھی۔ یہ
ایک نہایت ہی ناپسندیدہ عمل ہے لہٰذا اِس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔۴
۔ جگہ جگہ تھوکنا اچھّی بات نہیں خواہ گھر ہو، محلّہ ہو، سڑک ہو یا بازار ۔ خاص
طور پر پان کی پِیک تو کہیں بھی نہیں تھوکنی چاہیئے ۔۲ ۔ گھر کےآگے پانی نہ بہانا:
ہم لوگ اپنے گھروں میں دُھلائ کرنے کے بعد پانی باہر گلی یا سڑک پر بہا دیتے ہیں
اِسی طرح گھر کے اندر یا باہر کھڑی گاڑی کو دھونے والا پانی بھی گلی یا سڑک پر بہہ
رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے گلی میں آنے جانے والوں کو کیچڑ میں سے گزرنا پڑتا ہے
اور دوسرے سڑک بھی رفتہ رفتہ ٹوٹ جاتی ہے۔ اِس بَد تہذیبی اور نقصان سے بچنے کے
لئے :-۱ ۔ ہمیں اپنے گھر کےآگے ایک ایسی
نالی یا پانی کا راستہ بنوانا چاہئے جس کے ذریعے گھر کی دھلائ یا گاڑی کو دھونے
والا پانی گلی یا سڑک پر پھیلنے کے بجائے مِین سیوریج لائن میں چلا جائے۔۲ ۔ جیسا
کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ پانی زندگی میں کتنا اہم ہے لہٰذا کسی بھی کام کے لئے
اِس کا کم سے کم استعمال کیا جائے تاکہ یہ
نعمت سب کو نصیب ہو سکے۔ ۳ ۔ غیر ضروری
شور شرابے سے گریز کرنا: ہم اکثر اپنے
گھروں میں خوشی کے موقع پر یا کبھی کبھار ویسے ہی اکیلے میں بہت تیز آواز میں
موسیقی لگا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھتے کہ ہمارے
پڑوس میں کوئ بیمار شخص بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے اُس کی طبیعت زیادہ خراب ہو
سکتی ہے یا کوئ پڑوسی کسی غم میں مبتلا ہو تو اُس کو ناگوار گزر سکتا ہے۔ بعض
مرتبہ تو ہم باہر گلی یا سڑک پر بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگا کر خوشی کا جشن مناتے یا
دیگر مذہبی رسومات کا بھی اہتمام کرتے ہیں جو کہ کسی طور بھی مناسب نہیں کیونکہ نہ
تو قانون اِس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی کسی مذہب میں اِس کو قابلِ قبول عمل
سمجھا گیا ہے۔محض موسیقی یا لاؤڈاسپیکر کا شور ہی شور نہیں ہوتا بلکہ یار دوست اور
رشتہ داروں کی محفلوں میں بھی بعض اوقات اس قدر شور شرابا ہوتا ہے (جس کو ہلّڑ
بازی بھی کہتے ہیں) کہ پورے محلّے میں اس کی گونج ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اِس عمل سے بھی
وہی منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں جو اوپربیان کئے گئے ہیں لہٰذا اس قسم کی حرکات سے
بھی ہمیں اجتناب برتنا چاہئیے۔
%20-%20Copy-page-026.jpg)