Search This Blog

Sunday, August 16, 2026

دنیا کا پہلا فوڈ پانڈہ

(اپنے بہنوئی حفظ الرحمٰن خان  کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئےتصویر ذاتی البم سے)

یہ 1955 کی بات ہے جب میں نو سال کا تھا تو ایک ہم عمر لڑکے سے دوستی ہو گئی گو کہ وہ بالکل تازہ تازہ مہاجر تھا۔ہم لوگ تو 1948 میں آگرہ انڈیا سے نقلِ مکانی کر کے سات سال میں پاکستان کے شمالی علاقے کے مقامی لوگوں سے گھُل مل گئے تھے، شاید اس لئے کہ ہمارے نام کے ساتھ سید لگا ہؤا تھالہٰذا بے حد عزت و احترام ہمارے نصیب میں آیا لیکن غیر سید لوگوں کو ذرا مشکلات پیش آئیں کیونکہ مقامی لوگ ان کو مٹروے کہہ کر پکارتے تو وہ چڑتے تھے لہٰذا کچھ الگ تھلگ رہتا دیکھ کر میں نے اس لڑکے سے دوستی کی جس کو اسکول میں ابھی داخلہ بھی نہ ملا تھا البتٗیٰ اس کے والد کو الیکٹرکل انجینئیر ہونے کے ناطے سیمنٹ فیکٹری واہ میں ملازمت مل گئی تھی۔اپنے دوست کو برداشت کا سبق پڑھاتے پڑھاتے اس کے گھر کے اندر جانے کی اجازت مل گئی جہاں اس کی والدہ کو صبح، دوپہر ، شام باورچی خانہ میں ہی پایا۔اور آخر کار ایک روز کھانا کھانے کو مل گیا تو خلافِ عادت تعریف کوفتوں کے سالن کی  منہ سے نکل گئی جو اس قدر  رونق والے روغنی  سالن میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن لال سُرخ ہونے کے باوجود جتنا خدشہ تھا کہ مرچوں سے اوپر سے نیچے تک آگ لگ جائے گی، ایسا بالکل بھی نہ ہوا، دریافت کرنے پر دوست کی والدہ نے بتایا کہ لال مرچ دو طرح کی ہوتی ہے ، ایک وہ جو انسان کو ناچ نچا دے اور دوسری وہ جو سالن کو اس قدر پُر رونق بنا دے کہ انسان بغیر بھوک لگے چار روٹی کھا جائے، یہ فن میں نے بلند شہر انڈیا سے سیکھا ہے۔اب بیٹا تم ایسا کرنا کہ اپنے گھر جاکر سب کو بتا دینا، ساتھ میں اپنے ماموؤں کے گھروں میں بھی کہ اگر ذائقہ دار کوفتے  کھانے ہوں تو مجھے ایک گھنٹہ پہلے بتا دیں  ۔ایسا ہی ہؤا اور چند روز میں ہی میں نے ان کے گھر سے کوفتے  ڈونگے میں لے کر گھر گھر (صرف اپنے رشتہ داروں کے ہاں) بانٹنے شروع کر دئیے۔ لذیذ کوفتوں کی خبر جنگل میں آگ کی مانند پھیل گئی تو  انھوں نے محلے کی مسجد کے مؤذن کو گھر گھر  سپلائی  کرنے کا کام سونپ دیا کیونکہ وہاں کا رواج تھا کہ دوپہر اور شام کے کھانے سے پہلے مؤذن ہر گھر سے روٹی و سالن اکٹھا کرکے مسجد لے جایا کرتا تھا۔تصویر میں میرے دوست  کے بڑے بھائی جو بعد میں میرے بہنوئی بنے (اللہ مغفرت فرمائے) جب وہ این آر ٹی سی (نیشنل ریڈیو کمیونیکیشن کارپوریشن ہری پور ہزارہ میں کمیونیکیشن انجینئر تھے۔


 

Archive