چھوٹے علاقے کے بڑے لوگ
کئی سال پہلے اپنی کلٹس گاڑی بیچنے کے لئے اخبار میں اشتہار
دیا، جو صاحب میری رہائش پر گاڑی دیکھنے آئےتو ظاہری طور پر اندرون سندھ کے ایک
خطرناک پیشہ ور کا شائبہ ہؤا لیکن میرے پرانے میکینک کا حوالہ دینے کے بعد ان کو
شاملِ معاہدہ فروخت کر لینے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہؤا تو دورانِ گفتگو
بار بار امیدوارکے فون پر بات کرنے سے اس کی شخصیت ایک مرتبہ پھر مشکوک دکھائی دی تو رہا نہ گیا اور پوچھ ہی لیا کہ یہ آپ کس
کو بار بار فون کر رہے ہیں۔ جواب سن کر شرمندگی کے ساتھ ایک سبق بھی ملا کہ ضروری نہیں کہ کسی کا ظاہر و باطن ایک ہی ہو۔مجھ سے اور
میرے بچوں سے بہتر تربیت یافتہ وہ شخص بار بار اپنے نوے سالہ بوڑھے باپ سے کھانے
پر وقت پر نہ پہنچنے کی معذرت کر رہا تھا۔جن کا حال ہی میں 96 سال کی عمر میں
انتقال ہوگیا۔گاڑی فروخت ہو جانے کے بعد چند نکات کی وضاحت کے سلسے میں میرے بڑے
بیٹے سے رابطہ رہا تو انتقال کی خبر کے بعد بہت دیر سے یعنی کل رات جانا ہؤا ۔نیو
کراچی کی اندرون پتلی گلیوں میں تھوڑی دِقّت کے بعد میں اور میرا بڑا بیٹا
عبدالسلام تھیبو (میری گاڑی خریدنے والے)کی رہائش گاہ پہنچے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ
کے باعث بارہ وولٹ کی گاڑی کی بیٹری سے ایک چھوٹا پنکھا اور ایک بلب روشن تھا۔دو
بھائی مع اہل و عیال ایک گھر میں مقیم تھے۔ہر بڑے چھوٹے نے سلام کے بعد میرے اور
میرے بیٹے کے ہاتھ چومے، اپنی آنکھوں کو لگائے اور نہایت تمیز کے ساتھ چائے و
ناشتہ لگا دیا ۔ عبدالسلام نے اپنے گھر
آنے کی خوشی اور والد صاحب کی وفات پر افسوس کرنے پر ریاست جوناگڑھ (انڈیا) کی روایات کے مطابق مجھے
اجرک سے نوازا تو معلوم ہؤا کہ عبدالسلام کی پیدائش تو اسی گھر کراچی میں ہوئی
لیکن والدین جونا گڑھ سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔کراچی پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور نیو کراچی اس کی
مسقبل کی منصوبہ کے تحت بنایا جارہا تھا لیکن اچانک دارالخلافہ اسلام آباد کو بنا دیا
گیا جس کے بعد نیو کراچی غربا کی بستی بن گئی اور عبدالسلام تھیبو کا خاندان جونا
گڑھ کے لہلہاتے کھیتوں کے درمیان ایک شاندار بنگلے سے نیو کراچی کے 120 گز کے تین
مکانوں میں ضرور سکڑ گیا لیکن والد مرحوم سمیت پانچ بھائیوں نے اپنے پرانے ذرائع روزگار (موٹر گاڑیوں کی مرمت و ری کنڈیشن
کر کے دوبارہ فروخت کرنا) آج تک جاری رکھا ہؤا ہے ، مزید برآں تہذیب و، تربیت اور اخلاقیات میں چھوٹے علاقے میں رہنے کے باوجود بڑے پن میں
اضافہ ہی ہؤا ہے ماشاء اللہ۔

