![]() |
(کافی
میں دل کا دھوکہ، تصویر ذاتی البم سے)
قبل از تاریخِ انسانی اگر انسان کو کوئی شے یا کوئی بات غلط محسوس ہوتی تھی
تو وہ کسی اور کو نہیں کہتا تھا کہ اس کو صحیح کر لو اور نہ ہی لوگوں کو مجمع لگا
کر تقریر کرتا تھا کہ فلاں شے یا فلاں بات غلط ہے، اس کو صحیح ہونا چاہئیے، وہ اپنے زورِ بازو پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جو
کچھ بھی اس کو اچھا یا صحیح نہ لگے، اس کی درستگی کے لئے نکل کھڑا ہوتا تھا۔ اس
انفرادی فعل کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آیا وہ تمام ایسے ہی لوگوں کا مجموعہ
تھا جو اپنی مدد آپ کے اصول پر یقین رکھتے اور عمل بھی کرتے تھے۔ گویا کسی معاشرہ
میں جو باتیں غلط محسوس کی جاتیں ان کی فوری اصلاح کر لی جاتی اور ترقی پذیر انسان
حالات واقعات کے مطابق اپنی دانست کے مطابق ہر ناپسندیدہ یا غلط بات کو اپنے مطابق
ڈھالتا چلا گیا اور کبھی بھی کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ اس رویئے کے نتیجہ
میں اس کا کسی سے گلہ یا شکوہ کرنے کا مزاج ہی نہیں بن سکا۔ کمزور سے کمزور انسان
بھی کچھ کر سکتا تو کر لیتا ورنہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ نہ وہ فریاد
کرتا، نہ کُڑھتا اور نہ ہی اندر ہی اندر جل بھن کر خاک ہوتا۔مزاج اور رویئے میں
تبدیلی کی ابتدا اس مقام سے شروع ہوئی جب کسی ایک انسان نے جسمانی و مالی لحاظ سے
اپنی طاقت کو بڑھاتے بڑھاتے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں اس میں یہ احساس جنم لینے
لگا کہ اب مجھے اپنی مدد آپ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ میری طاقت کا رعب و دبدبہ اس
قدر مؤثر ہو چکا ہے کہ میں اپنے قبیلہ میں کسی بھی شخص کو کچھ بھی حکم دوں وہ
انکار نہیں کر پائے گا۔ اس عمل کے بار بار دہرائے جانے کے نتیجہ میں وہ شخص اس
قبیلہ کا سردار اپنی طاقت کے بل بوتے پر بن بیٹھا۔ اور یوں ایک مکمل قبائلی نظام
شروع ہؤا جس کے تحت جس کی طاقت، اس کی حکمرانی یا عرفِ عام میں "جس کی لاٹھی
، اس کی بھینس" کا ایک ہمہ گیر اور آفاقی نظریہ مستند حیثیت کے طور پر لاگو
ہو گیا جو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اپنی جہتیں تو تبدیل کرتا رہا لیکن بنیاد
یہی رہی اور آج کے دن تک لاگو ہے۔درجِ بالا نظریہ سے کسی کو اختلاف ہو ہی نہیں
سکتا کیونکہ ہر انسان کی بقاء بھی اسی سے مشروط ہے۔ اس سے بغاوت انسان کو قبیلہ سے
باہر تو نکلنے کا سبب بن سکتی ہے لیکن اس میں تبدیلی کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔
دنیا بھر میں طاقتور انسان مختلف قبیلوں، معاشروں، قوموں اور ممالک کی حکمرانی پر
مامور ہیں اور مجھ جیسے کمزور انسان اپنی دل کی تسلی کی خاطر محض دوسروں کو لیکچر
دے کر بے چینی و اضطرابی کیفیت کی نیند سو جاتے ہیں، گویا ہر انسان دوسرے انسان کو
کہتا، کالم و کتابیں لکھتا نظر آتا ہے کہ "یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا
چاہئے" ایسے آفاقی و ہمہ گیر اصول بدلا نہیں کرتے۔ ہم اپنے طور طریقے، رہن
سہن اور خود ساختہ قانون تو بدل سکتے ہیں لیکن خالقِ کائنات کے نظام کا ایک اصول
بھی نہیں بدل سکتے۔انسان پر شیطان
کا غلبہ ہونے یا انسان کو ابلیس کی ٹیم میں شامل ہونے کا نہ تو کوئی وقت مقرر کیا
جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی عمر۔ایک انسان کی اپنی اندرونی کیفیت اور اس کے اعمال ہی اس بات کی ضمانت دے
سکتے ہیں کہ وہ خالقِ کائنات کی ٹیم کا حصہ ہے یا رفتہ افتہ ابلیس کی ٹیم میں شامل
ہو رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ انسان کی اندرونی کیفیت کسے کہتے ہیں: انسان کی ا
ندرونی کیفیت اس کی عقل و شور کی آئینہ دار ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ اوزار ہے جس کے
ذریعے وہ اپنی اندرونی کیفیت کو حسبِ منشاء تراش سکتا ہے ، یہ نہ تو ظاہری طور پر مکمل طور سے عیاں ہوتی
ہے اور نہ کوئی دوسرا انسان بتا سکتا ہے کہ اس کی اندرونی کیفیت کیسی ہے اس کو محض وہی انسان جانچ سکتا ہے جو موضوعِ
سخن ہے جس کے لئے اس کو اپنے اندر کا جائزہ
اپنی سوچ کو اپنے اوپر مرکوز کرکے مکمل جائزہ لینا پڑتا ہے اور وہ بھی مکمل
ایمانداری کے ساتھ حق پر مبنی۔اپنے آپ کو دھوکہ دے کر مطمئن کرنے سے کسی خاطر خواہ
مثبت نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہی انسان کا وہ عمل ہے
جو خالقِ کائنات کی منشا کے خلاف اور ابلیس کی ٹیم میں شامل ہونے کا باعث بنتا
ہے۔جب انسان کی منفی سوچ مسلط ہوکر اس کو
دھوکے کے حصار میں لے لیتی ہے تو وہ غلط
سے غلط کام کو بھی جائز و صحیح قرار دے کر اس راستے پر چل پڑتا ہے اور ابلیس کی
خالقِ کائنات کی جنگ میں ابلیس کا مضبوط
بازو بن جاتا ہے۔ اپنی اندرونی کیفیت کو حسبِ منشاء تراش کر منفی سوچ کے زیرِ اثر
اپنے آپ کو دھوکہ دینے پر اس کو اپنے ہر
عمل کا مفید نتیجہ ہی نکلتا نظر آتا ہے اس کا تعلق اس کی صحت سے ہو،
مالی صورتحال سے ہو ، معاشرتی مقام سے ہو یا اپنے خاندانی تعلقات سے ہو۔ اس
کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی صحت خراب ہو رہی ہے، مالی حالات کمزور ہو رہے
ہیں، معاشرہ میں اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور اس کے خاندان والے اس سے
دور ہوتے جا رہے ہیں، ظلم کی اوربے
اعتناعی کی انتہا تو یہ ہے کہ اس کو اپنے والدین، سگے بھائی بہن اور بیوی بچے اس
کو تھوڑا سا بھی مثبت بات سمجھانے کی کوشش کریں تو وہ اس کو نہائت منفی کہہ کر ان سب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں
رشتوں میں بھی دراڑ آجانے کی پرواہ نہیں کرتا ، حتّیٰ کہ وہ اس دنیا میں اکیلا رہ
جاتا ہے ۔ جب منفی سوچ کے منفی نتائج آنا شروع ہوتے ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
، نتیجتاً اپنے نام نہاد ہمدرد احباب کی مدد کے حصول کے لئے ان کی جانب رُخ کرتا
ہے تو وہاں سے بھی ٹکا سا جواب ملنے پر اس کی عقل و دانش جس کو پہلے ہی زنگ لگا ہوتا ہے ، اس کے ماؤف ذہن
کواپنی زندگی کے خلاف انتہائی اقدام
اٹھانے پر مرکوز ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی زندگی ختم کرنے پر
تُل جاتا ہے، اگر تھوڑا بہت پیسہ جیب میں ہو یا کہیں سے مل رہا ہو تو وہ نشہ کرکے
عارضی آرام حاصل کرتا ہے اور بالآخر مستقل آرام کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔اس
نکتہ پر پہنچنے کے بعد کسی قسم کی مثبت سوچ آسکتی ہے اور نہ ہی خالقِ کائنات کی ٹیم میں واپس شامل ہونے کے آداب
سمجھ میں آتے ہیں بس ایسے انسان کو خالقِ کائنات ہی اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہے
تو کسی بھی طریقے سے کر سکتا ہے۔ میری دعا ہے کہ خالق ہم پر رحم کرے اور اپنی ٹیم
میں شامل رہنے کی توفیق عطا کرے۔
