![]() |
(پروفیسر سحر انصاری تمغئہ حسن کارکردگی
لگاتے ہوئے)
تاریخِ انسانی کے ہر دور میں تین قسم کے انسان پائے جاتے
ہیں۔ایک وہ جوشہرت کے حصول کے لئے خود نمائی کا ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال
کرتے ہیں ، دوسرے وہ جو اپنے کارناموں کی بنیاد پر شہرت حاصل کر لیتے ہیں، تیسرے وہ
ہیں جو اپنی ذاتی داستانوں کو پبلک کرکے توجہ حاصل کرنے کو شہرت سمجھ بیٹھتے
ہیں۔سید مسرت علی صاحب نے اسکول کے زمانے میں اپنے علاقے میں ٹیبل ٹینس کھیل میں
مہارت حاصل کی لیکن ساتھ ہی میٹرک بورڈ
میں فرسٹ ڈویژن حاصل کرکے اپنی بڑی بہن اور چار کزنز پر برتری حاصل کرکے ثابت کیا کہ وہ محض کھلنڈرے
نہیں، ذہین بھی ہیں۔کالج میں داخل ہوتے ہی اپنی بنیادی مہارت کی بنیاد پر پہلے ہی
سال میں آل پاکستان سلور کپ ٹیبل ٹینس کے
آرگنائزر کی حیثیت کے ساتھ فائنل
میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور ساتھ ہی الیکٹرونک ٹیکنالوجی کے فائنل ائیر میں آٹو
میٹک کھلنے والا دروازہ بناکر مقابلے کا
پہلا انعام بھی حاصل کیا۔پڑھائی کے ساتھ ٹیبل ٹینس کی وائی ایم سی اے چمپیئن شپ
اور راولپنڈی ڈویژن نمبر ون کا اعزاز بھی حاصل کیا۔تین سال کا ڈپلومہ حاصل کرتے ہی
ملازمت کے حصول کے لئے متعدد اداروں میں
درخواستیں دائر کیں جن میں سے گیارہ مختلف کمپنیوں سے بلاوے آئے اور سیلیکشن کے
ٹیسٹ و انٹرویو دینے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز میں 1964 میں ملازمت اختیار کی ۔ یہاں بھی اپنی
بنیادی مہارت ٹیبل ٹینس کی بنیاد پر پوری ائرلائن ہی نہیں بلکہ پورے کراچی کےچمپئین
کا خطاب حاصل کیا۔ دوران ملازمت محض کھلنڈرے ملازم کے طور پر پہچان کے بجائے ایک
نامور ٹیکنیشن اور ایک قابل ائرو ناٹیکل انجینئرکا
مقام پانے کے لئے متعدد کارنامے سرانجام
دئے جن میں ہوائی جازوں کے پرزے ٹیسٹ کرنے کے لئے مختلف ٹیسٹ بینچز خود ڈیزائن کیں اور بنائیں بھی خود ہی۔ باون
ٹیسٹ بنچز کے بعد ایک ایسا آٹومیٹک ٹیسٹ اسٹیشن بنایا جس پر ائر بس جہاز کے
کمپیوٹر باآسانی ٹیسٹ اور مرمت کئے جاسکتے ہیں آج بھی۔ اور یوں پی آئی کے لاکھوں
روپے کا زرمبادلہ بچایا۔ملازمت کے آخری تین سالوں میں کارکردگی اور ایمانداری کی
بنیاد پر ائرلائن کے تمام سامان کی درآمد پر بے تحاشہ پیسے کا زیاں مانیٹر کرنے پر
لگادیا گیا جہاں پہلے ہی سال نیشنل انشورنس کارپوریشن سے باہتر کروڑ روپے کا کلیم پی آئی اے کو دلوایا جو 1988 سے پھنسا
ہؤا تھا۔پی آئی اے ٹریننگ سنٹر میں ایک نیا کورس ڈیزائن کرکے لانچ کیا جس کے ذریعے
عرصہ دراز بعد رائل نیپال ائر لائن کے افسران کو ٹریننگ دے کر لاکھوں ڈالر کماکر
پی آئی اے کو دئے۔اپنے شوق کی بنیاد پر اپنے ایک دوست کی پورے پاکستان کی کینن
کیلکولیٹرز اور فوٹو کاپیئرز کی ایجنسی کا آفٹر سیلز سروس کا کام سنبھال لیا جو پی
آئی اے کی انتظامیہ سے اجازت نامے کے حصول
کے بعد انجام دیتے۔کینن کمپنی میں 1973 میں پہلے پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا
جس نے کمپیوٹر تیکنالوجی کو کورس ٹوکیو
جاپان سے کیا اور 1976 میں ٹوکیو کنونشن میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ عزت و وقار
کے ساتھ اپنی خواہش پر 2005 میں ملازمت سے
ریٹائرمنٹ کے حصول کے بعد سید مسرت علی صاحب آرام سے گھر بیٹھنے کے بجائے مختلف
قسم کے غیر پیشہ ورانہ کام کرنے کے ساتھ لکھائی پڑھائی کا شوق بھی پورا کرتے رہے
اور آخر ایک دن ہماری ویب رائٹرز کلب میں وہ مقام حاصل کر ہی لیا جس کی بدولت مجھے
(پروفیسر سحر انصاری کو) ان کے سینے پر تمغئہ حسن کارکردگی سجانا پڑا۔ میں جس روز
اسلام آباد میں تمغئہ امتیاز حاصل کرکے کراچی پہنچا اسی روز ہماری ویب رائٹرز کلب
نے میرے اعزاز میں عثمانیہ ریسٹورنٹ میں ظہرانہ دیا جس میں سید مسرت علی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی اور
مجھے کلب کا چئیر مین نامزد کیا گیا۔ اہم و دلچسپ بات یہ کہ سید مسرت علی صاحب ا بھی بھی
اپنے آپ کو مشہور شخصیت نہیں سمجھتے۔ (پروفیسر سحر انصاری (پیدائش: انور مقبول
انصاری 27 دسمبر 1939) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر، ماہر لسانیات، اور اسکالر ہیں
جنہوں نے جامعہ کراچی میں شعبہ اردو کے پروفیسر اور چیئرمین کے طور پر خدمات انجام
دیں۔ پس منظر اور کیریئر ادبی کام: وہ اردو شاعری، نثر اور ادبی تنقید میں اپنی
خدمات کے لیے مشہور ہیں، اور انہیں حکومتی اعزاز تمغئہ امتیاز سے نوازا گیا ہے)
