![]() |
(انٹرنیٹ سے لی گئی کیلیگرافی)
کائنات کس نے
بنائی، یہ دنیا کیوں بنائی، مجھے کیوں پیدا کیا گیا وغیرہ وغیرہ جیسے سوال ہر انسان کے ذہن میں آتے ہیں۔
کسی نے کچھ منطق پیش کی، کسی نے اپنا کچھ خیال ظاہر کیا اور کسی نے کسی کتاب کا
حوالہ دے کر کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی۔بیشتر نے تو طے کیا ہؤا ہے کہ خالقِ کائنات کا
کوئی وجود نہیں اور جب کوئی وجود ہی نہیں
تو مقدس کتابیں کہاں سے آئیں۔کچھ کہتے ہیں
کہ مادّے سے ہر شے کی تخلیق ہوئی ورنہ کچھ تو بس ایک بِگ بینگ کا سہارا لے کر سو جاتے
ہیں۔سب سے سبقت لے جانے والے وہ پُر امن لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ
زمین کے اندر، زمین کے اوپر اور آسمان میں جو بھی شے نظر آتی ہے وہ خود
پکار پکار کر کہتی ہے کہ مجھے جس نے بنایا وہی خدا ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا
ہے۔اسی بنیاد پر کوئی سورج کی پوجا کرتا ہے، کوئی چاند کی، کوئی سمندر کی تو کوئی
آگ کی، کوئی پانی کے چشموں کے پھوٹنے کی جگہ
اپنی عبادت گاہیں بنا بیٹھا ہے ۔ کوئی
کہتا ہے کہ خالقِ کائنات اپنی ہی شہ رَگ سے قریب ہے اور کوئی اس کی تلاش میں میلوں
کی مسافت طے کر کے سنگلاخ چٹانوں سے گزرتا
ہؤا بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنے خالق کے مجسمے بناکر مطمئن ہے اور کوئی کہتا ہے مجھے خالق کی تلاش کی ضرورت
نہیں کیونکہ میں خود خدا ہوں۔بیشتر تو
اپنی روزی روٹی کی خاطر نام نہاد معجزے دکھا کر قائل کرتے ہیں کہ وہ خالقِ کائنات
کے اسسٹنٹ ہیں اور ہمیں خالقِ کائنات سے ملوا سکتے ہیں۔ کئی تاریخ داں تاریخ میں
ہونے والے حقیقی معجزوں کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ یہ خالقِ کائنات نے کئے ہیں
اپنا آپ منوانے کے لئے، جیسے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دینا یا کسی نوزائیدہ بچے کا پالنے
میں لیٹے ہوئے سائلین کا جواب دینا وغیرہ۔میرا ماننا ہے کہ پتہ کسی کو بھی کچھ
نہیں محض اپنی علمیت اور نیکو کاری ثابت کرکے انسانیت کو متحد اور پُر امن رکھ کر
انسانیت کی فلاح و بہبود کی خدمت کا سلسلہ
جاری رکھنا ہے ورنہ اصل میں تو درجِ بالامختلف النوع انسانوں میں سے جب بھی
کوئی بے بس ہوتا ہے تو جس کو پکارتا
ہے "وہی خدا ہے جو نظامِ ہستی چلا
رہا ہے" اس کے بعد "ماں' کو، خواہ اس نے اپنی ماں دیکھی بھی نہ ہو
کیونکہ پیدائش تو ہر ایک کی کسی نہ کسی ماں سے ہوتی ہے ما سوائے معجزاتی پیدائش
کے۔
