![]() |
(راکب مختار کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)
ہمیشہ
سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد والے اس خوش فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ وہ پاکستان
کے دیگر شہروں کے لوگوں کے مقابلے میں ذہانت، قابلیت، علم اور کاریگری کے اعتبار
سے برتری رکھتے ہیں۔ گو کہ بے شمار مشہور شخصیات پاکستان کے دیگر چھوٹے شہروں اور پس ماندہ علاقوں سے دریافت ہوئیں جن میں سے ایک راکب مختار بھی ہیں جن کی شاعری سن
کر گمان ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ اور ان کا
تلفظ اس شخص کی زبان سے کیسے ادا ہوتے ہیں، کہیں مصنوعی ذہانت تو نہیں ان کے
پیچھے، ذرا آپ بھی سنئے:
دُکھ
یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق وہ
لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے
بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نے پنچھی وہ اُڑائے جو اُڑنے کہ نہیں
تھے
یہ
سوچ کے اُس شوخ نے غیروں سےنبھائی ہم
لوگ فقط ہجر سے مرنے کے نہیں تھے
تیرا
بھی گلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ہم عشق کہ سِواکُچھ بھی تو کرنے
کےنہیں تھے
اِک
وصل کی اُمید پہ فُرقت مِیں تمہاری وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں
تھے
اے
گردشِ حالات "تیری خیر کہ تو نے" وہ زخم بھرے ہیں کہ جو بھرنے کے
نہیں تھے
تم
سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا چھوڑو یہ میرے زخم ہی بھرنے کے
نہیں تھے
بھر
ڈالا اُنہیں بھی میری بے دار نظر نے جو زخم کسی طَور بھی بھرنے کے
نہیں تھے
اے
زیست اِدھر دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر وہ
دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل
رات تیری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے
نہیں تھے
اُن
کو بھی اُتارا ہے بڑے شوق سے ہم نے جو
نقش ابھی دل مِیں اُترنے کے نہیں تھے
اے
گردشِ ایام ہمیں رنج بہت ہے کچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے
نہیں تھے
