![]() |
(کتاب کے سرورق سے لی گئی تصویر)
١۔اپنے سے بڑوں سے سلوک: ہم جب
اپنے گھر میں رہتے ہیں تو کوئ نہ ہم سے بڑا ہوتا ہے مثلاً ہمارے والدین، بڑے بہن
بھائ یا کوئ دیگر رشتہ دارـ اپنے گھر کا ماحول اچھا رکھنے اوراپنے اخلاقی فرائض پورے
کرنے کیلئےہم پر لازم ہےکہ ہم درجِ ذیل
باتوں پر عمل کریں :-۱ - اُن کا ادب
اورلحاظ کریں ۔۲ ۔ ہم خواہ اُن سے سوال پوچھیں یا اُن کے سوال کا جواب دیں ہمارے
اندازِ گفتگو میں نرمی ٗ ادب اور شائستگی ہونی چاہیئے۔ ۳ ۔ جب کوئ بڑا
بول رہا ہو تو غور سے سننا چاہئیے اور اُس کی بات کے درمیان بولنے کے بجائے بات کو
مکمل ہونے کے بعد بولنا چاہئے۔۴ ۔ وہ کوئ
کام کہیں اُ سے کرنے میں کسی قِسم کی سُستی یا ٹال مٹول نہیں دکھانا چاہیے بلکہ
ہنسی خوشی و مستعدی کے ساتھ کرنے سے اُن
کی عزّت میں اضافہ کے ساتھ ہمیں خود بھی خوشی محسوس ہوگی اور یوں گھر کا ماحول بھی
بہتر رہیگا۔ ۵ ۔ عام طور سے بڑے ہم سے کوئ غلط بات تو نہیں کہتے لیکن کسی موقع پر
کوئ ایسی بات کہیں جو ہماری نظر میں صحیح نہیں تو ایسی صورت میں اُس وقت تو خاموشی
سے سُن لیں لیکن کسی اور مناسب وقت پر نہایت ادب سے اُن سے ہمیں گذارش کرنی چاہیئے
کہ فلاں وقت جو آپ نے بات کی تھی وہ میرے خیال میں مناسب نہ تھی پھر اُن کا ردِّ
عمل جان کر خاموشی اختیار کر لیں اور بحث ہرگز نہ کریں۔۶ ۔ اگر مگر والی گفتگو سے
پرہیز کرنا چاہئیے اور اس طرح کی بات بھی نہیں کرنی چاہیئے کہ آپ بھی صحیح کہہ رہ
ہیں اور میں بھی غلط نہیں کہہ رہا۔ ۷ ۔ غیر
ضروری باتوں کو دُہرانے سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ ۸ ۔ اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کھری
کھری سنانے اور سچ بولنے کا ایک ہی مطلب ہے جبکہ سچ تو ہمیشہ ہی بولنا چاہیئے لیکن
کھری کھری سنانے کا نتیجہ سامنے والے کی دل آزاری ہوتا ہے خواہ ہم سچ ہی کیوں نہ
بول رہے ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ندازِ بیان مختلف ہوتا ہے۔ شائستہ انداز
میں سچ بولنے سے دل آزاری نہیں ہوتی جبکہ جارحانہ طریقے سے سچ بولنے میں سامنے
والا اپنی ہتک و بے عزّتی محسوس کرتا ہے خصوصاً سامنے والا ہم سے بڑا ہو تو ہمیں
نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے نہایت ادب و احترام کے ساتھ سچ بولنے کی ضرورت ہوتی
ہے۔۹ ۔ اپنے سے بڑے کی غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہمارا کام نہیں بلکہ یہ اُس سے بڑے
کا کام ہے لہٰذا اِس فعل کو کسی بھی طرح قابلِ فخر نہیں سمجھنا چاہئیے۔ اس سے بہتر
عمل یہ ہوگا کہ ہم اُس غلطی کو نہ دُہرایئں جو ہم سے بڑے کے ساتھ سر زد ہو گئی ہے۔
۱۰ ۔ بعض مرتبہ ہم غیر ضروری طور پر یا اپنا کوئ کام نکلوانے کیلیئے بڑوں کی
خوشامد یا چاپلوسی شروع کر دیتے ہیں جو کہ کسی طرح مناسب نہیں کیونکہ اِس میں
بدنیتی شامل ہوتی ہے۔ ۱۱ ۔ بڑوں سے مخاطب ہوتے وقت ہمیں حد سے زیادہ عاجزی اور
انکساری بھی نہیں دکھانی چاہیئے ورنہ ایسا محسوس ہوگا کہ ہمارے اندر کوئ کمزوری
ہےٗ نا اہلی ہےٗ احساسِ کمتری ہے یا اپنے اُوپر بھروسہ (Confidence) نہیں۔۱۲ ۔ بِن
بلائے بڑوں کی محفل میں نہیں جانا چاہیئے البتّہ کوئ بہت ضروری کام ہو تو ادب سے
اجازت لیکر جایا جا سکتا ہے۔۱۳ ۔ جب ہمیں بڑوں کی کوئ بات پسند نہ آئے تو یا تو
مُنہ بنالیتے ہیں یا مُنہ ہی مُنہ میں بُڑبُڑاتے ہیں یعنی اپنی (Body language) سے اپنی
ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں جو کبھی چُھپتا نہیں اور یوں بڑوں کی ناراضگی کا باعث
بنتا ہے جو کہ بالآخر گھر کے ماحول کی خرابی کا باعث بنتا ہے لہٰذا ہمیں ایسی
صورتِ حال پیدا ہونے سے بچاؤ کی خاطر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا چاہیئے۔ اوراپنے بڑوں کے سامنے منفی ردِّ عمل سے گریز کرنا چاہیئے۔ ۱۴ ۔ ہمیں ہر وقت یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر ہم اپنے بڑوں کی
عزّت و احترام کریں گے تو ہم سے چھوٹے یہی سیکھ کر ہمارے ساتھ ایسا ہی سلوک روا
رکھتے ہوئے ہماری عزّت و اھترام کریں گے۔
