Search This Blog

Monday, June 22, 2026

فطرت سے ہم آہنگی میں زندگی آسان (باب چہارم)

(روح کا خاکہ انٹرنیٹ سے لیا گیا ایک تصور)

خالقِ کائنات کا بنایا ہؤا چہرہ جیسا بھی ہو اس پر اس کا شکر ادا کرنا چاہئے لیکن اگر کسی حادثے کے نتیجے میں چہرہ حد سے زیادہ بگڑ جائے تو خالق کائنات نے انسان کو اتنا علم عطا کیا کہ وہ سرجری کے ذریعے اس کو دوبارہ قابل قبول بنا دے، اسی طرح جسم کا کوئی عضو کسی حادثے  کے نتیجے میں مکمل ضائع ہو گیا تو اس کی جگہ مصنوعی عضو بنا کر لگا دیا جائے یا جسم کے اندرونی اعضاء میں سے کوئی عضو اپنی سو فیصد پرفارمنس نہیں ادا کر پارہا تو مختلف قسم کی سرجریوں یا ٹرانسپلانٹ کے ذریعے دوبارہ سو فیصد پرفارمنس حاصل کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس میں سے کسی عمل کے نتیجے میں نہ تو نیت میں فطرت کے نظام سے بغاوت ہوتی ہے اور نہ اس کا نتیجہ فطرت کے نظام سے غیر آہنگ طور پر برآمد ہوتا ہے۔ غیر فطری تبدیلی کسی بھی طرح کی ہو وہ فطرت کے نظام سے ہم آہنگ ہو ہی نہیں سکتی جیسے اوپر ذکر کیا گیا جس میں انسانی شکل وصورت اور جسمانی اعضاء کی تبدیلی کی نشاندہی کی گئی، لباس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خالقِ کائنات نے انسان سمیت ہر مخلوق کو بے لباس پیدا کیا، وقت، حالات اور موسم کے تغیرات کے باعث انسانی معاشروں میں ضرورت کے مطابق مختلف ملبوسات  وجود میں آئے اور ان میں ضرورت کے مطابق تبدیل بھی آتی رہے گی البتیٰ ایسی تبدیلی جو کسی معاشرے میں قابلِ قبول نہ ہو وہ معاشرہ خود ہی رد کردیتا ہے اس سے فطرت کے ساتھ ہم آہنگی و غیر آہنگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن انسانی اعمال کا فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہر وقت، ہر جگہ، ہر موسم میں اور ہر معاشرہ میں لازم ہونا نہ صرف اس روئے زمیں کے وجود کے لئے لازم ہے بلکہ خود انسانی زندگی کے دوام کا باعث بھی۔اب تک تو آپ نے یہی سنا ہوگا کہ انسان کے اعمال اس کی آخرت کی زندگی کے کام آتے ہیں، جب کہ حقیت یہ ہے کہ انسان کے اعمال موجودہ زندگی میں بھی نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن ہم غور نہیں کرتے۔ ہمارا ایک ایک عمل براہِ راست ہمارے جسم پر نہ صرف عمل کرتے وقت اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس کے دیر پا اثرات بعض مرتبہ زندگی کے آخری حصے میں نمودار ہوتے ہیں جیسے والدین کی خدمت کرنے کے عمل کا صلہ تو ان کے گذر جانے کے بعد ہمیں اپنی اولاد کے اعمال کے ذریعے ملتا ہے جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہماری تربیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔ ہم کیا کھاتے ہیں، کیا پیتے ہیں، کھانے پینے کی مقدار،کھانے پینے اور سونے جاگنے کے اوقات تمام عناصر مل کر اپنے جسم کو تندرست رکھنے کا عمل ہی تو ہے جو ہم اپنے والدین، اپنے بڑوں، اپنے ہمدردوں اور اپنے معالجین کی ہدایات و مشوروں کے تحت سرانجام دیتے ہیں وگرنہ ہم سے اتنی بڑی بڑی لغزشیں ہو جاتی ہیں کہ بسا اوقات جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ہمارا ہر عمل ہماری روح اور ہمارے ضمیر دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے، چونکہ روح و ضمیر دونوں نہ نظر آنے والے عناصر ہیں لہٰذا انکو قطعئی اہمیت نہیں دیتے لیکن دونوں ہی ایسے عناصر ہیں جو اگر گھائل ہو جائیں تو ہمارے جسم کو دیمک کی مانند چاٹ جاتے ہیں۔خالقِ کائنات کے فطری نظام میں ہم انسانوں کے جسم سے منسلک ان دو عناصر کی جواہمیت ہے شاید ہی کسی اور عنصر کی ہو۔ روح اور ضمیر دونوں ہی جسم کے فطری نظام سے منحرف ہوتے ہی الارم بجانا شروع کر دیتے ہیں جو کہ ہمارے گہری نیند میں چلے جانے کے باوجود بھی بجتا رہتا ہے اور ہم اس کو بار بار بند کر دیتے ہیں لیکن جب بھی کبھی توفیق عطا ہو جائے تو دونوں کے فطرت سے غیر آہنگ ہونے کے واقعات کے انبار لگے ہوتے ہیں، ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کونسے نکتہ کو اٹھائیں اور اس کی تصحیح کریں اور کس کی نہ کریں اسی شش و پنج میں اس مسئلہ کو چھوڑ کر ہم آگے بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً ایک دن ایسا آتا ہے کہ اس خرابی کے اثرات ہمارے جسمانی نظام پر نہایت منفی انداز میں عیاں ہونا شروع ہو جاتے اہیں اور اب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے گویا ہم ایک زندہ لاش میں تبدیل  ہو چکے ہوتے ہیں۔


 

Archive