Search This Blog

Monday, August 17, 2026

پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کا عروج

(پی آئی اے کے عروج کے دوران اور ریٹائرمنٹ کارڈ  کی تصویر ذاتی البم سے)

اس میں کوئی شک نہیں کہ  ہر شے فانی ہے  اور  فنا ہونے سے پیشتر ہر شے کو ایک مرتبہ ضرور عروج حاصل ہوتا ہے، سُو پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز  نے بھی ایک مرتبہ اپنے عروج کا مزہ چکھا جب محض چار جہازوں سے دنیا کی پانچویں نمبر کی ائرلائن ڈکلئیر ہوئی۔یہ حقیقت ساٹھ اور ستّر کی دہائی کی ہے اس کے بعد  اس کے جہازوں کو زوال کی سیڑھیاں لگ گئیں اور اب تو اس کا وجود بھی ان کو برداشت نہیں جو دیمک کی مانند میرے پیارے ملک پاکستان کو ہی چاٹ گئے جب کہ اس کے ہم عصر ممالک عروجِ ہمالیائی کے مزے لے رہے ہیں۔تصویر میں  وہ دَور ہے جب پی آئی اے کے جہاز کراچی سے اڑان بھر کر کولمبو، منیلا، سنگاپور اورٹوکیو کے ہوائی اڈے پر لینڈ کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی  ایک بار پھر اڑان بھر کر بیجنگ (چین) اور ہمالہ کی بلند ترین چوٹیوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے اسلام آباد ائرپورٹ پر ہنسی خوشی لینڈ کیا کرتےتھے۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کے ائر پورٹ پر واقع مڈوے ہاؤس ہوٹل (جو اب  رامادہ  پلازہ ہو گیا ہے)  کے   بارہ کرائے کے کمروں میں قائم شدہ گراؤنڈ ٹریننگ اسکول میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور مشرقِ بعید کے ممالک کی ائرلائنز کے پائلٹ ، کیبن کریو اور انجینئیر تربیت حاصل کرنے آیا کرتے تھے۔یہی نہیں بلکہ کُل ملا کے بائیس ائرلائنز ( جن میں کئی افریقی ممالک بھی شامل تھے) کے ہوائی جہازوں کی مرمت و دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی پی آئی اے کی تھی۔اس کے علاوہ پی آئی اے نے ایک جہاز اور اپنا انجینئرنگ کا عملہ دے کر مالٹا ائر لائنز اور پھر امارات ائر لائنز کی بنیادیں رکھیں۔یہاں تک کہ 2005 میں ریٹائر ہوتے ہوتے میں نے رائل نیپال ائر لائنز کے انجینئرنگ افسران کو تربیت دی مگر اس وقت پی آئی اے اپنا  ایک شاندار ذاتی پی آئی اے ٹریننگ سنٹر قائم کر چکی تھی جہاں سے بطورسینئر انسٹرکٹر منیجمنٹ ٹریننگ یونٹ  باعزت ریٹائرمنٹ حاصل کی جبکہ 37 سال بطور میکینک ، ٹیکنیشن، جونئیر آفیسر، ائرکرافٹ انجینئر اور مینٹیننس منیجر کی حیثیت سے     خدمات سر انجام دیں۔الحمدُللہ!


 

Archive