Search This Blog

Tuesday, June 9, 2026

اپنے سے چھوٹوں سے سلوک

(پیراماؤنٹ پبلشرز کی جانب سے چھاپی  گئی تصویر کتاب سے لی گئی ہے)

ہمارے گھر میں ہم سے چھوٹے بھی ہوتے ہیں جوہماری محبّت،  شفقت اور دیکھ بھال کے مستحق ہوتے ہیں۔ تین عناصر اُن کی شخصیّت سنوارنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے اور اِن کے حصول کے لئے درجِ ذیل اُصولوں پر عمل کرنا چاہیئے:- ۱ ۔ یہ بات  یاد رکھنی چاہیئے کہ زیادتی ہر چیز کی بُری ہوتی ہے لہٰذا زیادہ لاڈ پیار بھی اُن کی شخصیّت بگاڑ سکتا ہے۔ پس نہایت اعتدال پسندی کے ساتھ (Carrot & Stick) والا فارمولا استعمال کرنا چاہیئے یعنی  محبّت،  شفقت اور دیکھ بھال کے موقع پر ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک کے وقت لاڈ پیار کا استعمال گُو َمگوں کی کیفیت یعنی (Confusion) پیدا کرتا ہے۔اور بچّے سمجھ نہیں پاتے کہ اُن کا کونسا عمل صحیح ہے اور کونسا غلط۔حد سے زیادہ سختی اور پابندیاں بچّوں کو باغی بنا دیتی ہیں جبکہ دوسری جانِب حد سے زیادہ لاڈ پیار سے بچّے سر چَڑھ جاتے اور اپنی ہر جائز و ناجائز بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا میانہ روی ہی بہترین  سلوک ہے۔۲ ۔ ہمیں اپنے سے چھوٹوں کے سامنے کوئ ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیئے جو ہمارے بڑوں کو پسند نہ آئے کیونکہ کل کو جب  ہمارے چھوٹے وہی حرکت  ہمارے سامنے کرینگے تو ہمیں ناگوار بھی گزرے گا اور شرمندگی بھی اُٹھانی پڑیگی۔ لہٰذا بڑے ہونے کے ناطے ہماری ذمّہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور اگر یہ احساسِ ذمّہ داری نہ ہو تو نہ صرف ہمیں خِفّت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انجانے طور پہ ہم اپنے چھوٹوں کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتا  ً بعد میں ہمیں یہ الزام تراشی سُننے کو ملتی ہے کہ ہم نے اپنے چھوٹوں کی تربیّت صحیح نہیں کی۔۳ ۔  بِالفَرض چھوٹوں کے مُنہ سے کسی لفظ کی ادایئگی (Pronunciation) میں غلطی ہو جائے تو کبھی بھی اُن کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیئے بلکہ سنجیدگی کے ساتھ اُس کی تصحیح کرنی چاہیئے ورنہ اُن کا اعتماد (Confidence Level) کم یا متزلزل ہو جایئگا اور یُوں وہ اپنا  تلفّظ صحیح نہیں کر پایئں گے۔ اِس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کبھی کبھار اپنے سے چھوٹوں کو بڑوں کی محفل میں بیٹھنے کی اجازت ہونی چاہیئے بشرطیکہ وہ تمیز و ادب کے ساتھ بیٹھیں اور ہم بھی کوئ غیر اخلاقی بات نہ کریں۔ اِسطرح اُن کو آدابِ گفتگو اور تلفّظ سیکھنے  کا موقع ملےگا۔لیکن غیر ضروری طور پر بڑوں کی محفِل میں شرکت کرنے سے پیار سے منع کرنا چاہیے۔۴ ۔ کسی بچّے کو ہر وقت یہ کہنا کہ تم تو بیوقوف ہو، جاہل ہو، احمق ہو وغیرہ وغیرہ اُس کی تمام زندگی برباد کر دیتا ہے کیونکہ اُس میں اگر کچھ کرنے کی صلاحیت  (Potential) موجود بھی ہو اور وہ کچھ کرنا بھی چاہے تو جو نفسیاتی احساس اُس کے ذہن میں ڈال دیا گیا ہے وہ اُس کو کچھ کرنے نہیں دیگا۔ اِس کے برعکس اگر ہم کسی کمزور ذہن کو بار بار یہ کہہ کر اُس کی حوصلہ افزائ کریں کہ شاباش بہت اچھے تُم یہ کر سکتے ہو اور تم بہت کچھ کر سکتے ہو تو اُ سکا کُند ذہن بھی بہتر نتائج دینے لگے گا۔ یہ بات دنیا کے نامور ترین ماہرِ نفسیات نے عملی طور پر آزمانے کے بعد کہی اور لکھی ہے۔۵ ۔ انصاف زندگی کے ہر موڑ پر خوبصورت نظامِ زندگی کا حصّہ ہے۔ ویسے تو ہر کوئ انصاف کا خواہشمند اور مستحق ہے لیکن گھر میں چھوٹوں کے حوالے سےہماری اوّلین و اہم ترین ذمّہ داری ہے کہ انصاف کے تقاضے کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ہم تمام چھوٹوں سے مساوی سلوک کرنے کی کوشش کریں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ورنہ گھر کا نظام درہم برہم ہو جائیگا۔ اگر ہم بڑے ہونے کی حیثیت سے اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ انصاف کا مظاہرہ کرینگے تو لازمی طور پر وہ بھی اگلی نسل سے ایسا ہی سلوک روا رکھیں گے اور یوں ہر گھر کا ماحول اچھّا ہوگا اور زندگی بہتر طور سے  گذرے گی۔ ۶ ۔ ایک بات نہایت ہی اہمیّت کی حامل ہے وہ یہ کہ بڑوں کی طرح بچّے بھی اپنے اپنے اعمال کے ذریعے اپنا اپنا مقام بناتے ہیں اور یہ فِطری اَمر ہے  جس کو ہم بڑے اکثر اِس مقولے سے تحفّظ دینے (Cover) کی کوشش کرتے ہیں کہ" پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں" فطری تقاضوں سے نہ تو ہم اِنکار کر سکتے ہیں اور نہ مکمّل طور پر اِن پر قابو پایا جاسکتا ہے البتّہ محض انصاف کے سلوک اور بہتر رویّہ کے ذریعے ہی اِس فطری فرق میں کمی لائ جا سکتی ہے۔


 

Archive