Search This Blog

Tuesday, June 16, 2026

آدابِ گفتگو

(پبلشرز کی منتخب شدہ تصویر)

دوسرے کی بات کو غور سے اور مکمل سننا:خواہ ہم دو افراد ہوں یا کئی افراد کی محفل، ایک وقت میں ایک فرد کو بولنا چاہئے اور باقی افراد کو خاموشی، برداشت اور  اُس کی بات مکمّل ہونے تک غور سے سننا چاہیئے تاکہ ہمیں و دیگر افراد کو اُس کی بات صحیح طور سے سمجھ آسکے۔اگر ایک سے زائد افراد ایک ہی وقت میں بولیں گے تو کسی کی بات صحیح سمجھ نہیں آسکے گی۔ اور یوں اپنی باری پر ہم مناسب سمت میں بات نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہم نے دوسرے کی بات سنی ہی نہیں کہ اُس نے کیا کہا اور اُ س کا موقف کیا تھا۔ نتیجتاً بات لمبی ہوتی چلی جائیگی ، بحث  بڑھنے سے اُس میں تلخی آتی چلی جایئگی، وقت کا ضیاع ہوگا اور مثبت انداز میں گفتگو ختم نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ بے سُود ہوگا۔اکثر اوقات تکرار کی نوبت بھی آ جاتی ہے تو ایسی صورت میں بھی ذرا سی برداشت سے جھگڑے کی نوبت آنے سے پہلے ہم دوسرے فرد کے ساتھ ساتھ بہ یک وقت نہ بولیں اور اپنے آواز میں آہستگی و شائستگی برقرار رکھنے کی کوشش کریں تو تکرار پر ہی بات رُک سکتی ہے۔ اگر ایسا محسوس ہو کہ دوسرا فرد شائستگی و اخلاقیات کے دائرے سے باہر نکلتا جا رہا ہے تو ہمیں جواباً ایسا کرنے کے بجائے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہئیے۔ اِس عمل پر نہ تو ہمیں اپنی ہتک یا بے عزّتی محسوس کرنی چاہئیے اور نہ ہی یہ خیال ذہن میں لانا چاہیئے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ زیادہ تر تکرار شروع ہی جب ہوتی ہے جب ہم دوسرے کے نکتۂ نظر کو سننے کے لئے تیّار ہی نہیں ہوتے اور اُس کی بات کاٹ کر درمیان میں ہی بولنا شروع کر دیتے ہیں اور سامنے والا بھی ایسا ہی کرے تو ظا ہر ہے انجام جھگڑا ہی ہو گا لہٰذا اِس سے حتیُّ الِامکان پرہیز کی کوشش کرنی چاہیئے۔مہذب انداز سے سوال کرنا و جواب دینا:گفتگو کے دوران اگر ہمارے ذہن میں کوئ سوال آئے تو مہذب انداز سے پوچھنا چاہئے۔ ہم سے بڑا ہو یا چھوٹا دونوں کے لئے ایک ہی اُصول ہے۔ گفتگو کے علاوہ بھی کسی سے کچھ پوچھنے کے لئے مہذّب انداز اور شائستہ لہجہ استعمال کرنا چاہئیے خواہ کسی سے راستہ پوچھنا  ہو، پتہ معلوم کرنا  ہو،   دوکاندار سے کسی شے کی قیمت معلوم کرنی  ہو یا کسی اِدارے کے دفتر میں کسی شخص سے  کوئ معلومات حاصل کرنی ہوں۔ بنیادی طور پر ہر شخص کی فطرت میں شامل ہے کہ اُس کو عزّت ملے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں اِس کے لئے ہمیں دوسرے کی عزّت کرنے میں پہل کرنا ہوگی تاکہ جواباً ہمیں بھی وہی سلوک ملے۔ یاد رہے کہ دوسرے کی عزٗت و احترام کئے بغیر ہم اپنی عزّت نہیں کروا سکتے۔    سوال سے پہلے چند اخلاقی الفاظ کا اضافہ کر لیا جائے  تو سامنے والے پر خوشگوار اثر پڑتا ہے مثلاً :-"معاف کیجئے گا" ، "اگر آپ بُرا نہ مانیں" ، "کیا  میں دخل اندازی تو نہیں کر رہا؟" ، "معذرت کے ساتھ" وغیرہ  وغیرہ۔اسی طرح جوابی رویّہ میں بھی اخلاقی الفاظ کا اضافہ کر لیا جائے  تو سامنے والے پر ہماری شخصیّت کے بہتر  اثرات مرتّب ہوتے ہیں مثلاً :-" بہت بہت شکریہ" ، "آپکی بہت مہربانی" ، " آپ نے بہت اچھّی بات کی" ، "آپ نے بہت عُمدہ کام کیا" وغیرہ  وغیرہ۔مندرجہ بالا چند الفاظ کے استعمال سے ہم دوسروں کا دل جیت کر اپنی عزّت کے علاوہ دوسروں کی پسندیدہ شخصیّت بھی بن  سکتے ہیں۔اہم نوٹ :-  کسی بھی  شخص کی ظاہری شخصیّت پر ہرگز تبصرہ نہ کریں اگر کرنا ہی پڑ جائے تو مثبت اور اچھّے انداز میں کریں۔ٹیلیفون پہ بات کرنے کے آداب:اچھّے اخلاق اور مہذّب طریقے سے محض آمنے سامنے بیٹھ کر ہی بات چیت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ ٹیلی فون پر بات کرتے وقت بھی یہی رویّہ ہونا چاہیئے خواہ وہ شخص جس سے بات ہو رہی ہم سے مِیلوں دور ہی کیوں نہ ہو مثلاً :-اگر ہم نے فون کیا ، دوسری طرف کسی نے اُٹھایا تو سلام کرنے کے بعد ہمیں اپنا نام بتا کر پہلے  پوچھنا چاہیئے کہ آیا وہ شخص جس سے ہم بات کرنا چاہتے ہیں  موجود ہے یا نہیں۔ بالفرض نفی میں جواب ہو تو شُکریہ کہہ کر فون بند کردیں۔ ہاں اگر بہت ہی ضروری بات ہو تو اضافی بات  اس طرح کریں " معاف کیجیئے گا مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے کیا آپ بتا سکتے / سکتی  ہیں کہ میں پھر کب فون کروں؟" اگر ایمرجنسی ہو اور کوئ چھپانے والی  بات نہ ہو تو اجازت لے کر اُس شخص کے لئے پیغام دے دیں اور ساتھ ہی پیغام پہنچانے کا شکریہ بھی ادا کردیں۔ اِسی طرح اگر ہمارے پاس فون آتا ہے اور فون کرنے والے نے اپنا نام نہیں بتایا تو سب سے پہلے ہم اُس کا نام پوچھیں گے، نہ پہچاننے پر معذرت کر کے فون بند کردیں، پہچاننے پر سلام کریں اور حسبِ منشا   بات چیت کریں گے۔کسی نے غلطی سے ہمیں فون کر دیا اور پوچھا "فلاں صاحب / صاحبہ ہیں تو ہمیں غصّہ کرنے یا ناراض ہونے کے بجائے اچھّے اخلاق و تمیز سے بتا دینا چاہیئے کی یہ نمبر وہ نہیں جہاں آپ فون کرنا چاہتے ہیں۔اِسی طرح ہم نے فون ملایا اور غلط مل گیا تو ہمیں معذرت کرکے بند کرنا چاہیئے۔یاد رہے فون زندگی آسان بنانے کے لئے ہے نہ کہ اپنی یا دوسروں کی پریشانیاں بڑھانے کے لئے لہٰذا کسی کو بلاوجہ تنگ کرنے کے لئے فون ہرگز نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی غیر ضروری طور بہت لمبی بات کرنے میں فون مصروف رکھنا چاہیئے، ہو سکتا ہے کسی اور کو اُ سی نمبر پر بہت ضروری بات کرنی ہو۔


 

Archive