Search This Blog

Sunday, May 10, 2026

معرکئہ حق کی بنیادیں

(ائر مارشل ریٹائرڈ  محمد عظیم داؤدپوتو (چئیرمین پی  آئی اے  )نے 1988 میں کمپیوٹرائزڈ  ٹیسٹ فیسیلیٹی کا افتتاح کیا جس کا ٹیسٹ بنچ سید مسرت علی نے بنایا)

میرے ملک پاکستان میں ذہانت، قابلیت اور صلاحیت کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی البتیّٰ  صحیح طریقے سے اجاگر نہ کرنے کے باعث کتنے معرکے نظرانداز ہو گئے جیسے کتنے ائر مارشل پی آئی اے کے چئیر مین لگنے کے بعد بھی ویسے نامور نہ گردانے گئے جیسا کہ ائر فورس میں رہے۔ ائر مارشل ریٹائرڈ  محمد عظیم داؤدپوتو ایک تھری اسٹار آفیسر پاکستان ائر فورس زمبابوے ائر فورس کے ائر مارشل رہے اس کے بعد پی آئی اے کے چئیرمین کی حیثیت سے پی  آئی  اے کی ترقی میں ان کی بے پایاں دلچسپی کے بے شمار  واقعات ہیں جن میں سے ایک پی آئی اے کے انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کی انسٹرومنٹ اوور ہال کی کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ فیسیلیٹی کو بامِ عروج تک لے جانا ایک ثبوت ہے۔ان کی تجویز کے مطابق 88 ملین ڈالر کا آٹومیٹک ٹیسٹ اسٹیشن باہر کے کسی ملک سے منگوانے کے بجائے انسٹرومنٹ اوورہال میں بنانے کا چیلنج سید مسرت علی نے قبول کیا اور اپنی معمول کے مطابق مینٹیننس منیجر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ یہ ٹیسٹ فیسیلٹی اپنے ذاتی اوقات بھی لگا کر آٹھ ماہ میں جب یہ پراجیکٹ  1988 میں مکمل کر لیا تو اس پر کل 44 ہزار پاکستانی روپے خرچ ہوئے۔ جناب  چئیرمین  محمد عظیم داؤد پوتو صاحب نے  سید مسرت علی (مینٹیننس منیجر) ، نجم الحسن (آفیسر انجینئرنگ)اور انور سعید (آفیسر انجینئرنگ) کوتعریفی اسناد جاری کیں  اور ساتھ ہی کیش ایوارڈ سے بھی نوازا۔

اس سے پہلے سید مسرت علی نے آفیسر انجینئرنگ کی حیثیت سے73  19 میں اپنی ذاتی چھٹی لے کر کینن ٹوکیو جاپان سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا کورس  مکمل کرکے پہلے پاکستانی کی حیثیت سے سند حاصل کی اور واپس آکر پی آئی ٹریننگ سنٹر میں  اس کورس کو شروع کیا جس کے نتیجے میں ان کو انسٹرومنٹ اوورہال شاپ میں آن جاب ٹریننگ انسٹرکٹر  لگا دیا گیا اور یوں پی آئی  اے کے ٹرائیڈنٹ جہاز چین کو بیچنے سے پہلے ایک بائیس ممبر چینی ٹیم کی ٹریننگ کی ذمہ داری بھی تین ماہ کے لئے نبھائی۔اس کے بعد وقتاً فوقتاً پی آئی آے ٹریننگ سنٹر میں کمپیوٹر کلاسز  لینے اور رائل نیپال ائر لائنز کے افسروں کو سپلائی چین ، اسٹورز  و لاجسٹکس کے کورسز کی ٹریننگ دینے کا موقع بھی ملا۔پی آئی  اے کی مالٹا ائر لائن اور  متحدہ عرب امارات کی بنیاد ڈالنے والی دونوں ٹیموں میں ٹاپ ٹین میں سید مسرت علی شامل رہے۔ 2005 میں ریٹائر منٹ سے ایک سال قبل تمام انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو آٹومیشن ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کرنے اور پی آئی اے ٹریننگ سنٹر کے  تمام ٹریننگ  کورسز کو ڈیجیٹلی  آن لائن کرنے کی آخری ذمہ داری بہ حسن و خوبی نبھائی الحمدُ للہ! 


 

Archive