Search This Blog

Monday, March 23, 2026

ہوا، آکسیجن اور سانس

("ہماری سانسوں میں " گانا گانے والے مہدی حسن اور اپنے وطن پر جان قربان کر دینے والے فوجیوں کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

یقیناً مفت ہوا ہر انسان کو میسر ہے ،اسی طرح آکسیجن بھی لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سانس بھی  لا محالہ مفت میں ہمیں نصیب ہے ، اگر ایساہوتا تو شاعر  تسلیم فاضلی کبھی نہ کہتے "ہماری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے"۔ اس کے علاوہ سانس کی قیمت تم کیا جانو ؟ بابو! یہ اس سے پوچھو جو کہتا ہے کہ میں اپنے وطن کے لئے اپنی آخری  سانس  تک قربان کر دونگا۔سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ ہم  نے اپنی  پہلی سانس اپنی مرضی  سے  لی اور نہ ہی  مفت کی کھلی ہوا میں اور اس پہلی سانس کی قیمت ایک ماں سے پوچھیں تو وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رو پڑے گی لیکن بیان نہیں کر پائے گی کہ  ہماری پہلی سانس کی اس نے کیا قیمت ادا کی ہے؟ یا پھر ان لواحقین سے پوچھیں تو کیا وہ بتا پائیں گے جن کے اپنے پیارے کے ناک و منہ سے مصنوعی سانس لینے والی مشین کا ماسک ہٹایا تو آخری سانس کی کیا قیمت تھی۔اگر سانس کی قیمت نہیں جانتا  تو وہ درندہ ہے جو دوسرے انسان کی جان لیتا ہے خواہ  وہ  سرکاری جلّاد ہی کیوں نہ ہو اور یا پھر وہ احمق جو سگریٹ کا کش لگا کر  کہتا ہے " ہر فکر کو  دھوئیں میں اُڑاتا چلا گیا" ، لوگ اسے ناکام عاشق کہتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ نہ تو کبھی عشق ناکام ہوتا ہے اور نہ ہی  سچا عاشق، البتّیٰ شادی کے لئے محبت کا ڈرامہ رچانے والے ڈھونگی  کے ڈرامے کو عشق کا نام دینا "عشق" کی توہین ہے۔   

کسی بھی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی نکالنا یا "ذو معنی" لفظ کہہ کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنا یا تو سیاستدانوں کا پیشہ ہے یا پھر شاعروں کا مشغلہ جیسے "عشقِ حقیقی و عشقِ مجازی" جیسے الفاظ نام نہاد فلسفیوں کے ایجاد کردہ ہیں تاکہ اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے میں سہولت ہو۔چلو ہمیں کیا مطلب "شوہر مجازی خدا بن کر خوش ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں اور بیگمات  اپنے خداؤں کو چھِتّر لگا کر بھی ان کے پیچھے چلنے پر راضی ہیں تو سانو کی؟


 

Archive