Search This Blog

Friday, May 22, 2026

پاکستانی لوگ

(میری تصویر کینن انکارپوریشن جاپان کی البم سےلی گئی ہے)

پاکستانی موجدوں اور سائنس دانوں نے نظریاتی طبیعیات، نیورو سائنس، طب اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں گہرا اثر ہی نہیں ڈالا بلکہ  دنیا کو بدل دینے والی شراکتیں کی ہیں۔ سرفہرست 10 مشہور پاکستانی موجد، سائنسدان اور اختراع کار شامل ہیں: ڈاکٹر۔ عبدالسلام: نظریاتی طبیعیات کی ایک بلند پایہ شخصیت جس نے الیکٹرویک تھیوری، برقی مقناطیسیت اور کمزور جوہری قوت کو یکجا کرنے کے لیے فزکس میں 1979 کا نوبل انعام حاصل کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ایک ممتاز ماہر میٹالرجسٹ اور ماہر طبیعیات جنہوں نے پاکستان کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کی بنیاد رکھی، جس نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کے طور پر مستحکم کیا۔ نوید سید: ایک علمبردار نیورو سائنس دان جو دنیا کے پہلے شخص تھے جنہوں نے انسانی دماغ کے خلیوں کو کامیابی کے ساتھ سلیکون چپ سے جوڑ کر دماغ پر قابو پانے والے مصنوعی اعضاء کے لیے راہ ہموار کی۔ ایوب کے اومایا: ایک مشہور نیورو سرجن جس نے اومایا ریزروائر ایجاد کیا، ایک ایسا آلہ جو آج عالمی سطح پر دماغی ٹیومر کے علاج کے لیے براہ راست دماغی اسپائنل فلوئڈ میں کیموتھراپی پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ علوی برادران (فاروق اور امجد): لاہور کے دو بھائی جنہوں نے 1986 میں "Brain" لکھا، کمپیوٹر کے لیے سب سے پہلے کمپیوٹر کے وائرس کو تسلیم کیا۔ نوید زیدی: ایک پولیمر کیمسٹ جس نے کمرے کے درجہ حرارت پر دنیا کا پہلا قابل عمل پلاسٹک مقناطیس تیار کیا، جو مادی سائنس میں ایک یادگار چھلانگ ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمٰن: سینکڑوں بین الاقوامی پیٹنٹ کے ساتھ ایک مشہور نامیاتی کیمسٹ، جو قدرتی مصنوعات کی کیمسٹری اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو جدید بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر پہچانے جاتے ہیں۔ سلیم الزمان صدیقی: ایک افسانوی کیمیا دان جس نے راولفیا سرپینٹینا پلانٹ سے متعدد طاقتور دواؤں کے مرکبات کو الگ کیا، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور نفسیاتی امراض کا بنیادی علاج کیا گیا۔ ثمر مبارک مند: ایک جوہری طبیعیات دان اور انجینئر جنہوں نے پاکستان کے 1998 کے جوہری تجربات میں اہم کردار ادا کیا اور بعد میں دیسی میزائل سسٹم (جیسے شاہین) کی ترقی کی قیادت کی۔ سید امجد حسین: ایک چھاتی اور قلبی سرجن جس نے pleuroperitoneal shunt اور ایک خصوصی endotracheal tube کی ایجاد کی، دونوں جدید ایئر وے اور سینے کی سرجریوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

میری کیا حیثیت اتنے بڑے لوگوں کے سامنے لیکن پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے فخر ہے اپنے ایک چھوٹے سے کارنامے پر کہ میں نے 1973 میں کینن  ڈیسک ٹاپ کیلکولیٹرکی آن ہینڈ ٹریننگ کے دوران ایک کیلکولیٹرمیں لگے کیپیسیٹر کو غیر ضروری قرار دے کر نکلوا دیاجس کے بعد بھی کیلکولیٹر بالکل صحیح کام کرتا رہا، پانچ روز بعد اس کے ڈیزائنر نے آکر میری تجویز شدہ  تبدیلی کی تصدیق کردی جس کے بعد دنیا بھر سے کیلکولیٹر منگوا کر سب میں تبدیلی کر دی گئی اور میرے نام کی مہر ہر کیلکولیٹر کے مدر بورڈپر لگا  کر واپس متعلقہ سیلز دفاتر میں بھیج دیا گیا۔اس تبدیلی سے کینن انکارپوریشن کو لاکھوں  ڈالر کی بچت ہوئی ۔ ایک وسیع پیمانے کی تقریب منعقد کرکے کینن کمپنی نے مجھے اعزازئیے سے نوازا ۔


 

Archive