![]() |
(عاجزی رکھو کیونکہ عظیم صرف اللہ کی ذات ہے
کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)
برطانیہ میں جب گریٹ بریٹین (عظیم برطانیہ) کا نعرہ لگا تو
وہ سُکڑ کر رہ گیا، بریکزٹ (یورپی یونین )
سے باہر نکلا اور اپنے آپ کو قائم رکھنے کے لالے پڑ گئے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے
امریکہ کو عظیم بنانے کا نعرہ لگایا تو
ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کاخواب ہی ادھورا
نہ رہا بلکہ دنیا کی سُپر پاور ہونے کا
زعم ونزویلا کے صدر کو ان کے گھر سے اٹھا کر اغوا کرکے اس کے تیل پر زبردستی قبضے
کے باوجوداس کی حیثیت شمالی اور جنوبی امریکہ کے تھانیدارکے برابر رہ گئی۔اسی لئے
ہمارے سابقہ صدر سید پرویز مشرف نے بہت سوچ سمجھ کر نعرہ لگایا تھا "سب سے
پہلے پاکستان"۔ لفظ "عظیم" لوگوں یا چیزوں کے لیے استعمال کیا جا
سکتا ہے، لیکن اعلیٰ ترین "سب سے بڑا" یا عربی جملہ اللہ اکبر (اللہ سب
سے بڑا ہے) صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ مخلوقات کے لیے "عظیم" کا استعمال
کرتے ہوئے آپ ایک انسان کو ایک عظیم کھلاڑی، ایک عظیم رہنما، یا عظیم شخص کے طور
پر بیان کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی عظمت محدود اور جامع ہے۔ مثال کے طور پر، ایک شخص
دوسرے سے بڑا کھلاڑی ہو سکتا ہے۔ روزمرہ کی اشیاء کو بھی دنیاوی لحاظ سے دوسروں سے
عظیم یا بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔اللہ کے لیے "سب سے بڑا" استعمال کرنا
اللہ الکبیر (سب سے بڑا) ہے اور اس کی عظمت مطلق، منفرد اور بے مثال ہے۔ وہ عظیم
نہیں ہے کیونکہ وہ کسی اور سے بلند ہے۔ وہ فطری طور پر اپنی الہٰی فطرت اور اعلیٰ
طاقت سے سب سے بڑا ہے۔ مسلمان اذان اور روزانہ کی عبادت کے دوران اللہ اکبر کو
دہراتے ہیں تاکہ خود کو یاد دلایا جا سکے کہ اللہ کسی بھی دنیاوی فکر، خوف، یا
خلفشار سے بڑا ہے۔ہاں، مسلمان اکثر عربی فقرہ "اللہ اکبر" کا استعمال
کرتے ہوئے "خدا عظیم ہے" کہتے ہیں، جس کا لفظی ترجمہ "خدا عظیم
ہے" یا "خدا سب سے بڑا ہے۔"تکبیر: ایمان کے اس اعلان کی باقاعدہ
اصطلاح تکبیر ہے۔عبادت: مسلمان اسے روزانہ کی نماز کے دوران، اذان (اذان) کے اندر
اور عید جیسی مذہبی تعطیلات کے دوران مسلسل کہتے ہیں۔روز مرہ کی زندگی: یہ جملہ
رسمی عبادت کے باہر بھی مشکل لمحات میں شکر گزاری، خوشی، حیرت یا لچک کے اظہار کے
لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مومنوں کو یاد دلاتا ہے کہ خدا کسی بھی انسانی مصیبت،
رکاوٹ، یا دنیاوی طاقت سے بڑا ہے۔عربی میں عظیم کیا ہے؟عربی میں، "عظیم"
کا ترجمہ (عظیم) شاندار یا عظیم کے لیے، رائع : حیرت انگیز یا زبردست کے لیے، اور
کبیر : جسمانی سائز یا وسعت کے لیے۔معنی کے لحاظ سے عام تراجم:عظیم : زبردست، یا عظیم (مثال کے طور پر، ایک عظیم شخص یا
کارنامہ)رائع : زبردست، لاجواب، یا ٹھنڈا (مثال کے طور پر، "یہ بہت اچھا
ہے!")کبیر (كبير): جسامت میں بڑا۔فقرہ "اللہ عظیم ہے" کا ترجمہ عربی
فقرے اللہ اکبر (الله أكبر) سے ہوتا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے "اللہ بڑا
ہے" یا "اللہ سب سے بڑا ہے۔"بنیادی معنی:تقابلی اور اعلیٰ: لفظ
اکبر ایک عربی شکل ہے جو "عظیم" اور "عظیم ترین" دونوں کے طور
پر کام کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کسی بھی چیز سے بڑا ہے جس کا تصور یا پیمائش
کیا جاسکتا ہے۔
