Search This Blog

Thursday, April 16, 2026

آہ ! پی آئی اے کے قاسم بھائی

(انسٹرومنٹ اوورہال شاپ  انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پی آئی اے میں پہلا دن  بنجمن ڈیسوزا کے ساتھ  فوکر جہاز کا آٹوپائلٹ کمپیوٹر ٹیسٹ کرتے ہوئے)

ابھی ابھی ڈان نیوز چینل کی ہیڈ لائنز نیوز دیکھ کر اچانک مجے اپنا بھائی جیسا دوست یاد آگیا لیکن عمر کا تقاضہ ہے کہ پورا نام یاد نہیں آرہا کیونکہ ویسے بھی ہمیشہ اس کو قاسم بھائی کہہ کر پکارا اپنے سے چار سال بڑے ہونے کے ناطے۔قاسم بھائی  ریڈیو اوور ہال شاپ میں   گروپ چار تک کے ملازمین کی یونین  "ائر ویز ایمپلائز  یونین" کےچیف شاپ اسٹیورڈ تھے اور میں انسٹرومنٹ اوورہال شاپ کا۔ مجھے پی آئی اے میں ملازمت اختیار کئے ایک سال ہی ہؤا تھا، نہ تو پی آئی اے کے ماحول سے واقفیت تھی اور نہ ہی قاسم بھائی سے زیادہ تعلق۔ایک دن قاسم بھائی نے  مجھ سے کہا "یار ذرا دس روپے دینا، ابھی دیتا ہوں ، میں نے فوراً پرس نکالا اور دس روپے نکال کر دے دئے۔ ایک ماہ گذرا، دو ماہ گذرے اور پھر تین ماہ لیکن دس روپے واپس نہ ملے تو میں نے قاسم بھائی سے اپنے دس روپے واپس لینے کا تقاضہ کیا تو انھوں نے کسی اور کو آواز دے کر کہا  "یار  ذرا دس روپے دینا" اور وہ لے کر مجھے دے دئے۔ کچھ دن بعد معلوم ہؤا کہ یہ تو ہر ماہ کا دھندہ ہے کہ ایک سے مانگے ، دوسرے کو دے دئے ، دوسرے سے مانگے اور تیسرے کو دے دئے ، چوتھے سے مانگے اور پہلے کو دے دئے۔ تمام پی آئی  اے میں مشہور تھا کہ قاسم بھائی  "کسی ایک سے ادھار نہیں لیتے"۔قاسم بھائی کے بارے میں اتنا ذکر کرنا تو اپنا حق سمجھتا ہوں کیونکہ  وہ میرے واقعئی سگے بھائیوں کی مانند تھے ہر انسان میں خامیاں بھی ہوتی ہیں ڈھیروں خوبیوں کے ساتھ، جیسے قاسم بھائی نے  بی اے کی ڈگری ملنے سے ایک روز پہلے اپنے والد صاحب کے انتقال کے بعد سے اپنی والدہ اور تین چھوٹی بہنوں کی جس خوش اسلوبی سے نگہداشت کی وہ میں بھی نہیں کر سکا۔ ایک بہن کی شادی کی، بقیہ دو عمر رسیدہ ہو گئی لیکن شادی نہ ہو سکی تو قاسم بھائی نے خود بھی قسم کھائی کہ بہنوں سے پہلے شادی نہیں کریں گے، اور نہ ہی کی۔تمام انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے مجبور کرنے پر  بالآخر شادی کی، ایک بیٹی ہوئی جو چند ماہ کی تھی تو قاسم بھائی کا انتقال ہو گیا، اللہ ان کی مغفرت کرے اور کروٹ کروٹ چین نصیب عطا فرمائے۔ 

ہاں تو ڈان کی ہیڈ لائن نیوز میں تھا کہ پاکستان نے آج سعودی عرب سے دو ارب ڈالر لے کر یو اے ای کو ادا کردئے۔ میرے پی آئی اے والے درج بالا قصے کا نہ تو پاکستان کے قرض سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی سعودی عرب یا یو اے ای سے کسی قسم کا واسطہ۔بس قاسم بھائی مرحوم کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ 


 

Archive