Search This Blog

Thursday, August 20, 2026

عروج ہے یا زوال؟

(میری وہ کتاب جو  بوجوہ شائع نہ ہو سکی)

باشعور انسان اس بات کو سمجھ سکتے ہیں۔خالقِ کائنات اور انسان  کی طاقت کے استعمال  میں نہایت ہی بنیادی اور نمایاں فرق ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنے طور پر اپنی تمام  مخلوقات کے ضابطئہ حیات طے کر دئے جن کے تحت عملدرآمد نہ کرنے والی مخلوق کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اس میں انسان بھی شامل ہے۔ انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات میں اتنا شعور نہیں کہ وہ اپنے اپنے معاشرے یا قبیلہ کے لئے کوئی ضابطئہ حیات بنا سکے اور نہ ہی ان مخلوقات کو کوئی ارتقائی منازل طے کرنے ہوتے ہیں ، یہ  وصف محض انسان کو عطا کیا گیا کہ وہ اپنے معاشرے یا اپنے قبیلے کے لئے فطرت کے قریب قریب کوئی ضابطہ بنا لے اور اس کے مطابق ایک بہتر اور آسان زندگی گزار لے ، ساتھ ہی اس کو ارتقائی منازل بھی طے کرنے کا اختیار دیا گیا اور یوں انسانی مخلوق اشرف المخلوقات کہلائی۔ایک بڑے کینوس پر یہ خاکہ بنایا جائے تو اس کو یوں بیان کیا جائیگا کہ انسان کو ایسا ضابطئہ حیات بنانے کا مشورہ، ہدایات، پیغام دیا گیا جس سے انسان کی فلاح مقصود ہو۔اس پیغام، ہدایت، حکم یا مشورہ کو عام انسان  تک پہنچانے کا طریقہ خالقِ کائنات نے خود طے کیا اور یہ ہر طاقتور و کمزور انسان کو سمجھانے کے لئے ایک کتاب کی صورت دے دی جس کو عرفِ عام میں ہم مقدس کتاب یا کتابیں کہتے ہیں۔ کتاب کا مجموعہ میں نے اس لئے استعمال کیا کیونکہ ہر دور میں اس وقت او رحالات کے مطابق  حکم نامے یا ہدایات جاری کی گئیں جو وہاں اس معاشرہ یا قبیلہ کے لئے مناسب ترین ہوں۔ انسان نے تو بے شمار ارتقائی منازل طے کیں اور کسی نہ کسی زاویہ سے آج بھی کل سے بہتر مقام پر ہے اور آنے والے کل بھی آج سے آگے والے سنگِ میل پر ہی ہوگا لیکن افسوس کہ اس کی اصل پہچان مع اس کے سب سے اہم وصف "انسانیت" کو عروج و زوال کی کئی منازل طے کرنے کے بعدگزشتہ کئی دھائیوں سے زوال پذیر ہی پایا۔انسان نے اپنے لباس، رہن سہن کے طریقے، کھانے پینے کی روایات و آداب، سفری ذرائع اور گفتگو کے ذرائع میں بے پناہ ترقی کی اور کرتا چلا جا رہا ہےجس کی بنیادی وجہ ایک دوجے پر تنقید نہ کرنا بلکہ ایک دوسرے سے سیکھنا دو اہم نکات ہیں۔البتّیٰ ان معاملات میں چند اقوام بہت ترقی یافتہ کہلائیں جبکہ دیگر ترقی پذیر۔میرے خیال میں مذکورہ تمام معاملات میں جس قدربد تہذیبی و بد تمیزی دکھائی گئی اتنا ہی اس کو فیشن سمجھ کر نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ ترقی یافتہ انسان یا قوم کہلانے کے لئے اس کو لازم قرار دیا گیا جس کے باعث احساسِ کمتری کا شکا ترقی پذیر انسانوں اور اقوام نےاس کی پیروی کرنا لازمی قرار دے دیا۔ نتیجتاً انسان کا اصل وصف "انسانیت" بے توجّہی کا شکار ہوکر روایتی ترقی یافتہ اعمال میں کہیں گُم ہو گیا۔جس موقع پر شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمداقبال نے کہا "حقیقت خرافات میں کھو گئی، یہ امّت روایات میں کھو گئی"۔میرے خیال میں اقبال نے اُمّت قران کو سامنے رکھ کر محمدﷺ کے پیروکاروں کو کہہ کر مخاطب کیا اور بے شمار ایسے اشارے دے کر سمجھانے کی کوشش کی کی کسی طرح یہ لوگ حقیقت کی جانب لوٹ آئیں، آج بھی تقریباً ہر بڑا اور مستندعالمِ دین اپنے وعظ میں اقبال کے کلام کا سہارا لے کر اپنی دلیل میں مضبوطی لانے کی کوشش کرتا ہے، کہنے کی حد تک، عمل میں اس کے بھی کوئی ایسی شے نمایاں نہیں ہوتی جو حقیقت کو چھو کر بھی گئی ہو۔ انسان پر شیطان کا غلبہ ہونے یا انسان کو ابلیس کی ٹیم میں شامل ہونے کا نہ تو کوئی وقت مقرر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی عمر۔ایک انسان کی اپنی اندرونی  کیفیت اور اس کے اعمال ہی اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ وہ خالقِ کائنات کی ٹیم کا حصہ ہے یا رفتہ افتہ ابلیس کی ٹیم میں شامل ہو رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ انسان کی اندرونی کیفیت کسے کہتے ہیں: انسان کی ا ندرونی کیفیت اس کی عقل و شور کی آئینہ دار ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ اوزار ہے جس کے ذریعے وہ اپنی اندرونی کیفیت کو حسبِ منشاء تراش سکتا ہے ،   یہ نہ تو ظاہری طور پر مکمل طور سے عیاں ہوتی ہے اور نہ کوئی دوسرا انسان بتا سکتا ہے کہ اس کی اندرونی کیفیت کیسی ہے  اس کو محض وہی انسان جانچ سکتا ہے جو موضوعِ سخن ہے جس کے لئے اس کو اپنے اندر کا جائزہ   اپنی سوچ کو اپنے اوپر مرکوز کرکے مکمل جائزہ لینا پڑتا ہے اور وہ بھی مکمل ایمانداری کے ساتھ حق پر مبنی۔اپنے آپ کو دھوکہ دے کر مطمئن کرنے سے کسی خاطر خواہ مثبت نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہی انسان کا وہ عمل ہے جو خالقِ کائنات کی منشا کے خلاف اور ابلیس کی ٹیم میں شامل ہونے کا باعث بنتا ہے۔جب انسان  کی منفی سوچ مسلط ہوکر اس کو دھوکے  کے حصار میں لے لیتی ہے تو وہ غلط سے غلط کام کو بھی جائز و صحیح قرار دے کر اس راستے پر چل پڑتا ہے اور ابلیس کی خالقِ کائنات کی جنگ میں ابلیس کا   مضبوط بازو بن جاتا ہے۔ اپنی اندرونی کیفیت کو حسبِ منشاء تراش کر منفی سوچ کے زیرِ اثر اپنے آپ کو دھوکہ دینے پر اس کو اپنے ہر  عمل کا مفید نتیجہ ہی نکلتا نظر آتا ہے اس کا تعلق اس کی صحت سے ہو، مالی  صورتحال سے ہو ، معاشرتی  مقام سے ہو یا اپنے خاندانی تعلقات سے ہو۔ اس کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی صحت خراب ہو رہی ہے، مالی حالات کمزور ہو رہے ہیں، معاشرہ میں اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور اس کے خاندان والے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ظلم کی  اوربے اعتناعی کی انتہا تو یہ ہے کہ اس کو اپنے والدین، سگے بھائی بہن اور بیوی بچے اس کو تھوڑا سا بھی مثبت بات سمجھانے کی کوشش کریں تو وہ اس کو نہائت منفی  کہہ کر ان سب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں رشتوں میں بھی دراڑ آجانے کی پرواہ نہیں کرتا ، حتّیٰ کہ وہ اس دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے ۔ جب منفی سوچ کے منفی نتائج آنا شروع ہوتے ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ، نتیجتاً اپنے نام نہاد ہمدرد احباب کی مدد کے حصول کے لئے ان کی جانب رُخ کرتا ہے تو وہاں سے بھی ٹکا سا جواب ملنے پر اس کی عقل و دانش جس  کو پہلے ہی زنگ لگا ہوتا ہے ، اس کے ماؤف ذہن کواپنی  زندگی کے خلاف انتہائی اقدام اٹھانے پر مرکوز ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی زندگی ختم کرنے پر تُل جاتا ہے، اگر تھوڑا بہت پیسہ جیب میں ہو یا کہیں سے مل رہا ہو تو وہ نشہ کرکے عارضی آرام حاصل کرتا ہے اور بالآخر مستقل آرام کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔اس نکتہ پر پہنچنے کے بعد کسی قسم کی مثبت سوچ آسکتی ہے اور نہ ہی  خالقِ کائنات کی ٹیم میں واپس شامل ہونے کے آداب سمجھ میں آتے ہیں بس ایسے انسان کو خالقِ کائنات ہی اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہے تو کسی بھی طریقے سے کر سکتا ہے۔ میری دعا ہے کہ خالق ہم پر رحم کرے اور اپنی ٹیم میں شامل رہنے کی توفیق عطا کرے۔ 


 

Archive