Search This Blog

Monday, February 23, 2026

انسان کی تاریخ

(قدیم ترین انسان کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

انسانی تاریخ تقریباً 70,000 سال قبل ہومو سیپینز (جدید انسان) کے ظہور، فکری ارتقاء اور نقل مکانی سے شروع ہو کر، زراعتی انقلاب (تقریباً 8000-5000 ق م) کے ذریعے خانہ بدوشی سے مستقل رہائش، تہذیبوں (نیل، سندھ) کے قیام، اور پھر سائنسی و صنعتی ترقی تک محیط ہے۔ انسانی زندگی کا آغاز کسی ایک ملک سے نہیں ہوا تھا کیونکہ اس وقت موجودہ ممالک کا تصور موجود نہیں تھا۔ تاہم، جدید تحقیق اور آثارِ قدیمہ کے مطابق، انسانی زندگی کا آغاز افریقہ کے علاقے سے ہوا تھا ماہرینِ بشریات کے مطابق، تقریباً 2 لاکھ سال قبل جدید انسان ہومو سیپینز   مشرقی افریقہ میں نمودار ہوئے سائنسی نقطہ نظر سے، انسان کی ابتدا تقریباً 6 سے 7 کروڑ سال پہلے ایک چھوٹے چار پاؤں والے درخت پر رہنے والے جانور (شجری جانور) سے ہوئی، جو ارتقائی مراحل سے گزر کر موجودہ انسان (ہومو سیپینز) بنا۔ یہ عمل لاکھوں سالوں پر محیط ہے، جس میں دماغ کا حجم بڑھنا، دو ٹانگوں پر چلنا اور بولنا سیکھنا شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان، گائے، مچھلی اور دیگر جانداروں کے ابتدائی خلیات ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ ارتقاء پسندوں کے مطابق انسان کا موجودہ روپ لاکھوں سالوں کی سست رفتار تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ انسانوں کے جد امجد ابتدا میں درختوں پر رہتے تھے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ زمین پر منتقل ہوئے۔ موجودہ انسان کا سائنسی نام ہومو سیپینز ہے، جو اپنی برتر ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے دیگر مخلوقات سے منفرد ہے۔ چارلس ڈارون کے نظریات کے مطابق، حیات کے ابتدائی درجے سے ترقی کر کے، نسل در نسل تبدیلیوں (فطری انتخاب) کے ذریعے انسان موجودہ صورت تک پہنچا۔علمی اور سائنسی شواہد کے مطابق، یہ ایک طویل عمل ہے جس میں ماحول کی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں آتی رہیں۔1859ء میں چارلس ڈارون نے نظریہ ارتقاء پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق حیاتی اجسام اپنی بقا کے لیے خود کو ماحول کے مطابق تبدیل کر لیتے ہیں۔ ڈارون نے اپنے نظریے میں انسان کی بات تو نہیں کی تھی مگر بہرحال اُس کا نظریہ ہر جاندار شے پہ لاگو ہوتا ہے بشمول بنی نوع انسان کے۔ ڈارون کے نزدیک تمام جاندار اپنی ہیئت کو تبدیل کرتے رہتے ہیں اپنے اطراف کے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ بعض پانی کے جانور کروڑوں سال پہلے چرندے تھے مگر کسی وجہ سے اُن کو اپنی زندگی طویل عرصہ تک پانی میں گزارنی پڑی تو ان کے پاؤں غائب ہو گئے اور وہ مچھلی کی طرح کی شکل اختیار کر گئے۔ اسی طرح مچھلیوں کو جب زمین پر زندگی گزارنی پڑی تو ان کے پاؤں نکل آئے اور ان کی شکل پہلے مگرمچھ اور پھر بعد میں دیگر جانداروں کی سی ہو گئی۔یعنی اپنی بقاء کے لیے قدرت نے ان کی جون تبدیل کر دی۔ اسی طرح انسان کے بارے میں نظریہ ارتقا کے حامی کہتے ہیں کہ انسان  بن مانس کی نسل سے تھا جو اپنے ماحول کی وجہ سے تبدیل ہو کر ویسا ہو گیا جیسا کہ آج ہے۔ چمپینزی جیسے چوپائے سے دو پیروں پر انسان اس لیے کھڑا ہو گیا کہ اُس زمانے میں اور اُس وقت کے ماحول کے مطابق اُس کی بقاء کے لیے یہ ضروری تھا انسان اور آدمی میں کیا فرق ہے؟"انسان" ایک وسیع تر اصطلاح ہے جس میں مرد، عورت، اور بچہ سب شامل ہیں، جبکہ "آدمی" عام طور پر صرف بالغ مردوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لہذا، "آدمی" انسان کی ایک خاص قسم ہے، اس لیے یہ نسبت عموم و خصوص مطلق کہلاتی ہے۔

 


 

Archive