![]() |
(آٹھ ماہ کی عمر سے اسّی برس تک کی اپنی
تصاویر ذاتی البم سے)
بے شمار دانشوروں ، فلسفیوں ، شاعروں اور ادیبوں نے اپنے
اپنے انداز میں ایک ہی مشورہ دیا ہے کہ "ماضی کو چھوڑو، مستقبل کی فکر نہ
کرو، بس حال کے موجودہ لمحات سے لطف اندوز ہو تاکہ زندگی کا بھرپور فائدہ حاصل کر سکو"۔لگ بھگ ستر سال تو میں نے
بھی یہی کیا کیونکہ پانچ سال کی عمر تک تو
زندگی کسے کہتے ہیں معلوم ہی نہ تھا اور پانچ سال بیماریوں میں ضائع ہو گئے، اب
اسّی سال کی عمر میں مجھے تمام دانشوروں ، فلسفیوں ، شاعروں ، ادیبوں، سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی
ذہانت) سے بصد احترام اختلاف کرتے ہوئے گذارش ہے کہ کسی طرح میری تصویروں کی نہیں
بلکہ میرے خیالات، جذبات، احساسات اور میری سوچ کے مجموعے کی وڈیو کو آج کے دن سے لے کر دس سال کی عمر تک بنا کر مجھے بھیج دیں تاکہ جب
کبھی اپنی تمام زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہوں تو کسی اور کی ضرورت پیش نہ آئے،
حالانکہ انسان کبھی بھی اکیلے میں خوش نہیں رہ سکتا خواہ اس کی ہر خواہش پوری کر
دی جائے۔ جذبات کو جب تک شئیر نہ کیا جائے ان کا لطف ہی نہیں آسکتا، ہاں یہ ضرور
ہے کہ شئیر کرنے کے لئے اپنی مرضی اور مزاج کا انسان ہونا لازم ہے۔اسی لئے تو جو
جوں عمر بڑھتی ہے اپنے ہم عمر و ہم عصر
لوگ نظروں سے اوجھل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور انسان ایک عجیب سی کمی محسوس کرنے لگتا
ہے اپنی زندگی میں۔اور تو اور اپنی عمر ہی اپنا ساتھ نہیں دیتی، بڑھاپے میں کسی
قسم کا طنز و مزاح کرو تو سب کہنے لگتے ہیں "بڑے میا ں کو دیکھو، قبر میں
پاؤں لٹک رہے ہیں اور اٹھکیلیاں سوجھ رہی ہیں"۔گویا اہم ترین ہیں وہ لوگ جو
ہم عمر نہ بھی ہوں تو ہم عصر تو ہوں اور اس سے بھی زیادہ اہمیت اس حقیقت کی ہے کہ
وہ نظروں کے سامنے ہوں۔اسی لئے تو کہتا ہوں "لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام
تُو"
