![]() |
(جوکر کی تصویر
انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)
میں
ایک خوبصورت، صحت مند ، نیک سیرت اور اچھا
انسان ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ اپنا بہت خیال رکھا۔ جب سے ہوش سنبھالا سردی ہو یا
گرمی صبح آنکھ کھلتے ہی نیکر اور کِرمِچ کے جوتے پہنے ، ایک چھوٹا سا بَیت ہاتھ میں لیا ، مبادا کہیں سورج نکلنے سے پہلے کم روشنی میں آوارہ کتے
پیچھے نہ لگ جائیں، اور باہر کھیتوں میں تازی ہوا کھانے نکل گیا۔تقریباً ایک گھنٹے
بعد گھر واپس آکر نَل کے تازہ پانی سے نہایا ، بدن اور چہرے دونوں کے لئے لائف
بوائے صابن استعمال کیا، دانت صاف کرنے کے لئے جلی ہوئی لکڑی کے کوئلے کو منہ میں
رکھ کر چبایا اور انگلی سے دانتوں پر مل لیا۔نہانے کے بعد پاجامہ کُرتا پہنا اور
باورچی خانے میں ایک چھوٹے سے پٹرے پر بیٹھ کر
رات کی بچی ہوئی روٹی لسی کے
ساتھ(امّی کے ہاتھ کی بنی ہوئی لسی ) کھائی اور چار فرلانگ کے فاصلے پر اسکول۔
بارہ
سال کی عمر میں یرقان، اور مسوڑھوں کے دانتوں کو چھوڑنے کا عمل شروع ہوگیا اور
میٹرک بورڈ کے امتحانات کے دوران دو دانت خود ہی نکل کے گِر گئے۔پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیتے ہی سولہ سال کی عمر میں انتہائی درجے کا یرقان، اٹھارہ سال کی
عمر میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز میں ملازمت اختیار کرتے ہی بیڈمنٹن کھیلنے کے دوران ریڑھ کی ہڈی میں شدید
چوٹ کے باعث پورے سینے اور کمر پر جیکٹ پلاسٹر۔اتنی ورزش اور اسپورٹس کہ کھانے
کھاتے ہی ہضم لیکن آئے دن سینے میں جلن کی
شکایت۔آخر ایک دن مکمل چیک اپ اور خصوصی ایکسرے کے ذریعے معلوم ہؤا کہ حلق سے لے
کر غذا کی نالی سے لے کر معدے اور آنتوں میں تیزابیت زیادہ
ہونے کے باعث آبلے پڑے ہیں، علاج سے آبلے تو صحیح ہو گئے لیکن مرض آج تک باقی ہے ۔عرق النساء (شیاٹیکا) کا
درد ہونے پر مکمل تفتیش سے معلوم ہؤا کہ گردے میں پتھری ہے، نکالنا پڑیگا۔آپریشن نہ کرایا کیونکہ ہومیو پیتھک
علاج سے مرض غائب۔چوالیس سال کی عمر ہوئی تو ڈیوٹی پر کام کے دوران سینے میں درد
کے باعث ایمرجنسی میں دل کے اسپتال، تشخیص
شدید ہارٹ اٹیک اور فوری بائی پاس کی
ایڈوائس، ہوگیا تاکہ دل کو نقصان نہ ہو۔ افسوس بائیس روز بعد ہی ایسا اٹیک کہ دل
کا پندرہ فیصد حصہ ناکارہ ہوگیا۔ٹھیک
ہو جانے پر اگلے چار سال لگاتار ہارٹ اٹیک، بے بسی کے عالم میں حکیم کی جانب رخ، تین ماہ
علاج اور بالکل تندرست دس سال کے لئے ۔اب سینے کے درد کا پھر حملہ، تفتیش اور پھر
بائی پاس کا فیصلہ۔ پہلے بائی پاس کے بیس سال بعد دوسرا بائی پاس آپریشن ہو گیا ۔دس
سال بعد یکے بعد دیگرے دو ہارٹ اٹیک کے بعد تیسری مرتبہ بائی پاس کا مشورہ انگلینڈ میں دیا گیا لیکن آج تک نہیں کرایا۔
گویا
جتنا زیادہ صحت کا خیال رکھا ممکنہ حد تک پھر بھی کونسا ایسا مرض ہے جو نہ ہؤا ہو۔اب اٹھتّر سال کی عمر میں طے کیا کہ
علاج معالجہ برحق، دنیا بھر کے مشورے بہتر زندگی گذارنے کے براہِ راست، الیکٹرونک
میڈیا پر خصوصی پروگرام اور سوشل میڈیا پر بے شمار نصیحتیں مکھی و مچھروں کی مانند
ہاتھ میں لئے موبائل فون پر لیکن فیصلہ اپنا کیونکہ میں اپنی زندگی کا مالک ہوں،
جسمانی ہو، ذہنی ہو یا روحانی۔تینوں شاخوں کا تعلق براہِ رست اس ڈاکٹر سے ہے جس نے
ماں کے پیٹ میں میری تخلیق کی، لہٰذا اس
کی مرضی، مجھے خوبصورت رکھے، صحت مند رکھے، نیک سیرت بنائے یا اچھا انسان، مہربانی
ہے اس کی اب اسی سال سے اوپر تک کیسا اور
کتنا رکھنا چاہتا ہے!

No comments:
Post a Comment