Search This Blog

Tuesday, May 5, 2026

ٹرمپ پاگل نہیں

(امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرکے دنیا کی نئی تاریخ  ہی رقم نہیں کی بلکہ اس کا جغرافیہ بھی بدل دیا ہے، تمام دنیا کے لوگوں کی سوچ  ہی نہیں بدلی بلکہ سوچ کا انداز ہی بدل  دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک و ریاستوں کے درمیان نفرتوں کے چھوٹے چھوٹے گملوں میں لگے پودوں کو موجودہ جنگِ ایران کی نئی ٹیکنالوجی کی کھاد ڈال کر یک لخت تن آور درختوں میں تبدیل کر دیا ہے۔متحدہ  عرب امارات کی ترقی یافتہ حیثیت کے باعث امریکہ میں سیاحت کی جو کمی آرہی تھی اس کی سانس ہی نہیں توڑی بلکہ سعودی عرب کے ایک ماڈرن شہر بنانے کے خوابوں کو جِلا بخشی ہے۔آبنائے ہرمزکو ہمیشہ کے لئے متنازعہ بناکر تمام دنیا کی تجارت کو ایسی گزند پہنچائی ہے کہ چین کے آئندہ سُپر پاور بننے کے ارادوں کو بھی بریک لگا دی ہے۔انرجی (تیل، گیس  اور کھاد) کے متبادل تلاش کرنے کی راہیں مزید کشادہ کر دی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ ترقی کی سیڑھی چڑھنے کے لئے ضروری نہیں انسان ہمیشہ سنجیدگی اور بردباری کے بخار میں مبتلا رہے جیسا کہ تمام دنیا کی  یونیورسٹیز میں پڑھایا جاتا ہے بلکہ ترقی کرنے کے لئے طنزو مزاح، یو ٹرن (اپنی ہی بات سے روگردانی کر جانا) اور  دشمن کو  یک لخت بہت بڑی دھمکی سے ڈرانا  بھی ایک نہایت  اہم ہتھیار ہے جس کے باعث بظاہر  ایسے انسان کو دنیا خبطی یا پاگل سمجھتی ہے لیکن دنیا کو معلوم نہیں کہ اس کے بنائے ہوئے اسٹیجِ ڈرامہ پر ایک ایسے اداکار کی انٹری  بھی ہو سکتی ہے جو اسٹیج ہی نیا کھڑا کر دے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو مشکل میں نہیں ڈالا اور نہ ہی کسی دشمن کی مدد کی ہے  بلکہ اس نے تو امریکہ کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ      اول تو مقابلے کے لئے کوئی نیا اتحادِ دشمن کھڑا نہیں ہو سکتا  بلکہ اب تمام دنیا کسی ایک نظریاتی نکتے پر متفق ہی نہیں  ہو سکتی اور امریکہ کے پاس زمین کے اندر اور باہر  خالقِ کائنات کے عطا کردہ اتنے خزانے ہیں کہ آئندہ  اس سے زیادہ بھی مہنگائی کے سونامی میں اگر کوئی ملک ترقی یافتہ کہلانے کا حقدار ہوگا تو وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ ہی ہوگا کیونکہ اپنے گھوڑے دشمن کے مقابلے کے لئے تیار  رکھنے اور دشمن کے حق میں بد دعائیں  اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ پائیں گی۔اللہ فرماتا ہے "میں اس کی مدد  کو آتا ہوں جو اپنی مدد پہلے آپ کرے" 


 

No comments:

Post a Comment

Archive