Search This Blog

Friday, January 16, 2026

وہ بات جو 70 سال پہلے میری نانی اماں نے بتائی

(نانی اماں کے ساتھ 1986 کی تصویر میری ذاتی البم سے)                                                              (مشروم کی تصویر آج کے  نیوز آرٹیکل سے لی گئی ہے)

1956 میں دس سال  کی عمر میں واہ سیمنٹ فیکٹری کی کالونی میں دوستوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے ایک درخت کی جڑ میں کچھ عجیب سے پودے نکلتے دیکھے، توڑ کر گھر لے آیا اور اپنی سب سے بزرگ  نانی اماں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ، بتانے سے پہلے چیخنا چلانا شروع کر دیا "آئے ہائے یہ  کیا لے آیا، یہ  تو زہر کے پودے ہیں، جا ان کو جا کر پھینک"۔ میں ڈر گیا اور باہر  باغیچہ میں جاکر ایک کونے میں سنبھال کر رکھ دئے، تجسس تو تھا ہی کہ آخر یہ چھوٹی چھوٹی چھتریاں ہیں کیسی۔شام کو سیمنٹ فیکٹری کے منیجر ایڈمن مسٹر ڈی گائے کے بچوں  مائیکل اور جون کے ساتھ کھیلنے کا وقت مقرر تھا، باغیچہ سے وہ عجیب پودے اٹھائے اور ساتھ لے جا کر ان بچوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ تو بہت مہنگی کھانے کی چیز ہے، نام تو مجھے اس وقت سمجھ نہ آیا البتّیٰ اب دنیا دیکھی تو معلوم ہؤا کہ مشروم ہیں  جو میرے ناشتہ کا پسندیدہ جزو ہے۔

آج  صبح یاہو نیوز پر آرٹیکل پڑھ کر معلوم ہؤا کہ بزرگ کچھ بھی کہیں، کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہوتی ہے اس میں۔ نانی اماں کا تو ایک سوپانچ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا لیکن کیلیفورنیا والوں کو اب پتہ چلا جب وہا ں زہریلے مشروم کھا کر تین  افراد انتقال کر گئے اور تیس سے زائد  شدید بیمار ہیں۔چارہ خوروں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ کیلیفورنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ زہریلے مشروم کی وباء کیا ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں ریاستی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زہریلی فنگس کھانے والے 30 سے ​​زائد افراد کی موت اور 30 ​​سے ​​زائد افراد کو بیمار کر دیا ہے۔حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے جنگلی میں ڈیتھ کیپ مشروم پروان چڑھے ہیں، جن میں سب سے مہلک پھپھوندی شامل ہے، مغربی تباہ کن فرشتہ مشروم،کیلیفورنیا ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ (CDPH) کے مطابق۔"ابتدائی بارشوں اور ہلکی بارش کی وجہ سے شمالی کیلیفورنیا میں زہریلے ڈیتھ کیپ مشروم کی بھرمار ہوئی ہے،" ڈاکٹر مائیکل سٹیسی، سونوما کاؤنٹی کے عبوری ہیلتھ آفیسر، نے زہریلے مشروم سے منسلک تازہ ترین موت کے بعد ایک بیان میں کہا۔سونوما کاؤنٹی کا ایک رہائشی 4 جنوری کو نادانستہ طور پر ڈیتھ کیپ مشروم کھانے سے مر گیا۔سٹیسی نے کہا کہ "ماہرین کی شناخت کے بغیر اکٹھے جنگلی کھمبیاں کھانا غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔" "کچھ نقصان دہ اقسام خوردنی مشروم سے ملتے جلتے ہیں، یہاں تک کہ تجربہ کار چارہ خوروں سے بھی۔"کیلیفورنیا پوائزن کنٹرول سسٹم نے 5 دسمبر کو CDPH کی جانب سے پہلی وارننگ جاری کرنے کے باوجود ریاستی باشندوں کی زہریلی کھمبیاں کھانے کا مسئلہ برقرار ہے جب کہ 21 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے نومبر کے وسط سے ڈیتھ کیپ مشروم کھانے کے بعد طبی امداد حاصل کی تھی، جسے سائنسی نام Amanita phalloides بھی کہا جاتا ہے۔آسٹریلوی خاتون ویلنگٹن میں گائے کے گوشت میں زہریلی مشروم ڈال کر رشتہ داروں کو قتل کرنے کی مجرم سٹیسی نے اپنے بیان میں کہا کہ 18 نومبر سے 4 جنوری کے درمیان مشروم کے زہر کے 35 کیسز، جن میں تین اموات بھی شامل تھیں، ریاستی حکام کو رپورٹ کی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ ان زہر آلود افراد میں سے تین، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، اس حد تک بیمار ہو گئے تھے کہ انہیں جگر کی پیوند کاری کی ضرورت تھی۔"یہ شاید کیلیفورنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا وباء ہے؛ کل 35 کیسز، جن میں تین اموات اور تین جگر کی پیوند کاری شامل ہے،" رئیس ووہرا، کیلیفورنیا پوائزن کنٹرول سسٹم کے میڈیکل ڈائریکٹر نے اے بی سی سان فرانسسکو ٹیلی ویژن اسٹیشن KGO کو بتایا۔ووہرا نے کہا کہ کھمبی کے زہر کے اثرات کھپت کے چھ سے 24 گھنٹے تک واضح نہیں ہوتے۔CDPH کے مطابق، مشروم کے زہر کی ابتدائی علامات میں عام طور پر اسہال، متلی، الٹی اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔

 


 

   

No comments:

Post a Comment

Archive