Search This Blog

Tuesday, January 13, 2026

دنیا کی سب سے عجیب و غریب سرحد

(بی بی سی اردو نیوز سروس  سے لی گئی تصویر)

دنیا کی غالباً سب سے عجیب و غریب سرحد ایک تنگ سی پگڈندی ہے جو سائیکل سواروں کے لیے مخصوص ہے اور اس علاقے تک رسائی دیتی ہے جو یورپ کا میدان جنگ بھی رہ چکا اور جہاں ثقافت اور جغرافیہ کا ملاپ ہوا تھا۔نکولائی میئر اپنے ریسٹورنٹ سے وقت نکال کر جغرافیے کا ایک سبق دینے کے لیے نکلے۔’ہم بیلجیئم میں ہیں‘ انھوں نے کھڑکی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’یہ سڑک جرمنی میں ہے اور اس کے بعد بیلجیئم کا علاقہ ہے۔‘اس کے بعد پھر جرمنی اور یہ سارا علاقہ تقریباً 50 میل پر پھیلا ہوا ہے۔میں نے ایک چپس اٹھایا جس کے بارے میں مجھے یہ  بتایا کہ گیا تھا کہ بیلجیم کی خاص غذا ہے، اسے مائونیز میں لگایا اور اس کو کھانا شروع کیا اور ساتھ ہی میں اس سرحدی علاقے کی بھول بھولیوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔سائیکلوں کے لیے مخصوص گزر گاہ سنہ 1899 کی اس ٹرین کی پٹری کے راستے پر بنائی گئی ہے جسے وینباہن یا فین ریلوے کہتے ہیں اور جو جرمنی کے شہر آچن کو لیگزمبرگ سے ملاتی ہے۔ر کا ذہCredit: Larry Bleibergیہ ریل کی پٹری، جرمنی کے پروشین سرکاری ریلوے نے کوئلہ، لوہا اور سٹیل لے جانے کے لیے بنائی تھی۔ اس پٹری کی وجہ سے علاقے کی صنعتی ترقی شروع ہوئی اور جنگ عظیم اوّل کے دوران اسے فوجی رسد کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔سنہ 1919 میں جب پہلی جنگ عظیم کا اختتام ہوا تو معاہدہ ورسالیز کے تحت وہ متنازع زمین جس پر جرمنی کا دعوی تھا وہ بیلحیم کو دے دی گئی اور اس کے ساتھ وہ ریل کی پٹری بھی جو اس علاقے میں بنائی گئی تھی۔اس میں 28 کلو میٹر کی ایک راہداری بھی شامل تھی جس کی وجہ جرمنی کی سرزمین کے کچھ حصے باقی ملک سے بالکل کٹ کے رہ گئے۔اس کا ایک حصہ بیلجیم میں شامل کر لیا گیا لیکن سنہ 1958 میں جرمنی کو واپس کر دیا گیا لیکن پانچ دیگر خطے ایسے باقی رہ گئے جو دوسروں کی سرحد سے مکمل طور پر گھرے ہوئے تھے۔آج اس طرح کا ایک رقبہ جو وینباہن کی وجہ سے بنا صرف ڈیڑھ ایکٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں صرف ایک فارم ہے۔ باقی علاقوں میں چھوٹے قصبے ہیں اور دیہات کے حصے ہیں جن میں سے سب سے بڑا 1800 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔20ویں صدی کے آخری حصے میں اس پٹری اور ریل کی آمد و رفت ختم ہو گئی اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اس پر سیاحوں کے لیے ٹرین سروس شروع کرنے کی کوشش کی۔لیکن سنہ 2013 میں ریل کی پٹری کا راستہ ایک بار پھر آباد ہو گیا جب 125 کلو میٹر طویل یہ پکا راستہ جو جرمنی، بیلجیم اور لیگزمبرگ کو ملاتا ہے اس  کو سائیکل چلانے کے شوقین حضرات کے لیے وقف کر دیا گیا۔اب یہاں یورپ بھر سے سائیکل چلانے کے شوقین حضرات آتے ہیں جو قرونِ وسطی کے دور کے قصبوں، قدرت کے لیے محفوظ کردہ علاقوں اور دھند میں ڈھکے وسیع میدانوں سے گزرتا ہے۔وہ کبھی ایک ملک کی سرحد سے نکل دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہوئے اس بے تکی سرحد پر حیرت کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن مقامی لوگ اس پر کبھی کبھار ہی توجہ دیتے ہیں۔محض فرنچ فرائز کے لیے سرحد عبور کرنا پاگل پن لگتا ہے۔کرسچن سٹروٹز جو ایک بینکر ہیں اور جرمنی میں رہتے ہیں ان کا کہنا ہے انھیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ملک سے نکل کر دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہوں جب وہ میار کے نکلی امبس ریسٹوارنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں۔ یہ مشرقی بیلجیم کا وہ حصہ ہے جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے بالکل معمول کی بات ہے اور ایک لمحے کے لیے یہ پاگل پن لگتا ہے۔

 


 

No comments:

Post a Comment

Archive