Search This Blog

Saturday, February 21, 2026

دنیا کی تاریخ

(افلاطون کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)(زرخیز ہلال کی تصویر ویکیپیڈیا سے لی گئی ہے)

ہر انسان کو خالقَ کائنات نے عقلِ سلیم عطا فرمائی جو استعمال کے ساتھ شعور میں تبدیل ہوئی ، مشاہدات کے تجربوں نے اس کو فہم و فراست میں تبدیل کیا اور  اَتھا غور و خوض کے باعث  ہر انسان کو اس کی اپنی عقل کے مطابق ادراک حاصل ہؤا۔ مشہور یونانی فلاسفر افلاطون کے مطابق دنیا کی تاریخ یا انسانیت کی تاریخ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے اور دنیا بھر میں جا بجا بکھرے ہوئے آثار قدیمہ، نسل انسانی کے افراد اور ان کی باقیات، جینیات، لسانیات اور دیگر علوم دنیا کی تاریخ کی جڑ یا بنیاد  ہیں۔ انسانی تاریخ کی ابتدا آغاز کتابت، آغاز تاریخ نویسی اور دیگر بنیادی عناصر سے ہوتی ہے۔انسان کی تاریخ نویسی زمانہ قبل از تاریخ کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ قبل از تاریخ کے زمانہ کے بعد قدیم سنگی دور(پتھروں کا دور) شروع ہوتا ہے اور یہیں سے انسان کی تحریری تاریخ بھی شروع ہوتی ہے۔ قدیم پتھروں کے دور کے بعد جدید پتھروں کا  دور آتا ہے اور اسی دور میں مشرق قریب کے زرخیز ہلال میں کھیتی باڑی کی بھی ابتدا ہوئی جسے زراعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ زرخیز ہلال انگریزیFertile Crescent)) مشرق وسطیٰ میں ہلالی شکل کا ایک تاریخی خطہ ہے جس میں لیونت، قدیم مابین النہرین اور قدیم مصر شامل ہیں۔ "زرخیز ہلال" کی اصطلاح سب سے پہلے جامعہ شکاگو کے ماہر آثار قدیمہ جیمز ہنری بریسٹیڈ نے استعمال کی۔ نیل، اردن، فرات اور دجلہ کے دریاؤں سے زرخیز ہونے والا 4 سے 5 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا یہ علاقہ بحیرہ روم کے مشرقی ساحلوں سے صحرائے شام کے شمالی علاقوں اور جزیرہ اور مابین النہرین سے خلیج فارس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے میں موجودہ مصر، اسرائیل، مغربی کنارہ، غزہ پٹی اور لبنان اور اردن، شام، جنوب مشرقی ترکی اور جنوب مغربی ایران کے علاقے کے چند علاقے شامل ہیں۔ دریائے نیل کے طاس کی آبادی 70 ملین، دریائے اردن کے طاس کی تقریباً 20 ملین اور دریائے دجلہ و فرات کے طاس کی 30 ملین ہے، اس طرح زرخیز ہلال کی موجودہ آبادی 120 ملین سے زائد بنتی ہے یعنی یہ مشرق وسطیٰ کی کم از کم ایک تہائی آبادی کا حامل علاقہ ہے۔ زرخیز ہلال انسانی تاریخ کے شاندار دور کا عینی گواہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کی چند عظیم ترین تہذیبیں اسی علاقے میں پروان چڑھیں۔ تحریر اور ریاستی معاشروں نے اسی سرزمین پر جنم لیا اور اسی لیے اس علاقے کو "تہذیب کا گہوارہ" کہا جاتا ہے۔ یہ 8000 تا 5000 عام زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں انسان نے منظم طریقے سے زراعت اور مویشی گری کی ابتدا کی۔ جیسے جیسے زراعت میں ترقی ہوتی گئی انسان خانہ بدوش کی زندگی سے باہر آکر تہذیب میں ملبوس ہوتا گیا اور مستقل گھر بنا کر رہنے لگا۔ پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا اور وہ بڑی اکائیوں میں بٹ گئے۔ انھوں نے آمد و رفت کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ انسان کی آبادی پر دور میں پینے کے پانی کے ذخیرے یا وسائل کے قریب ہی رہی ہے۔ ماقبل از تاریخ اور اس کے بعد کے زمانہ میں انسانوں نے 3000 ق م میں دریائے نیل، مصر کے پاس بین النہرین کے علاقہ میں دریا کے ساحل پر آبادی بسائی۔ اس کے علاوہ وادئ سندھ اور دریائے چین کے قریب بھی ساحل پر آبادیاں تھیں۔ پیداوار بڑھنت کی وجہ سے زراعت کے طریقوں میں بھی ترقی دیکھنے کو ملی اور فصل بہتر ہونے لگی۔ مزدوری کا رواج ہوا اور غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے کی روایت بھی شروع ہوئی۔ مزدوری کی ابتدا کے ساتھ طبقوں کا نظام بھی شروع ہوا اور ذات کی ابتدا ہوئی۔ اونچے طبقے کے لوگ شہروں میں بسنا شروع ہوئے اور یہیں سے تہذیب کی ابتدا ہوئی۔ مزید ترقی ہوئی تو حساب داری اور لکھائی بھی ایجاد ہوئی۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive