![]() |
(ٹوکیو جاپان ایرانی فلمی ستاروں کے ساتھ)(راک فیلر اسکوائر
نیویارک ایرانی طلباء کے ساتھ)
مجھ ناچیز کی معلومات
، مشاہدات اور تجربات کے مطابق تمام پیغمبرانِ خالقِ کائنات چار ہی سبق
سکھانے آئے:
1۔کائنات کا خالق کون ہے اور کون نہیں ہے۔ایک ہی خالق ہے جس کی عبادت کرنی
ہے۔
2۔ زندگی کا مقصد
کیا ہے؟ کوئی بڑا کارنامہ کرکے طمغہ حاصل کرنا، کوئی نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیمی
ڈگری حاصل کرنا یا اپنے اور اپنے بچوں کے
لئے ایک عالیشان محل بنانا مقصد ہر گز نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی عبادت کرنا زندگی
کا مقصد ہے۔ عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ عبادت گاہ میں جانا اور عبادت کرنا بلکہ
اپنے والدین کی خدمت کرنا بھی عبادت ہے، اپنے
اور اپنے بچوں کے لئے رزق مہیا کرنا، مسکین کو کھانا کھلانا، دیگر انسانوں سے اچھی
طرح پیش آنا وغیرہ بھی اس کی عبادت ہے۔
3۔ تمام زندگی کون سے کام کرنے ہیں اور کون سے نہیں۔یعنی وہ
تمام کام جن میں انسانیت کی فلاح ہو وہ
کرنے ہیں اور جن کاموں کے کرنے سے انسانیت کو گزند پہنچے وہ نہیں کرنے ہیں ۔
4۔ اچھے کام کرنے
کی جزاء اور بُرے کام کرنے کی سزا کا تصور ۔
مجھ ناچیز کی معلومات
، مشاہدات اور تمام زندگی کے تجربات کے مطابق ملک ِایران
کا حکومتی مذہب یا عقیدہ جو کہ عملی طور
پر بھی مشاہدے میں آتا ہے وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کے تمام احداف درج بالا
نکات پر منطبق ہوتے ہیں جب کہ دیگر تمام
دنیا کے ممالک و قوموں کے زبانی کلامی دستور بے شک درج بالا بیانیہ بناتے ہوں لیکن
عملی طور پر کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتے۔آج کی جنگ جو امریکہ نے اسرائیل کے
مشورے پر ایران پر مسلط کی اس میں ایران کا ڈٹ جانا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ اس کے
قول و فعل میں تضاد نہیں۔
1973 میں ٹوکیو جاپان میں ایک کمپنی کی ٹریننگ کے بعد شہر
میں سیر کے دوران ایرانی فلمی ستاروں سے ملاقات کے بعد دوستی کے تین ہفتوں کے
دوران ان کے قول و فعل میں تضاد بالکل بھی نہ پا کر بہت متاثر ہؤا۔اسی طرح 1974
میں لانگ بیچ کیلیفورنیا امریکہ میں ایک ٹریننگ کے بعد واپسی پر راک فیلر اسکوائر
پر دس بارہ ایرانی طالبعلموں کا احتجاج دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ ان کو حکومتِ
امریکہ کا بالکل خوف نہیں اور میرے یہ کہنے پر ان میں سے ایک کا جواب تھا کہ ہم ان کو تیل ارسال کرتے ہیں اور یہاں اپنے پڑھنے کی فیسیں بھی، پھر یہ ہمیں آزادئِ
اظہارِ رائے کیوں نہیں دیتے۔
گویا آج ایرانی قوم و اسلامی حکومت کا سامراج کے خلاف ڈٹ
جانا ان کے عقیدے کی پیروی کرنے کے لئے کافی ہے۔

No comments:
Post a Comment