![]() |
( میری آن
لائن سالگرہ)
جوانی کا قصہ یاد آگیا جب
پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز میں ملازمت کے دوران ایک ساتھی ہؤا کرتے تھےجو قریباً
پچاس کی عمر کے ہونگے اور میں انیس برس کا تھا۔ان کا نام تھا "اکبر
چشتی"، اچھی بڑی داڑھی خوبصورت لگتی تھی ان کے چہرے پر، اگر اب بھی حیات ہیں تو اللہ انکو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور اگر
گذر گئے تو اللہ مغفرت عطا فرمائے، نہایت خوش اخلاق انسان تھے اور ہنسی مذاق میں
خوب شاملِ حال رہتے، پنجاب کے کسی گاؤں سے تعلق تھا لہٰذا بے حد سادگی تھی طبیعت
میں۔ ایک اور ساتھی قمرالزمان ابھی حیات
ہیں ، سننے میں آیا ہے کہ وہ فالج کے باعث صاحبِ فراش ہیں، میری ہی عمر کے ہیں،
اللہ انکو صحت و تندرستی عطا فرمائے، نہایت شرارتی فطرت کے مالک ہیں ، جس کے باعث
انہیں ہم شرارتوں میں استعمال کرتے تھے۔ہم نوجوانوں نے اکبر چشتی صاحب کو چھیڑنے
کا منصوبہ بنایا اور قمرالزمان کو استعمال کرتے ہوئے ان کو اکبر چشتی صاحب کے پاس
بھیجا کہ ان سے پوچھیں "آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟۔اکبر چشتی صاحب نے بہت
سوچ کر جواب دیا کہ فلاں تاریخ ہے، قمرالزمان نے کہا لیکن اس روز تواتوار کا دن
تھا اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے، سارے اسپتال بند ہوتے ہیں تو آپ کی پیدائش کیسے
ہوگئی (حالانکہ اس زمانے میں خواتین گھر میں ہی بچوں کو جنم دیا کرتی تھیں یا
زیادہ سے زیادہ کسی محلے والی دائی کی مدد حاصل کر لیا کرتی تھیں) ۔سادگی دیکھئے
اکبر چشتی صاحب کی کہ گھبرا کے کہا "اوہ ہاں سوری ، پھر کسی اور دن پیدا ہؤا
ہونگا میں" ۔یہ مزاح بہت مشہور ہؤا۔
آج بھی اتوارہے اور میری
اسّی ویں سالگرہ ہے لیکن میں بھی شاید کسی اور روز پیدا ہؤا ہوں گا، مجھے یاد
نہیں، ویسے بھی میری تاریخِ پیدائش اسکول میں داخلے کے وقت والد صاحب کی عدم
موجودگی میں چھوٹے ماموں نے فرضی لکھوائی
تھی۔ آج میری سالگرہ وقت و حالات کے مطابق
ایسے منائی جارہی ہے کہ میں اپنے اپارٹمنٹ میں ہوں جو کراچی میں ہے، میرے ساتھ
میرابڑا بیٹا ہے۔سب سے بڑی بیٹی اپنے شوہر
و بچوں کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہے۔ چھوٹا بیٹا انگلینڈ میں ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ مری میں سیر کر رہی
ہے۔سب نے مل کر "آن لائن" سالگرہ کی تقریب منعقد کی ہے جو ہفتہ کی
رات سے شروع ہو کر پیر کی صبح ختم ہوگی،
گویا چھٹی کا دن درمیان میں آہی گیا۔

No comments:
Post a Comment