![]() |
(ذاتی البم سے لی گئی 1947
سے 2026 تک کی تصاویر)
1962 میں ٹیبل ٹینس "وائی
ایم سی اے پاکستان" کا چمپئین تھا۔
1964میں پولی ٹیکنک کے تیسرے اور فائنل ائیر میں اپنی
مرضی کا پراجیکٹ "آٹومیٹک ڈور اوپنر" بناکر فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔
1964
میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز میں
ملازمت کے حصول کے لئے سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ پاکستان کے کُل چار ہزار
چھہ سو امیدواروں میں چوتھے
نمبر پر آیا 1965میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کی تاریخ میں سب سے کم عمر(
اٹھارہ برس پانچ ماہ نو دن )میکینک قرار پایا ۔
1969
میں پی آئی اے نےگوئٹے انسٹیٹیوٹ سے نو
ماہ کا ڈپلومہ ہونے کے باعث 23 برس کی عمر میں ہمبرگ جرمنی سرکاری کام سے بھیجا ۔
1969میں آل پاکستان نیشنل جمبوری موچک نزد ڈھاکہ (سابق
مشرقی پاکستان) میں پی آئی اے روورز اسکاؤٹس کی نمائندگی کی اور اس وقت کے صدر
پاکستان جنرل محمد یحییٰ خان مہمانِ خصوصی سے ہاتھ ملا کر خصوصی ٹرافی وصول کی۔
1970 پوری انسٹرومنٹ اوورہال شاپ پی آئی
اے کا آن جاب ٹریننگ انسٹرکٹر لگا دیا گیا ۔
1971ہمارے فروخت شدہ ٹرائیڈنٹ ہوائی جہاز کے تمام پرزہ جات کی
ٹریننگ ان کے خریدار چین کی بائیس رکنی ٹیم کو ٹریننگ دینے کا موقع ملا۔
1973 میں کینن انکارپوریشن ٹوکیو جاپان میں پام ٹرانک، ڈیسک ٹاپ
کیلکولیٹرز ، مِنی کمپیوٹرز اور پلین پیپر کاپیئرز کی مرمت کی ٹریننگ حاصل کی ۔
1978 میں 32 سال کی عمر میں اب تک کا سب سے کم
عمر ایئر کرافٹ انجینئر ہونے کا اعزاز
حاصل ہؤا اور ایس اے ای پی ممبر شپ نمبر 700 حاصل کیا۔
1980 میں متحدہ عرب امارات کی ائر لائن شروع کرنے والی انجینئیرنگ کی 10 افراد
کی ٹیم کا حصہ بن کر امارات ائر لائنز شروع کی۔
1988 تمام قسم کے جہازوں کے سات لائسنس حاصل کئے۔ 52 ٹیسٹ
بینچز خود ڈیزائن کرکے خود ہی تیار کیں جن کے ذریعے چالیس لاکھ ڈالر کی بچت ہوئی۔
ایک عدد آٹومیٹک ٹیسٹ اسٹیشن خود ڈیزائین کیا اور محض ایک ٹیکنیشن کی مدد سے مکمل
طور پر فیبریکیٹ کیا جس سے 88 ملین ڈالر کی بچت ہوئی , 1988 میں یہ مکمل ہؤا جس کا
افتتاح چئیرمین پی آئی اے جناب ائیر مارشل عظیم داؤدپوتا صاحب نے کیا،
اس اسٹیشن پر ائیر بس اے- 310 اور بوئنگ - 747 کے آٹو پائلٹ
سسٹم کمپیوٹر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
2001 میں تمام انجینئیرنگ
ڈیپارٹمنٹس اور پی آئی اے ٹریننگ سینٹرکی آٹومیشن
کی۔
2002 میں مینیجر لاجسٹک اسٹورز کی حیثیت سے باون
کروڑ کی رقم نیشنل انشورنس کارپوریشن سے
پی آئی اے کو وصول کروائی جو 1988 سے پھنسی ہوئی تھی۔
2003 میں
سینئیر انسٹرکٹر پی آئی اے ٹریننگ
سنٹر کی حیثیت سے رائل نیپال ائر لائن کے آفیسرز کو لاجسٹک اسٹورز اور سپلائی چین
کی ٹریننگ دی۔
2005 میں اپنی خوشی سے چھ ماہ پہلے ریٹائرمنٹ لے
لی۔
2006 تا 2015 مختلف پیشہ ورانہ ملازمتیں کیں جس میں کنسلٹنگ ایڈیٹر پاکستان ٹائمز ملائیشیا اور جنرل
سیکریٹری پاکستان کیمیکل اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسو سی ایشن شامل ہے
2015 میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ای بک لانچ
ہوئی جو پاکستان کی پہلی "ای بُک" تھی۔

No comments:
Post a Comment