![]() |
(پہلی بیٹی کی شادی کے موقع پر لی گئی تصویر اپنی ذاتی البم سے)
اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت ایک تربیت گاہ ہوتی ہے اور مرد
اس کا رکھوالا۔چار بچے ہوں تو تربیت تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے لیکن نتائج بالکل
مختلف کیوں۔ باپ کا سایہ ہی کافی ہوتا ہے عورت کے تراشے ہوئے معصوم بچے یا بچی کے مجسمے کے لئے، دونوں اپنے اپنے انداز میں اس
سائے کے فوائد و نقصانات وصول کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے سورج کی تپش بیٹے کو زمانے کے حوادث کے سامنے چٹان بن کر
کھڑا ہونا سکھاتی ہے اور بیٹی کو ایک
لچکدار سائبان بن کر اپنی اگلی نسل کے لئے ایک مضبوط پناہگاہ کی تیاری کی جانب
مائل کرتی ہے۔یہی وہ الگ الگ وصول یابی کی علیحدہ علیحدہ خصوصیات ہیں جو ایک کو
بیٹی اور دوسرے کو بیٹا کہلوانے کا باعث بنتی ہیں۔عورت ماں کی حیثیت سے محض تربیت
ہی نہیں کرتی بلکہ وقت پڑنے پر مرغی کی مانند اپنے محدود پروں
میں تمام بچوں کو ایسے حفاظت میں لے لیتی ہے کہ کسی شکاری کی چونچ بھی اس کی فصیل
کو توڑ کر کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔برعکس اس کے مرد ایک باپ کی حیثیت سے اپنے نام و شناخت کے ذریعے
ہی معاشرے کے بیشتر کالے عناصر کو اپنے بچوں کو ایک ایسا محفوظ قلعہ مہیا کر دیتا
ہے جو اس کے شناختی کارڈ اور گھر کے باہر لگی نام کی تختی کی سے ہی ایسا دبدبہ
بنائے رکھتا ہے کہ جس کے باعث بچے معاشرے
میں سر اٹھا کر جیتے ہیں۔گویا مرد و عورت
میں اپنے بچوں کی تربیت میں اپنے اپنے انداز جداگانہ ہونے کے باعث ایسا
شائبہ ہوتا ہے کہ عورت ایک تربیت گاہ ہے اور مرد
محض ایک رکھوالا۔اصلیت جب سامنے آتی ہے جب دو میں سے ایک اس دنیا
میں نہ رہے۔اور عورت کو ماں کے ساتھ باپ
کا بھی کردار نبھانا پڑے یا مرد کو ایک باپ ہی نہیں بلکہ ماں بھی بننا پڑے،
اصل میں مرد میں تو ماں بننے کی صلاحیت اللہ نے بخشی ہی نہیں لیکن
کردار کی حد تک بھی یہ ذمہ داری مکمل طور
پر کبھی بھی نہیں نبھا سکتا ، یہ میرا
ذاتی تجربہ ہے جو میں یکم جون 2001 سے اپنی بیوی کے انتقال کے بعد سے نبھانے کی سر
توڑ کر کوششوں میں تا حال مصروف ہوں۔

No comments:
Post a Comment