![]() |
(پبلشرز کی جانب
سے دی گئی تصویر)
۱ ۔ قطارمیں
کھڑے ہوکر اپنی باری کاانتظار کرنا:گھر میں گفتگو ہو رہی ہو، ٹیلی ویژن پر کسی
پروگرام میں یا کسی اور محفل میں، ہم اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتے اور دوسروں
کی بات کاٹ کر بولنا چاہتے ہیں۔ اِسی جلد بازی کے مِزاج کی وجہ سے ہم کسی جگہ بھی
اپنی باری کے انتظار میں قطار میں کھڑے نہیں ہو سکتے خواہ اِس کے لئے ہمیں کوئ بھی
حربہ استعمال کرنا پڑے۔ ہماری اِس حرکت کی وجہ سے بعض مرتبہ تو ہمیں اپنے مقصد میں
کامیابی ہو جاتی ہے لیکن اکثر اُن لوگوں کے اعتراض کی وجہ سے ایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے جو اپنی باری کا
انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ہمارا وہ کام جو قطار میں کھڑے ہونے سے چند مِنٹ
میں ہو جاتا اُس میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، بلڈ پریشر ہائ ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار
کپڑے پھٹنے اور چوٹیں لگنے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ دوسرے موضوعات کی طرح یہ موضوع
بھی بہت پرانا ہے لیکن اعادہ کے طور درجِ ذیل باتیں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے :-۱
۔قطار میں کھڑے ہونا ہمارا درجہ کم نہیں کرتا اور نہ ہی ہماری شان میں کسی قسم کی
کمی واقع ہوتی ہے۔۲ ۔ ہمیں ایک مرتبہ تو یہ سوچنا چاہیئے کہ جو فرد یا افراد قطار
میں کھڑے ہیں وہ بھی انسان ہیں، اُن کو بھی جلدی واپس جانا ہوگا یا اُن کی ہم سے
زیادہ کوئ مجبوری ہو سکتی ہے۔۳ ۔ ہمیں اِس
بات کا بھی احساس کرنا چاہیئے کہ اگر بے ہنگم طریقے سے کھڑے ہوکر ہم شور و غوغا
کریں گے تو جس شخص کو ہمارا کام کرنا ہے کیا وہ سکون و سلیقے سے ہم سب لوگوں کا
کام کر پائے گا، کیا اُس سے غلطیاں سرزد نہیں ہوں گی ۔۴ ۔ یاد رہے کہ قطار میں
کھڑے ہونے کا عمل قانونی طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا یہ محض ہمارا اخلاقی
فریضہ ہے جو مہذّب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ کوئ پولیس والا ڈنڈے کے
ذریعے ہماری قطار بنوا رہا ہو تو کیا ہماری شان میں اضافہ ہوگا؟۲ ۔ معاملہ کرنے
میں آواز دھیمی رکھنا: بازار میں کسی کے ساتھ لین دین، کسی دوکان پر کسی بات پر
تکرار ، بینک یا دیگر کسی اِدارے میں معاملات پر بحث مباحثہ کے دوران ہماری آواز
دھیمی (Low volume) ہوگی
تو سامنے والا بھی نفسیاتی طور پر متاثّر ہو کر اپنی آواز ہلکی کر لے گا۔ فرض کریں
وہ ایسا نہ کرے پھر بھی ہمیں اپنے غصّہ کو قابو میں رکھتے ہوئے آواز ہلکی یا دھیمی
ہی رکھتے ہوئے اپنی دلیل کو مضبوط کرنا چاہیئے۔ اگر ہماری دلیل کمزور ہو گی تو چیخ
چیخ کر بھی ہم اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ
میں ہماری گفتگو کا محور (Focus) وہی نکتہ ہونا چاہئے جِس پر ہم بات کرنا چاہ رہے
ہیں اور کسی حال میں بھی سامنے والے کی ذات یعنی شخصیّت پر کوئ تبصرہ (Comment) نہیں کرنا
چاہیئے کیونکہ نہ تو ہمیں اِس کا حق ہے اور نہ ہی اِس کے ذریعے معاملہ حل کرنے میں
کوئ مدد ملتی ہے بلکہ اِس کے برعکس بات مزید خراب ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ ہمیں اپنے
آپ کو بہتر انسان اور ایک بہتر شہری بن کر اِسی معاشرہ کا حصّہ بن کر رہنا ہے۔ یہی
طریقہ ہے جس سے معاشرے بہتر ہوتے ہیں۔
مبلّغ بن کر پورے معاشرے کو سدھارنا نہ تو ہمارا کام ہے اور نہ ہی ہمیں زیب دیتا
ہے کہ ہم خود تو عمل نہ کریں اور دوسروں سے اُمید رکھیں۔ اِسی کے بارے میں محاورہ ہے
کہ"اوروں کو نصیحت ، خود را فصیحت"۔۳ ۔ جلد سے جلد فارغ ہو کردوسرے کیلئےجگہ
چھوڑدینا:ہم جب کسی دوکاندار سے بھاؤ تاؤ کر رہے ہوں، بینک کے کاؤنٹر (کھڑکی) پر
ہوں، ڈاکٹر کو اپنا حال بتا رہے ہوں، بس یا ریل کا ٹکٹ لے رہے ہوں، سنیما گھر میں
فلم دیکھنے کے لئے ٹکٹ لے رہے ہوں یا دیگر کسی ایسے مقام پر ہوں جہاں قطار میں
کھڑے رہنے کے بعد ہماری باری آگئ ہو تو ہم یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پیچھے
اور لوگ بھی ہیں جو اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں بلکہ بعض مرتبہ جان بوجھ کر دیر
لگاتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ چونکہ ہماری باری دیر میں آئ ہے لہٰذا ہم اِس کا بدلہ لیں گے۔ اِس قسم کا منفی
رویّہ نہایت نامناسب ہے کیونکہ یہ ہماری منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ہماری اپنی نظر
میں یا ہمارے گھر میں ہم کتنے ہی اچھّے کیوں نہ ہوں لیکن اُوپر بیان کردہ منفی
رویّہ کے نتیجہ میں لوگ ہمارے بارے میں اچھّا تاثّر قائم نہیں کریں گے مگر ہم اپنے
ذہن میں آپ ہی آپ اِس تاثّر کو زائل کرنے کی ناکام کوشش اس طرح کرتے ہیں کہ دوبارہ
یہ موقع کہاں آئے گا اور یہ لوگ پھر کب ملیں گے؟ ہم یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ
منفی سوچ کے اثرات دوسروں پہ کم اپنے اوپر زیادہ اور مستقل ہوتے ہیں۔ اور بالفرض
دوبارہ اُن لوگوں میں سے کسی سے آمنا سامنا ہو گیا تو ہمیں منْہ چھپانے کے علاوہ
کوئ اور صورت نظر نہیں آتی کیونکہ ہمارے دِل میں چور ہوتا ہے کوئ ہمیں پہچانے یا
نہ پہچانے۔
%20-%20Copy-page-036.jpg)
No comments:
Post a Comment