Search This Blog

Tuesday, June 23, 2026

فطرت سے ہم آہنگی میں زندگی آسان (باب پنجم)

(انٹرنیٹ سے لی گئی فطری انسان کی تصویر)

 ابھی ہم فطرت کے نظام سے ہم آہنگی کو ایک انسان کے جسم کی حد تک کا تذکرہ کر رہے تھے اور تھوڑی سی جھلک ایک معاشرے تک کی بھی دیکھی۔ ابھی تو ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ انسانوں کے فطرت کے نظام سے غیر آہنگ ہونے سے روئے زمین اور اس کے ماحول پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔گھر کے اندر موم بتی جلانے سے تھوڑی سی روشنی ہوتی ہے اور معمولی سی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی پیدا ہوتی ہے۔روشنی تو ٹھیک ہے، ہماری ضرورت ہے لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہماری صحت کے لئے ایک منفی عنصر ہے جو کہ کوئلہ، لکڑی  وغیرہ جلانے سے بہت زیادہ پیدا ہوگی  اور یوں اس کی مقدار زمین کے اطراف کے ماحول میں بڑھتی چلی جائیگی جب ہم بڑے پیمانے پر لکڑی، کوئلہ جلائیں گے اور خاص طور پر ایسی فیکٹریاں  اور ریلوے انجن جو لکڑی اور کوئلے سے چلتے ہیں۔ فضا میں چاروں جانب کاربن کی موجودگی سے انسانی صحت پر تو برے اثرات پڑیں گے ہی لیکن زمین پر موجود دیگر مخلوقات کی زندگیاں بھی دشوار ہو جائیں گی، گویا ہم فطرت کے  پورے نظام کو آلودہ کر یں گے لہٰذا انسانی زندگی کے ارتقاء اور فطرت کے نظام کی ہم آہنگی  برقرا رکھنے کے لئے ہمیں ایسے اقدامات اٹھانا پڑیں گے جن میں ایک خاص قسم کا توازن ہو۔اسی طرح انسانی تاریخ میں جو بھی ہم نے ارتقائی منازل طے کی ہیں ان میں اگر چہ ترقی یافتہ اقوام نے تو جلد ہی ایک توازن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آگاہی کے ساتھ اس پر عملدرآمد میں بھی دیر نہ کی لیکن بیشتر اقوام نے تو آگاہی بانٹنے کے عمل کو ہی تسلیم نہ کیا ، توازن قائم رکھنا تو دور کی بات۔ جیسے ذرائع آمدورفت کے لئے سڑکوں کا جال بچھانے کے راستے میں جو گوٹھ، گاؤں اور کچی آبادیاں آئیں ان کے مکینوں کو جگہ خالی کرنے پر آمادہ کرنے میں کوتا ہی بھی کی اور بیشتر کے لئے  تو متبادل رہائشی نظام ہی وضع نہ کیا ۔ یاد رہے کہ حکمرانی کا نظام ہو یا پرائیویٹ کاروباری نیٹ ورک، دونوں میں اپنے ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے طاقت کا نظام بھی وضع کیا گیا ہوتا ہے جو کمزور عوام کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ طاقتور کے ساتھ سمجھوتہ کرنا بھی فطرت کے نظام سے آہنگی پیدا کرنے کا ایک مثبت طریقہ ہے۔سمجھوتے سے مراد ایسا ہی ہے جیسے ہم ذاتی حیثیت میں کسی ملازمت کے لئے مالک کی تمام شرائط من وعن تسلیم کرتے ہیں اور نہائیت فرمانبرداری کے ساتھ ملازمت کرتے ہیں تب ہی تو ہمیں معاوضہ ملتا ہے جس کے ہم طلبگار ہونے کے باعث درخواست لے کر پھر رہے تھے، لہٰذا حکمران یا کسی بھی پرائیویٹ طاقتور ادارے کے سات بھی ہم محض اس کا مقصد پورا نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنی ضروریات زندگی حاصل کرنے کی راہ بھی نکال رہے ہوتے ہیں۔ بعینئہ یہ مثال سڑکوں کا جال بچھانے کے علاوہ دیگر ترقی کی علامات کے لئے بھی لاگو ہوتی ہیں جیسے فیکٹریاں لگانا، رہائشی عمارارت یا کالونیاں بنانا وغیرہ۔اب ایک اور پہلو پر نظر دوڑاتے ہیں جس میں انفرادی اشیائے ضروریات اور اجتماعی ضروریاتِ زندگی زندگی کے حصول کے لئے انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کے نظام کو تہس نہس کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے  کیونکہ اس کو اپنا مقصد پورا کرنے کا شعور دیگر مخلوقات سے زیادہ عطا ہؤا ہے۔اپنا تن ڈحانپنے کے لئے ہی وہ  پودے، پھول اور درختو ں کے پتے توڑا کرتا تھا، پھر اس نے کپاس کی فصل سے کپڑا بنانا سیکھا، اس کے بعد اپنا سر چھپانے کے لئے  گھاس پھوس اور لکڑی سے جھونپڑی بنائی، اس کے بعد زمیں سے نکلا ہؤا لوہا اور سیمنٹ کا پتھر استعمال کرنا شروع کیا اور بڑھتے بڑھتےاس کی زندگی کی آسائشوں کے انبار لگ گئے اور ساتھ ہی ان کے حصول کے لئے فطرت کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا بے دریغ استعمال بھی۔ یاد رہے کہ نظامِ فطرت سے آہنگی کے لئے سب سے پہلے فطرت اور اس کے بعد فطرت کے نظام کو سمجھنا ضروری  ہے  جس کے لئے اپنی زندگی کا بیشتر وقت پڑھنے، معلومات حاصل کرنے اور مشاہدات کےبعد غور کرنے پر صَرف کرنا بنیادی شرط ہے۔مختلفُ الخیال نظریات و سائنسی محققین کو پڑھنے سے جو معلومات جمع ہوتی ہیں ان کو اپنے مشاہدات کے پیما نےپر آزمانا و پرکھنا ہوتا ہے تب  کسی منطقی نتیجہ کے قریب پہنچا جاتا ہے۔ اس دوران ہم آہنگی اور غیر آہنگی بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے اور دونوں کے نتائج بھی نظر آجاتے ہیں اور یوں نظام کو سمجھنے میں آسانی میسر ہوتی ہے کیونکہ حقیقت کو تسلیم کرنا ذرا مشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن اس تکلیف کو برداشت کرنے کے بعد جو راحت و سکون میسر ہوتا ہے وہ انمول ہوتا ہے۔اپنی ذات سے شروعات کرنے کے بعد معاشرہ ، روئے زمین کا ماحولیاتی نظام اور اس کے بعد اس پر بسنے والی مخلوقات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا لازم و ملزوم ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے انفرادی  غیر آہنگی عمل سے روئے زمین پر پانی و خشکی کا تناسب، جنگلات و  پہاڑوں کا تناسب، زمین کی زرخیزی اور بنجر پنا ہونے کا تناسب خالقِ کائنات کے بنیادی تناسب کے بگڑنے کا باعث تو نہیں، اگر ایسا نظر آنے لگے تو ہمیں فوراً اس کا تدارک کرکے اپنی خواہشات کو سمیٹنا ہوگا  وگرنہ یہ ہمارا انفرادی عمل اجتماعیت میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ معاشرہ ہمارے غیر آہنگی عمل پر غور کرنے کے بجائے ہماری ذات کو پہنچنے والے فوائد کو دیکھے گا اور یوں ایک دوڑپورے معاشرے میں پھیلتے ہوئے  تمام روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی جو کہ ہماری اس زمین کی تباہی و بربادی کا باعث بننے کے ساتھ نتیجتاً ہمارے اپنے وجود کے لئے خطرہ بن جائیگی۔میرا ایمان ہے کہ فطرت کے نظام میں کوئی خامی نہیں بلکہ میری سمجھ میں خامی ہےجو  اس کے نظام سے اختلاف کا باعث بننے کے بعد میری مایوسی کا سبب بنتی ہے۔کیونکہ جیسے ہی میں اپنی سوچ کو مثبت کرنے کی کوشش کروں تو مجھے اس بات کا خیال آتا ہے کہ کیا  میرے اندر خالقِ کائنات سے زیادہ قدرت ہے  جو میں اس کے نظام میں خامی نکال رہا ہوں؟  ساتھ ہی ایک ابلیسی قوت (جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی)   ورغلاتی ہے کہ ہاں میں صحیح سوچ رہا ہوں۔ ایسے موقع پر یہ فیصلہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ میں صحیح ہو یا خالقِ کائنات۔ ذرا پنا دماغ ٹھنڈا   کرنے  یاتھوڑے سے وقفہ کے بعد سوچوں تو اپنے اوپر ہنسی آتی ہے کہ جس پروردگار نے مجھے پیدا کیا اس  ہستی سے میری سوچ بہتر کیسے ہو سکتی ہے، یہ وہ مقا م ہوتا ہے جہاں میں ابلیسی قوت کو شکست دے پاتا ہوں اور یوں جو راحت محسوس ہوتی  ہے وہ انمول ہوتی ہے۔ ایک سعیءِ مسلسل کے بعد بالآخر ایک مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور یوں نظامِ فطرت صاف شفاف نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ہی تو انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اس نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور اپنی تمام تر کاوشیں اس روئے زمیں کو بچانے کے ساتھ اس پر بسنے والی مخلوقات کو بچانے میں صَرف کرے۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive