Search This Blog

Thursday, July 2, 2026

یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا چاہئے

(انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر)

اپنے گھر یا اپنی دوکان کے آگے سے کچرا اٹھا کر سڑک پر پھیلا دینے کے بعد شہر میں بہت گندگی کا گِلہ کرنے والے لوگوں کی  قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی اور نہ ہی  دنیا میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہے۔ قبل از تاریخِ انسانی اگر انسان کو کوئی شے یا  کوئی بات غلط محسوس ہوتی تھی تو وہ کسی اور کو نہیں کہتا تھا کہ اس کو صحیح کر لو اور نہ ہی لوگوں کو مجمع لگا کر تقریر کرتا تھا کہ فلاں شے یا فلاں بات غلط ہے، اس کو صحیح ہونا چاہئیے۔ وہ اپنے زورِ بازو پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جو کچھ بھی اس کو اچھا یا صحیح نہ لگے، اس کی درستگی کے لئے نکل کھڑا ہوتا تھا۔ اس انفرادی فعل کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آیا وہ تمام  ایسے ہی لوگوں کا مجموعہ تھا جو اپنی مدد آپ کے اصول پر یقین رکھتے اور عمل بھی کرتے تھے۔ گویا کسی معاشرہ میں جو باتیں غلط محسوس کی جاتیں ان کی فوری اصلاح کر لی جاتی اور ترقی پذیر انسان حالات واقعات کے مطابق اپنی دانست کے مطابق ہر ناپسندیدہ یا غلط بات کو اپنے مطابق ڈھالتا چلا گیا اور کبھی بھی کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ اس رویئے کے نتیجہ میں اس کا کسی سے گلہ یا شکوہ کرنے کا مزاج ہی نہیں بن سکا۔ کمزور سے کمزور انسان بھی کچھ کر سکتا تو کر لیتا ورنہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ نہ وہ فریاد کرتا، نہ کُڑھتا اور نہ ہی اندر ہی اندر جل بھن کر خاک ہوتا۔مزاج اور رویئے میں تبدیلی کی ابتدا اس مقام سے شروع ہوئی جب کسی ایک انسان نے جسمانی و مالی لحاظ سے اپنی طاقت کو بڑھاتے بڑھاتے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں اس میں یہ احساس جنم لینے لگا کہ اب مجھے اپنی مدد آپ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ میری طاقت کا رعب و دبدبہ اس قدر مؤثر ہو چکا ہے کہ میں اپنے قبیلہ میں کسی بھی شخص کو کچھ بھی حکم دوں وہ انکار نہیں کر پائے گا۔ اس عمل کے بار بار دہرائے جانے کے نتیجہ میں وہ شخص اس قبیلہ کا سردار اپنی طاقت کے بل بوتے پر بن بیٹھا۔ اور یوں ایک مکمل قبائلی نظام شروع ہؤا جس کے تحت جس کی طاقت، اس کی حکمرانی یا عرفِ عام میں "جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس" کا ایک ہمہ گیر اور آفاقی نظریہ مستند حیثیت کے طور پر لاگو ہو گیا جو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اپنی جہتیں تو تبدیل کرتا رہا لیکن بنیاد یہی رہی اور آج کے دن تک لاگو ہے۔ درجِ بالا نظریہ سے کسی کو اختلاف ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہر انسان کی بقاء بھی اسی سے مشروط ہے۔ اس سے بغاوت انسان کو قبیلہ سے باہر تو نکلنے کا سبب بن سکتی ہے لیکن اس میں تبدیلی کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ دنیا بھر میں طاقتور انسان مختلف قبیلوں، معاشروں، قوموں اور ممالک کی حکمرانی پر مامور ہیں اور مجھ جیسے کمزور انسان اپنی دل کی تسلی کی خاطر محض دوسروں کو لیکچر دے کر بے چینی و اضطرابی کیفیت کی نیند سو جاتے ہیں، گویا ہر انسان دوسرے انسان کو کہتا، کالم و کتابیں لکھتا نظر آتا ہے  کہ "یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا چاہئے" ۔ نہایت ہی کم ایسے انسان ہیں جو کہتے اور لکھتے ہیں "اپنے آپ کو کیسے صحیح کرنا ہے" اور آٹے میں نمک کے برابر وہ انسان رہ گئے ہیں جو اپنے آپ کو صحیح رکھنے کی کاوش میں خاموش زندگی گذار رہے ہیں۔ 


 

No comments:

Post a Comment

Archive