Search This Blog

Sunday, August 23, 2026

62 سال پہلے

( میرے تایا ابا  مرحوم سید نصرت علی صاحب کی تصویر ذاتی البم سے)

آج 23 اگست 2026 بروز اتوار ہے اور باسٹھ سال پہلے 1964 کی 23 اگست کو بھی اتوار کا روز تھا۔ایک سوٹ کیس اور ایک بیگ لے کر امّی کو  واہ میں روتا چھوڑ کرراولپنڈی ائر پورٹ پر پہنچ چکا تھا تاکہ چار بجے کراچی جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنزکی پرواز پر سوار ہو سکوں۔تصویر میں میرے تایا ابا ہیں جو پاکستان ایمپلائیز کواپریٹیو ہاؤسنگ  سوسائیٹی (پی ای سی ایچ ایس) کے بلاک 2  خالد بن ولید روڈ  کے ایک بنگلے میں رہائش پذیر تھے لیکن میری آمد سے بالکل بے خبر۔ایک تو مواصلاتی نظام وہی پرانا ڈاک کے ذریعے خطوط کا ہؤا کرتا تھا اور پھر  ٹیلیفون فیکٹری ہری پور ہزارہ میں سترہ دن ملازمت کرتے ہوئے اچانک استعفیٰ دے کر پی آئی  اے کی کال پر لبیک کہتے ہوئے ابا میاں کے انکار کے باوجود  زبردستی تایا ابا کے نام کا خط لکھوا کر روانہ ہونا، بھلا کیسے ان کو خبر ہوتی۔زندگی میں پہلی بار ہوائی جہاز میں بیٹھا، یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ زمین سے اتنا اوپر کرسی پر بیٹھا کھانا کھا رہا  ہوں اور وہ بھی  پی آئی کی یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی کی میزبانی میں۔شام سات بجے کراچی ائرپورٹ پر ہوائی جہاز آہستہ سے زمین پر اترا۔ ائرپورٹ سے باہر آکر ٹیکسی لی اور پوچھتے پاچھتے رات نو بجے تایا ابا کے بنگلے کے دروازے  کی گھنٹی بجائی تو لوہے کے بہت بڑے گیٹ کے پیچھے سے مردانہ آواز آئی "کون؟" جواباً کہا  " میں مسرت ہوں، سید عترت علی کا بیٹا ، واہ سے آیا ہوں" کیا ثبوت ہے  تمہارے پاس؟ میں نے کہا کہ یہ خط ہے ان کا، گیٹ کھولے بغیر اوپر سے ہاتھ بڑھا کرخط لے لیا اور میں اپنے تایا زاد بھائی کی سیکیوریٹی کلئیر ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ تقریباً دس منٹ بعد گیٹ کھلا، اندر آنے کے اشارے پر داخل ہو گیا لیکن مشکوک نظروں کی نگرانی میں گھر کے اندر لے جانے والے تایازاد بھائی کو بہت دیر بعد مختلف زاویوں سے انٹرویو کے بعد یقین آیا کہ میں سچ بول رہا ہوں اور سید مسرت علی ولد سید عترت علی ہوں کیونکہ اس زمانے میں بغیر شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کے پی آئی اے میں ملازمت مل گئی۔ 1970 میں پہلی بار جب ابا میاں میرے پاس کراچی آئے تو میرا شناختی کارڈ بنوایا۔ ڈومیسائل تو جب بنوانے کی ضرورت پیش آئی جب شادی ہو گئی ، چار بچے ہو گئے، بڑی بیٹی کو میڈیکل کالج  میں داخلہ دلانے کے لئے میرا ڈومیسائل ضروری قرار پایا۔وقت وقت کی بات ہے، آج بھی میری تیسری نسل (جین زی) پاکستان سے باہر ساری دنیا کے شہروں میں  میرے کراچی آنے کی مانند جارہی ہے ہزاروں   ڈاکومینٹری مشکلات کے باوجود، بس ہاتھ میں ایک موبائل فون لئے۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive