(بیٹے کے ساتھ تصویر ذاتی البم سے)
عالمگیر نظام کے تحت حقیقت ہے کہ باپ سوا سیر ہوتا ہے لیکن
حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی بیٹا سوا سیر بننے کی کوشش کرکے ثابت کرنا
چاہتا ہے کہ وہ ایک دقیہ نوسی آفاقی نظام کو بدل سکتا ہے کیونکہ وہ انجام سے بے خبر ہوتا ہے، جانتے ہیں کیسے؟ ڈاکٹر سر علامہ محمد
اقبال نےخالقِ کائنات سے شکوہ کرنے کے بعد جوابِ شکوہ لکھ کر اس نکتہ کی جانب توجہ
مبذول کرائی کہ فطرت کے نظام سے بغاوت قطعئی مناسب نہیں بلکہ ہمیں اپنے گریبان میں
جھانک کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم جس نظام سے ٹکر لینا چاہتے ہیں اس کے نتائج کیا
نکلیں گے۔اسی طرح سر سید احمد خان نے تمام تر توجہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکوز کر
دی آپ نے مسلمانوں کو یہ تلقین کی کہ وہ
انگریزوں کے متعلق اپنا رویہ بدلیں کیونکہ انگریز ملک کے حکمران ہیں۔خالقِ کائنات
کے بعد تمام تر طاقت ان کے پاس ہے ، ان سے ٹکر لے کر مسلمان تباہ ہو جائیں گے ، ان
کا کچھ نہیں بگڑے گا لیکن ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر مسلمان کچھ نہ کچھ حاصل کر
پائیں گے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے وفادار رہے ۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ جدید تعلیم
کے بغیر مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ سر سید کی دُوربِیں نگاہوں نے دیکھ
لیا تھا کہ زندگی نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس میں
رکاوٹ پیدا کر کے اس کی رفتار کو بھی روکا نہیں جا سکتا بلکہ ایسا کرنے والے خود
تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گے۔لہٰذا طاقتور کے نظام سے ٹکر لینے کے بجائے اس کے
ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلنے میں ہی بہتری ہے جیسے خالقِ کائنات کے بارے میں ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال نے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ سب سے بڑا
ہے، سب سے زیادہ طاقتور ہے ، اس کا نظام جیسے بھی قائم ہے ہم انسانوں کو اس کے
ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلنا ہوگا ورنہ ہم خود برباد ہو جائیں گے۔ سر سید احمد خان کا
یہ قول کہ "چلو تم ادھر کو ، ہوا ہو جدھر کی" اسی لئے مشہور ہے لیکن بہت سے دانشوروں نے اس
پر منفی تنقید کا نکتہ نکالا کہ اس قول کا مطلب منافقت ، موقع پرستی یا آجکل کی
زبان میں لوٹا کریسی ہے، جو کہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہر گز نہیں ہو سکتا اور اس قول پر عمل نہ کروا کے مسلمانوں کو
تباہی کی جانب لینے کے سوا کچھ نہ تھا۔بنیادی طور پر ائیروناٹیکل انجینئیر ہونے کے
ناطے اور ہوائی جہاز کے لائسنس یافتہ آٹو
پائلٹ سسٹم ایکسپرٹ ہونے کی حیثیت سےہوائی
جہاز کو نہایت ناہموار طوفانی ہواؤں کے
درمیان سے گذرتے وقت ان ہواؤں کے دوش پر آزاد چھوڑ دینے کی مثال پیش کرونگا۔ ہوائی
جہاز کو شدید طوفان کے درمیان سے گذرتے
وقت "آٹو پائلٹ" بٹن آف کر کے "ٹربولینس"بٹن دبا دیا جاتا ہے جس سے ہوائی جہاز کی
نقل و حرکت کو آٹو پائلٹ سسٹم سے ہٹا کر ہوا کی لہروں پر تقریباً آزاد چھوڑ دیا
جاتا ہے کیونکہ طوفانی اور نا ہموار لہروں کے خلاف آٹو پائلٹ سسٹم کے زبردستی کنٹرول کرنے سے ہوائی جہاز کے پروں اور دم پر
لگے کنٹرول ٹیبس ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔سادہ لفظوں میں فطرت کی ہوائی نظام سے
ہم آہنگی پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ ہم اپنے مصنوعی طریقوں سے ہوائی
جہاز کوغیر آہنگ کر کے بہت بڑے نقصان کے خطرے میں ڈالیں۔ان مثالوں کے ذریعے یہ ثابت
کرنا مقصود ہے کہ ہمیں کبھی اپنے سے زیادہ
طاقتور سے نہیں ٹکرانا چاہئے کیونکہ نقصان ہمیشہ کمزور کا ہی ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم
کےترقی یافتہ ہونے کے لئے اخلاقیات اور کسی ملک کے ترقی یافتہ کہلانے کے لئے بنیادی
ڈھانچہ (انفرا اسٹرکچر) کا مضبوط ہونا لازم ہے۔دونوں کی مضبوطی کے حصول کے لئے
فطرت کے نظام سے ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔اچھے اخلاق کی مالک اقوام دنیا کی نظر میں
مقبول ہوتی ہیں اور تمام دنیا ان سے کاروبارِ زندگی بلا جھجک کرنے کی خواہشمند
ہوتی ہے۔ ملک کا بنیادی ڈھانچہ قوم کے افراد کی غربت کم کرنے میں اہم رول ادا کرتا
ہے۔جب کبھی کسی ملک میں ائرپورٹس ، ریلوے یا دیگرذرائع آمدورفت کے لئے موٹر ویز
اور پُل وغیرہ تعمیر کرنا ہوں تو حکومت ان کے لئے جو زمین استعمال کرنا چاہتی ہے
وہاں کے مکینوں کو کسی متبادل جگہ پر رہائش کا بندوبست کرتی ہے۔مکینوں میں ہر قسم
کے انسان ہوتے ہیں، کچھ تو فطرت کے نظام سے آگاہ ہوتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہم آہنگی
اختیار کرتے ہیں لیکن کچھ دانستہ یا نادانستہ غیر آہنگی کا راستہ اپناتے ہیں جو اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ حکومت کے پاس
معاشرتی قوانین کے تحت اختیار ہوتا ہے۔ہم آہنگی کا رویہ رکھنے والوں کو اس بات کا
شعور ہوتا ہے کہ جب کوئی بڑا پراجیکٹ شروع ہوگا تو اس میں ان کو ملازمتیں مل سکتی
ہیں ۔ گویا ملک و قوم کی ترقی میں وہ
حکومت کا ہاتھ بٹاسکتے ہیں۔یوں تو سرکار چند طاقتور افراد کا ٹولہ ہوتی ہے اور وہی
اس قوم و ملک کی ترقی کا اہتمام بھی کرتی ہے جس کے کمزور عوام نے اس کو اپنے ووٹ
کے ذریعے منتخب کیا ہوتا ہے لیکن بعض اقوام میں ایک فردِ واحد بھی اپنی
قائدانہ و کاروباری صلاحیتوں کے بل بوتے پر سرکار جیسے ہی کارنامے سرانجام
دینا شروع کر دیتا ہے ، مثلاً سرکاری زمین جائز و ناجائز ذرائع استعمال کرکے اس پر ایک مکمل ترقی یافتہ بستی کی تعمیر
کرڈالتا ہے جسمیں بڑے پیمانے پر ذرائع آمدورفت کے لئے سڑکیں اور پُل وغیرہ شامل
ہوتے ہیں یا پھر ایک بہت بڑا عظیم الشان ادارہ
تعمیر کر ڈالتا ہے جیسے ایک نامور یونیورسٹی، تمام سائنسی و ریسرچ کے آلات
پر مشتمل اسپتال اور یا پھر ایک پرکشش تمام
آسائشوں سے بھرپور رہائشی ٹاؤن شپ۔ ان تمام منصوبوں کو شروع کرتے وقت وہ فردِ واحد اس زمین کے حصول کے لئے اپنی طاقت کے زور پر
صدیوں پرانے مکینوں کو یہ وعدہ کرکے بےدخل کرتا ہے کہ ان کو اس کی متبادل رہائش فراہم
کی جائیگی۔ ایسی صورت میں ان مکینوں کو اس طاقتور فرد سے ٹکر لینے کے بجائے تعاون
کرنا چاہئے اور اس کے پراجیکٹ کی تعمیر میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق رول ادا کرنے
کے لئے خدمات کی پیشکش کرنی چاہئے۔ لیکن
اس کے ساتھ ساتھ متاثرین کو اپنی تمام تر شکایات کے ازالے کے لئے معاشرے میں رائج
الوقت انصاف کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا چاہئے تاکہ ملک انتشار و افراتفری کی راہ پر
نہ چل پڑے جو کسی بھی ملک و قوم کے زوال و تباہی کا باعث ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment