Search This Blog

Thursday, August 27, 2026

جو تیری مرضی

(انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تصویر)

خالقِ کائنات نے ابتدا میں تو کائنات کو نہایت حسین  تخلیق کیا اور اس کی ہر شے کو ایک خاص نظم و ضبط کے تحت چلایا۔ اس کی کسی تخلیق نے اس کے نظام کو درہم برہم کرنے کی نہ تو جرات کی اور نہ ہی کسی کی مجال تھی کہ وہ کر سکے لیکن ایک مخلوق  جس نے اپنے آپ کو اشرف المخلوقات  کے لقب سے نوازا اور اسی غرور و تکبّر میں اس نے اپنی اعلیٰ ترین ذہانت کے ذریعے قدم قدم پہ اپنی برتری ثابت کرنا شروع کر دی، بڑھتے بڑھتے انسان کی یہ کاوشیں خالق کی جستجو میں نکل کھڑی ہوئیں اور خالقِ کائنات کو اس آنکھ مچولی سے لطف اٹھانے کا موقع ملا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ جب تک حشر بپا نہ ہو جائے انسان مجھے نہ پا سکے گا۔ حد تو یہ ہے کہ خالقِ کائنات کے منتخب کردہ بندوں کو بھی اکسایا کہ آؤ ہمت ہے تو مجھے دیکھو، مجھ سے ملاقات کی کوشش کرو اور مجھ سے ہم کلام ہونے کی کوشش کرو لیکن ابھی وہ وقت نہ آیا تھا جو اس نے طے کر رکھا ہے لہٰذا اپنے پاس بلا کر بھی اپنا دیدار کرانے کی بجائے اپنی علامات ظاہر کر دیں اور کہا کہ اب لوٹ جاؤ۔، کسی کی کیا مجال اس حد سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا۔عام انسانوں کی خالقِ کائنات کی  نافرمانیوں اور دنیاوی عیش و عشرت سے لطف اندوزی کے نشہ میں غرق انسان بڑھتے بڑھتے ابلیس کے اثرورسوخ میں پھنستا چلا گیا اور کائنات میں فساد پھیلانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔زمیں پر ہر جانب ظلم و ستم کا بازار گرم ہوتا چلا گیا، یتیموں و مسکینوں کا مال چھین کر قبضہ کیا جانا ایک عام سی بات بن گئی، جھوٹ بولنا، کم تولنا اور امانت میں خیانت تو برائی میں شمار کرنے سے گویا خارج ہی کر دیا گیا ہو۔انسان کے ہاتھوں انسان کی جان لینا تو کسی جانور کی جان لینے سے آسان بھی ہوگیا اور غیر معیوب بھی۔ زمیں پھٹنے لگی، آسمان رونے لگا لیکن خالقِ کائنات تو جیسے  اس زمین کو ابلیس کے مکمل طور پر حوالے کرکے کسی اور کائنات میں چلا گیا۔واعظ ہیں کہ نیک کام کے اجر کو ستر کے ہندسے سے ضرب پہ ضرب دئیے چلے جا رہے ہیں اور گناہ کی سزا کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ ان کا بس چلے تو خود ہی ممبر سے اتر کر سر قلم کرنا شروع کر دیں۔آج کے اس  خیال کا اختتام کیسے کروں ذہن ماؤف ہو چکا البتّیٰ اتنا ایمان باقی ہے کہ"جو تیری مرضی" ہواؤں کا کام ہے چلنا       دیئے کا کام ہے جلنا          وہ اپنا کام کرتی ہیں           میں اپنا کام کرتا ہوں       خالقِ کائنات نے اپنا نظام سنبھالا ہؤا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ اس کو کیسے چلانا ہے، اس کی مرضی ہے اس میں جب چاہے رد و بدل کرے۔ بے شک اس کی مرضی کے بغیر ایک پتّہ بھی نہیں ہِل سکتا لیکن اس ہی نے انسان کو فہم و فراست و ادراک دیا، شعور دیا۔ زمین کے اندر اور اوپر، سمندر کی تہہ میں یا پہاڑوں کی چٹانوں میں جتنے بھی خزانے ہیں ، اس نے بنی نوع انسان کے لئے پیدا کئے، وہ جانتا ہے کہ پوری زمین پر کتنی آبادی ہونی چاہیے جو ان تمام خزانوں کو بہ حسن و خوبی استعمال کر پائے گی لہٰذا  سیارہ زمین کی کل آبادی کو متوازن رکھنا اس کی ذمہ داری ہے اسی لئے کبھی وہ سیلاب لاتا ہے اور کبھی زلزلے حتّٰی کہ عالمی جنگیں بھی برپا کرتا ہے۔کبھی کوئی عالمی وبا پھوٹ پڑے تو اس میں بھی اس کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ انسان اتنا   ناسمجھ نہیں رہا کہ اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کے کون سے فعل سے کیا ہوگا لیکن اس کے اختیار میں نہیں کہ اس کے کسی بھی عمل کے نتیجے میں اگر حالات قابو سے باہر ہو جائیں تو اس کو کیا کرنا ہے، پھر بھی خالقِ کائنات اچھی طرح با خبر ہے کہ کس وقت کیا کرنا ہے لہٰذا  کائنات کا نظام درست انداز سے چلانے کے لئے جو بھی اقدامات اس کو اٹھانا ہوں وہ بخوبی سمجھتا ہے۔کرّہ ارض کی آبادی مسلسل بڑھ رہی تھی ، سمجھدار ادارے جو اس کی مانیٹرنگ پر مامور ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس موقع پر کیا کرنا ہے سُو وہ کر رہے ہیں۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive