Search This Blog

Monday, September 21, 2026

آخر کوئی تو وجہ ہوگی

(انٹرنیٹ سے لی گئی پاکستان کے محلِ وقوع کی تصویر)

ہماری زمین پر کتنے ہی  ممالک ایسے ہیں جو یا تو چاروں جانب سے سمندر کے پانیوں سے گھرے ہیں  اور جن کے اندر نہ کوئی دریا بہتا ہے، نہ کوئی پہاڑ اتنا اونچا ہے کہ جس پر برف پڑے جو پگھل کر آبشار، چشمہ یا ندی نالے بنا دے، کئی ممالک ایسے ہیں جن کے چاروں جانب دیگر ممالک کی زمینیں ہیں اور ان کی اپنی زمین پر کوئی دریا نہیں بہتا نہ ہی  کوئی پہاڑ ایسا ہے جہاں برف پڑنے کے بعد اس  کے پگھلنے سے چشمہ پھوٹتا ہو۔دلچسپ  حقیقت یہ ہے کہ اِن دونوں طرح کے ممالک میں نہ تو پینے کے پانی کی کمی سننے میں آئی اور نہ ہی بجلی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ کا صیغہ ایجاد ہؤا۔اور ہاں کئی ممالک تو ایسے بھی ہیں جن کی زمین سے نہ تو  کوئلہ نکلا،تیل نکلا اور نہ ہی گیس یا ایٹمی ایندھن ۔کوئلہ،  پانی ، تیل ، گیس اور ایٹمی ایندھن  ہی وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے   یا ایسے پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے سمندر کے پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنایا جاسکتا ہے یا استعمال شدہ پانی کو غلاظت سے پاک کر کے پینے کے پانی میں تبدیل کر نے والے پلانٹ نصب کئے جاسکتے ہیں۔اور ہاں ایک اور اہم ذریعہ بھی ہے پینے کے پانی  کا جو قدرت  نے کئی ممالک کو بارش کے پانی کی شکل میں عطا کیا ہؤا ہے جیسے سنگاپور جیسے ملک میں لگ بھگ سارا سال بارشیں ہوتی ہیں اور بارش کے پانی کو جمع کرکے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے اور ایک بوند بھی نہ تو زمین میں جذب ہو کر ضائع ہوتی ہے اور نہ ہی ندی نالوں میں طغیانی کی  صورت حال پیدا کرتی ہوئی سمندر میں جا  گرتی ہے۔آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی 27 متبرک تاریخ کو وجود میں آنے والا ملک جس میں اس کے اپنے بھرپور  پانچ دریا  تحفے میں ملے، اس کے شمال میں دنیاکے بلند ترین پہاڑ اس ملک کے نصیب میں آئےجہاں ازل سے ابد تک  قائم رہنے والی برف پوش چوٹیاں دنیا کے سیاحوں کی نظروں کو ٹھنڈک بخشتی ہیں تو اس کے جنوب میں ایک اہم ترین سمندر ایک حفاظتی فصیل قائم کئے ہوئے ہے۔مشہور ترین مون سون کا موسم تقریباً ہر سال دو ماہ کی بھرپور بارشوں سے اس کو نوازتا ہے، اس کے باوجود روزِ اول سے آج اُناسی  برس بعد بھی اپنے مکینوں کو پینے کے پانی کی بوند بوند سے ترسا رہا ہے اور اشرافیہ کے محلات کو چھوڑ کر پچیس کروڑ عوام ظلمتوں کے سائے تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔آخر کوئی تو وجہ ہوگی، اگر معلوم ہے تو اس کا تدارک کیوں نہیں ہوتا اور اگر معلوم نہیں تو ماتم کیوں نہیں کرتے 25 کروڑ مسلمان؟


 

No comments:

Post a Comment

Archive