Search This Blog

Friday, November 6, 2026

ہیں پاکستان میں بھی میرے جیسے خوش قسمت

(پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز اور پاکستان  کے عروج کے وقت کی تصویر ذاتی البم سے)

کچھ کہتے ہیں قسمت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اور کچھ کے مطابق قسمت اللہ کی لکھی ہوئی ہوتی ہے کیونکہ ہمارے پاس بحث کرنے کا بہت وقت ہوتا ہے۔ میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھر کے حالات ایسے دیکھے کہ  ہر نماز کے بعد پہلی اور آخری دعا ہی قبول ہو کے نہ دی جب تک کہ ملازمت شروع نہ ہو گئی، اس لئے "جو تیری مرضی" کا نعرہ دل کی گہرائیوں سے نکلا اور اپنی قسمت بنتے بنتے ابھی تک بنتی ہی چلی جا رہی ہے الحمدُللہ۔آٹھویں کلاس تک ایسے اسکول میں پڑھا جو آزادی کے بعد بھی انگریزوں کے زیرِ تسلط  واہ سیمنٹ فیکٹری کی کالونی کے اندر تھا۔نویں اور دسویں کلاس خود بخود واہ کینٹ کے اندر واقع ماڈل اسکول میں ہؤا کرتی تھی جو اس وقت کی بہترین فوج چلا رہی تھی۔فرسٹ ائیر، سیکنڈ ائیر اور تھرڈ ائیر اُس ادارے  سے پاس کئے جو امریکہ کے فورڈ فاؤنڈیشن کے ادارے نےمکمل طور پر نیا بنایا تھا جس کے دوسرے بَیچ میں ہی میری قسمت مزید کھل گئی۔ریڈیو اینڈ الیکٹرانک ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد تو پاکستان بھر میں ملازمت کے لئے میں ایک گرم کیک تھا، گیارہ جگہ سے بلاوہ آیا ، میں نے اللہ سے معذرت کے ساتھ اجازت لے کر تین نوکریاں چند روز بعد ہی چھوڑ کر پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز میں ملازمت اختیار کرلی۔"جو تیری مرضی" کی دعا نہ صرف  میری تقدیر    کو  بلندیوں پر لے گئی بلکہ پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کو بھی دنیا میں پانچویں نمبر  پر لا کھڑا کیا، یہی نہیں بلکہ مالٹا ائر لائنز  اور امارات ائرلائنزشروع کرنے میں پی آئی  اے کی دونوں ٹیموں میں شامل رہنے کا اعزاز ملا اور یو ں کہنا نامناسب نہ ہوگا کہ پاکستان کی قسمت کو  بھی عروج  بخشا۔میں نے اپنی قسمت، عروج اور اپنے ملک پاکستان کے عروج کی داستان لکھ دی۔میری طرح اُس دور کے اور بہت سے لوگ ہیں جو میری قسمت سے کہیں زیادہ بہتر تقدیر والے ہوں گے، وہ بھی نئی نسل کو بتائیں کہ "جو تیری مرضی" پر یقین کامل، اپنے اوپر اعتماد ، اتھاہ محنت اور لگن سے قسمت  بدلتی ہے ،  مایوسی  یا فرار اختیار کرنے سے  ہر گز نہیں۔

گویا میں خوش قسمت ہوں تو اپنی خدمات کے نتیجہ میں اپنے ملک کی  بھی قسمت بدل ڈالی تھی، اب کیا کریں "ہر عروج کو زوال ہے" مگر میرے ملک کا  زوال بہت ہی جلد شروع ہو گیا، اللہ رحم فرمائے!




 

No comments:

Post a Comment

Archive