Search This Blog

Wednesday, January 14, 2026

دنیا کا مہنگا ترین آنسو

(اونٹ کے آنسو کی تصویر گوگل سے لی گئی ہے)

اُونٹ کا آنسو، سانپ کے زہر کا تریاق

ریسرچرز نے اونٹوں کو ایک انتہائی زہریلے سانپ کے زہر سے محفوظ کرنے کے تجربات کئے.راجستھان کے بنجر اور خشک صحرا میں طب جدید نے ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اونٹ کو عرصہ دراز سے ’ریگستان کا جہاز‘ قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن یہ اب کسانوں اور گلہ بانوں کیلئے صرف سواری یا بار برداری کا ایک ذریعہ نہیں رہا۔بھارت کے شہر بیکانیر میں نیشنل ریسرچ سینٹر آن کیمل (NRCC) کے ایک طبی جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اونٹ کے آنسو اور مدافعتی نظام سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز کیمکلز سانپ کے کاٹے کے زہریلے اثرات کا تریاق بن سکتے ہیں اور اونٹ کے آنسو کا ایک قطرہ سانپ کے26 اقسام کے زہر کا تریاق ہوسکتا ہے۔ اس طرح سانپ کے زہر کا ایک نیا علاج دریافت ہوگیا ہے اور اس سے اونٹ پالنے والے گلہ بانوں کی آمدنی میں خطیر اضافے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں این آرسی سی کے ریسرچرز نے اونٹوں کو ایک انتہائی زہریلے سانپ کے زہر سے محفوظ کرنے کے تجربات کئے۔ اونٹ کے آنسوؤں اور خون سے کشیدکی گئی اینٹی باڈیز زہر کے مہلک اثرات خاص طور پر خون کے رساؤ اور خون کے انجماد میں رکاوٹ کے توڑ میں مؤثر ثابت ہوئیں۔ یہ بات خصوصی طور پر نوٹ کی گئی کہ اونٹ سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز سے الرجک ری ایکشن بھی بہت کم تھا جبکہ زہر کو رد کرنے والی روایتی اینٹی باڈیز کے مقابلے میں یہ زیادہ کارگر ثابت ہوئیں۔ روایتی طور پر گھوڑوں کے امیونو گلو بولین (IgG) سے یہ تریاق تیار کیا جاتا ہے جو زیادہ پیچیدہ اور مہنگا طریقہ ہے۔ بھارت میں ہر سال تقریباً 58 ہزار افراد سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40ہزار افراد معذوری کا شکار ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں اس حوالے سے سب سے بڑی تعداد ہے۔ این آر سی سی نے اپنے تجربات سے جو نتائج حاصل کئے ہیں ان سے سانپ کے کاٹے کا زیادہ قابلِ استطاعت، محفوظ اور کثیرالاستعمال علاج کے طریقے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں سانپ کے ڈسنے کے واقعات زیادہ عام ہیں اور طبی امداد کی فراہمی میں عموماً تاخیر ہوجاتی ہے۔ اس ریسرچ کی بدولت اونٹ پالنے والے ان لوگوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے جو زیادہ تر بیکانیر، جیسلمیر اور جودھپور میں رہتے ہیں۔ این آر سی سی نے مقامی کاشتکاروں اور گلہ بانوں کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ کنٹرول اور محفوظ طریقے سے آنسو اور خون نکالنے کیلئے اپنے اونٹ انہیں فراہم کریں۔ اس کے بدلے میں انہیں معقول رقم ادا کی جاتی ہے۔دوا ساز کمپنیاں جن میں ’سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا‘ اور دیگر دوا بنانے والی نجی کمپنیاں شامل ہیں، بہت مستعدی کے ساتھ اونٹوں سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز کی طلب گار ہیں۔ تخمینے کے مطابق اونٹوں کے گلہ بانوں کو اس طرح ہر اونٹ سے ہر ماہ5 سے10 ہزار روپے کی اضافی آمدنی ہورہی ہے۔ اس بنا پر نہ صرف وہ زیادہ خوشحال ہورہے ہیں بلکہ سانپ کے زہر سے متاثرہ افراد کی جان بچانے میں بھی مدد کررہے ہیں۔ اونٹوں کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جاتی ہے کہ ان کا مدافعتی نظام بہت منفرد اور طاقتور ہوتا ہے اور وہ سخت ترین موسمی حالات کا بھی بہت پامردی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان جانوروں کو اب صرف ریگستان کی بہترین سواری ہی نہیں سمجھا جارہا ہے بلکہ بھارت میں انسانی صحت کو لاحق ایک مہلک خطرے سے بچانے والے مددگار کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔

 

 

No comments:

Post a Comment

Archive