Search This Blog

Sunday, March 29, 2026

کیا لے کر آئے تھے، کیا لے کر جاؤگے؟

(مصنوعی دانتوں کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

اپنی اپنی سوچ اور اپنا اپنا فلسفہ ہے۔ میری سوچ ہے اور نہ ارادہ کہ قارئین میری بات سے اتفاق کریں اور میں نے جو کچھ کیا وہ  صحیح  کیا،  یا سب کو ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔ نہیں ایسا بالکل نہیں،  بلکہ میں تو اپنی روح کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہوں  کیونکہ جب خالی ہاتھ آیا اور خالی ہاتھ جاؤنگا   تو روح کیوں اس قدر بوجھ اُٹھا کر  لے جائے۔اس بوجھ کے بارے میں میرے سے بہتر کون جان سکتا ہے کیونکہ یہ میرے  اندر بسی "میری روح "   کا بوجھ ہے ، محسوس بھی مجھے ہی ہوگا ۔

میں نے ہمیشہ  اپنے نفس پر بے انتہا ظلم کیا۔جب سے ہوش سنبھالا ، اپنی بھوک اور اپنی ضرورت سے زیادہ کھا کھا کر اپنا نظامِ ہاضمہ  تباہ و بربادکر لیا،  جس کے نتیجے میں سب سے پہلے  معدہ میں تیزابی کیفیت حد سے تجاوز کر گئی اور تیزابی  گیسوں نے مسوڑھوں پر اتنے حملے کئے کہ تمام مسوڑھے غیر ضروری طور پر نرم پڑگئے اور دانتوں کو مضبوطی سے نہ تھام سکے۔  کھانا کھانے کے بعد ان میں سلسلاہٹ بڑھتی گئی، دانتوں کے درمیان گیپ آتا گیا اور اسمیں کھانے کے بڑے ذرات پھنسنے کے باعث تنکے کے استعمال کے بعد ٹویزر ز کی ضرورت پیش آنے لگی،  مسوڑھوں سے خون نکلنے لگا، دانت ہلنے لگے اور یہ عمل چھ یا سات برس کی عمر میں شروع ہوکر بارہ برس کی عمر میں پہلا دانت نکل جانے کا باعث بناجبکہ بہتّر سال کی عمر میں آخری دانت نکلوانا مجبوری بن گیا۔ گویا آج پوری بتّیسی مصنوعی ہے۔  پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کی ملازمت میں دانت نکالنا مفت ہوتا ہے لگانا  نہیں۔ الحمدُ للہ اولاد کی کمائی میں برکت کے باعث   ایسا ممکن ہو پایا۔البتیٰ السر کا مکمل علاج  پی آئی اے کی جانب سے مفت ہؤا۔

یہ سب کچھ انجانے میں نہیں بلکہ میری  لاپرواہی کے باعث ہوا جس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہا ہوں کہ مصنوعی دانت لگا کر عام انسان والی زندگی گذارنا ممکن ہی نہیں لیکن اتنی تکلیفیں اٹھانے کے دوران اور بعد میں جو کُل تجربہ حاصل ہؤا اس کو استعمال میں لاتے ہوئے  اپنے معدے کے ایک حصے  میں ہلکی خوراک ڈالتا ہوں ، ایک حصہ پانی کے لئے چھوڑتا ہوں اور ایک حصہ اس لئے خالی چھوڑتا ہوں  تاکہ ہر وقت بھوک لگتی رہے  جس کا الگ ہی مزہ ہے۔کبھی کبھار جوشِ جذبات میں بے قابو ہو کر مرغن غذا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہوں تو ساری رات معدے کی چیخ و پکار سونے نہیں دیتی خواہ اس کے بعد جو مرضی ہاضمہ کے چورن استعمال کرلوں آخر کار ایلو پیتھی کی "ایس او ایس" گولی کھانی ہی پرتی ہے۔

آپ کی مرضی ہے میرے بُھگتے ہوئے راستہ پر چلیں یا میرے تجربات سے سیکھے ہوئے راستے پر چل کر سکون کی زندگی گذاریں۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive