Search This Blog

Monday, March 30, 2026

کیا لے کر آئے تھے، کیا لے کر جاؤگے؟

(چوگنی بائی پاس کے بعد  کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

اپنی اپنی سوچ اور اپنا اپنا فلسفہ ہے۔ میری سوچ ہے اور نہ ارادہ کہ قارئین میری بات سے اتفاق کریں اور میں نے جو کچھ کیا وہ  صحیح  کیا،  یا سب کو ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔ نہیں ایسا بالکل نہیں،  بلکہ میں تو اپنی روح کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہوں  کیونکہ جب خالی ہاتھ آیا اور خالی ہاتھ جاؤنگا   تو روح کیوں اس قدر بوجھ اُٹھا کر  لے جائے۔اس بوجھ کے بارے میں میرے سے بہتر کون جان سکتا ہے کیونکہ یہ میرے  اندر بسی "میری روح "   کا بوجھ ہے ، محسوس بھی مجھے ہی ہوگا ۔

میں نے ہمیشہ  اپنے نفس پر بے انتہا ظلم کیا۔جب سے ہوش سنبھالا ،  طلوعِ آفتاب سے پہلےکِرمِچ کے جوتے اور نیکر پہن کراکثر اکیلاہی کھیتوں میں یا سیمنٹ کی پہاڑی کے اوپر سیر کو چلا جایا کرتا اگر کوئی  کزن ساتھ چلنے کو نہ ملے۔لیکن رفتہ رفتہ ایک، دو اور پانچ تک کزن ساتھ چلنے لگے جن میں میری چھوٹی بہن (مرحومہ) اور دو دیگردو ماموں زاد بھی ہمراہ چلنے لگیں۔چونکہ مکمل طور سے روشنی نہ ہوتی تو آوارہ کتے پیچھے لگ جاتے جن کو ڈرانے کے لئے ابا میاں کا کین کا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ لیتا جس پر بڑے ماموں نے سی آئی ڈی انسپکٹر کا خظاب  دے دیا۔ ایک روز ہم سب سیمنٹ کی پہاڑی پر چڑھ گئے، کافی اونچائی سے واپس آ رہے تھے تو ائر کمپریسر سے   نکلنے والا پائپ راستے میں پھلانگ کر نکلتے ہوئے ایک جوڑ  والی جگہ سے نکل گیا اور ایک نہایت زور دار آواز کے ساتھ نکلتی ہوئی ہوا کے شور کے باعث ہم سب ہی خوف زدہ ہو گئے تب ہی مرحومہ چھوٹی بہن زور سے چلّائی "قیامت آگئی، قیامت آگئی"۔

ماموں کی سائیکل چوری چوری لے کر چلانا سیکھا ہی تھا کہ ایک روز  سڑک کے کنارے کھڑی جیپ سے دے ماری ، بازو کے  مَسل کو نقصان پہنچا۔ بھائی صاحب مرحوم کے دوست کا ویسپا اسکوٹر  چلانا آنے  کا جھوٹ بول کر ماموں کو ان کے گھر چھوڑنے جانے پر اسٹارٹ کرنے  کے بعد ماموں کے پیچھے آدھا بیٹھنے پر ہی چلا کر فوراً ہی گر جانے کے باعث چوٹیں ضرور آئی لیکن کسی بھی حادثے میں جان کو خطرہ لاحق نہ ہؤا، حالانکہ اپنے نفس پر تو خاصہ ظلم کیا۔ ساری زندگی صبح کی سیر، ورزش، ہر قسم کی اسپورٹس  کے باعث اچھی تندرستی رہی لیکن  حد سے زیادہ جذباتی ہونے کے باعث  سب سے بڑے بہنوئی، اس کے بعد ان سے چھوٹے اور ان کے بعد ان کے اکلوتے بیٹے کے اچانک  ایک دردناک حادثاتی واقع کا دل پر اتنا اثر لے لیا کہ دل کی چاروں بڑی شریانیں صدمے سے سکڑ کر بند ہو گئیں جس کا انجیو گرافی کے بعد سرجن رحمٰن  (دنیا کے نمبر 3 سرجن 1990 ) نے بتایا       ۔بائی پاس ہوگیا لیکن مزاج تو نہیں بدلا  لیکن اچھا لائف اسٹائل ہونے کے باعث "بیس سال"   بعد دوبارہ ڈبل بائی پاس کرانا پڑا ۔

اب آپ فیصلہ کریں  کہ کیا حد سے زیادہ جذباتی ہونا اپنے نفس پر ظلم کرنے کے زُمرے میں آتا ہے؟


 

1 comment:

  1. بہت عمدہ پوسٹ ، دوبارا آ پ کے دل کے بائی پاس کا مجھے علم نہیں تھا ،

    ReplyDelete

Archive