![]() |
(مسجد نبوی کی چھتریوں کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)
میں نے نہیں دیکھا
کیونکہ میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ 1986
میں عمرہ کرنے گیا تھا تب مسجد نبوی ایسی
نہ تھی کیونکہ اس کے بعد کئی مرتبہ اس میں اضافی تعمیراتی کام ہوئے اور خاص طور سے
اس کی چھتریاں تو 2010 میں تعمیر کی گئیں۔
آج خیال آیا کہ کیا یہ عام چھتری کی مانند سیدھی کھلتی ہیں یا الٹی ؟ کیونکہ اگر
سیدھی کھلیں گی تو بارش کا پانی ان کے چاروں اطراف سے گرے گا جیسا کہ عام چھتری سے گرتا ہے اور محض ایک فرد کا جسم ہی پانی سے بچ پاتا ہے۔
دوسرا خیال یہ آیا کہ اگر چھتریاں الٹی کھلیں تو ان میں پانی جمع ہو جائیگا تو اس
کو نکالنے کا کیا انتظام ہونا چاہئے۔ آج یو ٹیوب پر اس کےفنِ تعمیر کی و ڈیو دیکھی
تو دونوں سوالوں کے جواب ایک ہی ساتھ مل گئے، بہت خوشی اور اطمینا ن ہؤا کہ جیسا
میرے ذہن میں آرہا تھا ویسا ہی ان چھتریوں
کے ڈیزائنر نے سوچا۔مسجد النبوی میں دیوہیکل، خودکار چھتریوں کا افتتاح 2010 کے آس
پاس کیا گیا تھا، ایس ایل راش نے ڈیزائن کیا تھا اور پیزا کے 150,000 مربع میٹر سے
زیادہ پر سایہ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ مسجد نبوی کی چھتری کے اہم
پہلو:ڈیزائن اور مقصد: شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم سے نمازیوں کو شدید گرمی
اور بارش سے بچانے کے لیے، یہ چھتریاں، صحن کو ایک آرام دہ، ڈھکے ہوئے علاقے میں
تبدیل کرتی ہیں۔طول و عرض اور ساخت: ہر چھتری 14.4 سے 21.7 میٹر اونچی اور وزن میں
40 ٹن ہے، جس میں 25.5 بائی 25.5 میٹر کی چھتری ہے جو ترتیب وار کھلتی ہے۔مواد اور
ٹیکنالوجی: چھتری ایک، پائیدار، سفید، PTFE لیپت، فائبر
گلاس، فیبرک، انجینئرڈ، کو، برداشت کرنے، اونچی ہواؤں، اور، الٹرا وایلیٹ، شعاعوں
کا استعمال کرتی ہے۔آپریشن: چھتریاں فجر کے بعد خود بخود کھل جاتی ہیں اور مغرب سے
پہلے بند ہوجاتی ہیں، جن میں بلٹ لائٹنگ اور 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کو
کم کرنے کے لیے مسٹنگ پنکھے ہوتے ہیں۔ اس منصوبے کو دنیا کے سب سے بڑے شیڈنگ
ڈھانچے میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں
نصب 250 دیو ہیکل اور خودکار چھتریاں جدید انجینئرنگ کا شاہکار ہیں جو سعودی بن لادن گروپ کے ذریعہ بنائے گئے ہیں
، جو 140,000 مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر سایہ کرتی
ہیں۔ جس سے 230,000 سے زائد نمازیوں کو گرمی اور بارش سے تحفظ ملتا ہے۔مسجد نبوی
کی چھتریوں کی نمایاں خصوصیات:تعداد اور رقبہ: مجموعی طور پر 250 چھتریاں
مسجد کے کھلے صحنوں میں لگائی گئی ہیں۔خودکار نظام: یہ چھتریاں مرکزی کنٹرول روم
کے ذریعے چلتی ہیں۔سایہ اور گنجائش: یہ چھتریاں 25 میٹر کے دائرے میں سایہ
کرتی ہیں اور ایک چھتری کے نیچے 800 سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد
نبوی کی تعمیر نو پر کل خرچہ 4,700,000,000
سعودی ریال آیا جو ابو ایوب الانصاری نے
ادا کیا، جو اس طرح محمد کی طرف سے یا ان کے حق میں مسجد نبوی کے عطیہ دار بن گئے۔ یہ
چھتریاں نہ صرف تیز دھوپ سے بچاتی ہیں بلکہ بارش اور ہوا کے خلاف بھی مزاحمت رکھتی
ہیں۔ بارش کا پانی ہر چھتری میں جمع ہو کر
اس کو سہارا دینے والے پول کے اندر سے ہوتا ہؤا ایک جگہ جمع کر لیا جاتا ہے جہاں
باقی چھتریوں کا پانی بھی آکر مل جاتا ہے اور تمام پانی کو کسی مخصوص جگہ بہا دیا جاتا ہے۔

No comments:
Post a Comment