Search This Blog

Saturday, April 11, 2026

مجھے یاد ہے ذرا ذرا

(میری یادداشت کے مطابق  میرے بچپن کے زمانے کا نقشہ)

ہر کسی کی زبان پر یہی ہوتا ہے کہ "بڑا اچھا وقت تھا'، شاید ہی کسی کو کہتے سنا ہے کہ "بڑا اچھا وقت ہے" یا بڑا اچھا وقت آئیگا"۔ آخر ماضی کیوں سب کو اچھا لگتا ہے خواہ کتنا بھی پریشان کن رہا ہو۔ میر ے نزدیک ایک بڑی وجہ آبادی کا کم ہونا   ہے جس پہ آج روشنی ڈالی جائیگی۔کسی بھی علاقے میں  کم انسانوں کا رہائش پذیرہونا بے شمار مفادات پر منتج ہوتا  ہے جیسے 1948 میں انڈیا سے ہجرت کے بعد واہ سیمنٹ فیکٹری کی رہائشی کالونی میں پہنچ  کر ڈیرے  ڈال لینے کے بے شمار فوائد تھے جہاں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا۔انگریزوں کی بنائی ہوئی اس سیمنٹ فیکٹری کی رہائشی کالونی میں  پورا کا پورا نظام انگلستان کی مانند تھا اور اس کے چاروں اطراف گاؤں ۔کراچی تا پشاور مین ریلوے لائن جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے کی تھی اسی پر  راولپنڈی کے بعد ٹیکسلا-واہ کینٹ -بدھو-واہ سیمنٹ فیکٹری اور حسن ابدال تھے تو دوسری جانب شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) پر راولپنڈی کے بعد ٹیکسلا-واہ کینٹ-شاہ جہاں کے زمانے کے واہ گارڈنز اور حسن ابدال۔پورے علاقے کی آبادی ایک اندازے کے مطابق زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ ہوگی۔ ٹیکسلا سے  لے کر حسن ابدال تک کے لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے کیونکہ کھیتی باڑی  کا شوق نہ رکھنے والے مزدور بن کر واہ کینٹ آرڈیننس فیکٹری یا واہ سیمنٹ فیکٹری میں ہر قسم کی مزدوری کے لئے دستیاب تھے۔واہ کینٹ میں ملٹری کے انتظام کے تحت چلنے والا ایک بڑا اسپتال تھا جو آج بھی باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے جب کہ واہ سیمنٹ فیکٹری  کی رہائشی کالونی میں پرائیویٹ انتظام کے تحت چلنے والا ایک چھوٹا سا اسپتال ہؤا کرتا تھا جو اب نہ رہا کیونکہ واہ سیمنٹ فیکٹری ہی نہ رہی۔ اس چھوٹے سے اسپتال میں بڑے بھائی صاحب مرحوم کمپاؤنڈر (میل نرس) کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے تو تعلقات کی بنا پر  اطراف کے گاؤں کے لوگ ان کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر پکارتے اور ایڈمنسٹریشن کی اجازت سے اپنے گاؤں ایسے مریضوں کے علاج معالجے کے لئے بلا لیا کرتے جو اس قابل نہ ہوتے کہ اسپتال پہنچ  سکیں۔

میرے ماموں مرحوم کی شادی میں شرکت کے لئےبھاولپور سے میری پھپھو اور ان کی سب سے چھوٹی بیٹی ٹرین میں  آئیں تو غلطی سے واہ سیمنٹ فیکٹری کے اسٹیشن سے  پہلے بدھو گاؤں کے اسٹیشن پر اتر گئیں، طلوعِ آفتاب کا وقت تھا، موبائل فون تو خواب میں بھی کسی نے نہ دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی پتہ وغیرہ یاد رکھنے کا دستور تھا۔ ٹرین سے اترتے ہی چند مزدوروں کو سائیکل پر جاتے دیکھا تو  دریافت کیا "ڈاکٹر  صاحب (میرے بڑے بھائی)  کا گھر کہاں ہیں؟ آبادی کی کمی اور علاقے کے تمام لوگوں کی ایک دوسرے کی پہچان میری پھپھو کی سادگی پر قربان ہو گئی اور  بولے "آئیے بیٹھئے سائیکل پر، ہم پہنچا دیتے ہیں کیونکہ ہم بھی اپنی نوکری پر اسی جانب جارہے ہیں"۔ ایک  نے پھپھو کو اور دوسرے نے ان کی بیٹی کو اپنی اپنی سائیکل پر بٹھایا اور تقریباً پانچ میل دور ڈاکٹر صاحب کے گھر یعنی ہمارے گھر پہنچا دیا۔اب آپ ہی بتائیں کہ گذرا ہؤا وقت اچھا تھا یا نہیں ؟   


 

1 comment:

  1. واقعی زمانہ ماضی ایک اچھا دور تھا آ پ کی مثال بھی کیا خوب ھے

    ReplyDelete

Archive