Search This Blog

Friday, April 3, 2026

کر دو بیڑا غرق اس دنیا کا

(خوبصورت ترین زمین کی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے)

کہنے لگے  خدا ہے کیا؟

میں نے پوچھا بے بس ہو گئے کیا؟ کہنے لگے نہیں تو۔ میں نے کہا تو پھر نہیں ہے  کوئی خدا  وُدا۔اٹھارہ سال بعد ملے تو میں نے پوچھا خدا ہے کیا؟ کہنے لگے ہا ں لگتا ہے کہ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔مزید تین سال بعد نہایت بُرے حالوں میں ملے تو میں نے پوچھا کیا ہؤا، بولے کوئی  پوچھنے والا ہی نہیں، میں  نے کہا بہت سے لوگ ہیں کیا؟ بولے یہی تو مسئلہ کہ اتنے سارے لوگ اتنے سارے ادارے چلا رہے ہیں پھر بھی کوئی کام صحیح نہیں۔ میں نے کہا "اسی لئے تو ایک خدا ہے جسے اللہ کہتے ہیں"

اللہ کا نظام  اپنے قواعد و ضوابط کے تحت چلتا ہے لیکن اتنے چھوٹے سے مغز میں جب اللہ ہی نہیں سما سکتا تو اس کا  لامحدود نظام کہاں سمجھ میں آجائیگا۔ ہاں البتّیٰ جب بے بس ہونے پر اس ہستی کا احساس جاگ جاتا ہے  تو   بارش میں ایک دیوار گرجانے ، اس سے ایک انسان کی موت ہوجانے یا کسی بچہ کے گٹر میں گِر کر جاں بحق ہو جانے سے ہی اللہ کا نظام سمجھ نہیں آتا تو ہزاروں میزائیلوں کی برسات میں لاکھوں انسانوں کا موت کی آغوش میں چلے جانا کہا سے سمجھ آئیگا؟ لگے رہو تم مُنّا بھائی اس زمین  سے ہیرے جواہرات، تیل و گیس نکالنے میں، اور جب سب کچھ ختم ہو جانے کا خدشہ ہو تو دوسرے سیاروں پر جاکر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھو۔زمین جیسے خوبصورت سیارے کی نعمتوں سے محروم انسانوں  سے ان سے وہ کچھ بھی چھین لو جو زندہ رہنے کے لئے ان کے خالق نے ماں کے پیٹ میں عطا کیا۔

خبردار! وہ وقت آگیا ہے جسے "زوال" کہتے ہیں، جب تمہارے بنائے ہوئے نظام کے تحت  تمہارے تخلیق شدہ  کمپیوٹرز، ہوا کی لہروں سے آکسیجن و ہائیڈروجن علیحدہ کر کے ذخیرہ کر کے، روشنی کی لہروں سے مائیکروویوز نکال کر  گیجٹس، روبوٹس، مصنوعی ذہانت  کے اوزار و ہتھیار تمہیں تباہ کرکے خود بھی تباہ ہو جائینگے  گزشتہ فرعنوں کی مانند۔ کسی ایٹم بم کی اب ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔

 


 

No comments:

Post a Comment

Archive