![]() |
(پیراماؤنت پبلشرز کی تجویز کردہ تصویر)
۱ ۔ پانی ضائع ہونے سے بچانا: پانی زندگی کا
ایک اہم جُزو اور ایک ایسا عنصر ہے جس کا کوئ متبادل نہیں۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ
ساتھ دیگر فطری عوامل کی وجہ سے اِس میں کمی آتی جا رہی ہے۔ پینے کے علاوہ پانی
اور بھی کئ چیزوں اور کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ ابھی ہم صرف گھر کے حوالے سے بات
کریں گے اور جائزہ لیں گے کہ کہاں کہاں و
کیسے کیسے کفایت شعاری اور احتیاط سے کام
لیتے ہوئے ہم پانی کو بلا وجہ ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔۱ ۔ سب سے پہلے گھر میں رہنے
والے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کا خیال رکھے کہ گھر میں کہیں کسی جگہ
پینے یا دیگر استعمال کا پانی کسی طرح ضائع تو نہیں ہو رہا۔ جب اِس بات کا پتہ چل
جا ئے تو وجوہات کے حساب سے اُس کا تدارک کیا جائے۔۲ ۔ اِس جائزہ کو شروع کرنے کے
لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا چاہئے مثلاً کہیں ہم سے کوئ نَلکا
تو کھلا نہیں رہ گیا ، کہیں ہم نہانے میں ضرورت سے زیادہ پانی تو استعمال
نہیں کرتے ، دانت صاف کرتے وقت نلکا کھلا تو نہیں رہتا وغیرہ وغیرہ۔۲ ۔ بجلی ضائع
ہونے سے بچانا بجلی کے بغیر گُزارہ تو ہو سکتا ہے لیکن زندگی بہت کٹھن اور
دشوار گزار ہو جایئگی۔ اِس دور میں چونکہ ہم اس کے بہت زیادہ عادی ہو چکے ہیں
لہٰذا بیشتر کاموں میں وقت بہت زیادہ درکار ہوگا مثلاً کپڑے اِستری کرنے کیلئے
پہلے ہمیں کوئلے دہکانے پڑینگے پھر بِنا بجلی والی اِستری میں ڈال کر اُس کے گرم
ہونے کا انتظار کرنا ہوگا پھر اِستری کا عمل شروع ہوگا۔ تو گویا پانی کی طرح بجلی
بھی ہماری زندگی میں اِس قدر اہمیّت اختیا ر کر گئ ہے کہ اِس کو بھی ضائع ہونے سے
روکنے کے ہر ممکن اقدامات کرنا ہونگے جیسا کہ :-۱۔ گھر کے تمام سوئچ اور بجلی سے
چلنے والے آلات بند کر کے غور سے چیک کریں کہ بجلی کا میٹر بِالکُل رُکا ہؤا ہونا
چاہیئے اگر معمولی سا بھی چل رہا ہے تو بجلی کے محکمے میں شکایت کریں کیونکہ اِس
کا مطلب ہے کہ کہیں سے بجلی ضائع ہو رہی ہے یعنی لیکیج (Leakage) ہے۔۲ ۔ گھر کے کسی حصّہ میں کوئ غیر ضروری بلب ، ٹیوب
لائٹ ، پنکھا ، ریڈیو یا ٹیلی ویژ ن آن (ON) نہ ہو۔۳ ۔
ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی اشیاء کو ریموٹ کنٹرول سے بند کرنے کے بجائے سوئچ سے
بند کریں ورنہ کچھ نہ کچھ بجلی ضائع ہوتی رہے گی۔۳ ۔گھر میں استعما ل ہونے والی
گیس ضائع ہونے سے بچانا آبادی میں اضافے اور روز بروز بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے
اب تک دستیاب قدرتی یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ گیس میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔
ہم اپنے گھروں میں زیادہ تر چُولھوں ، پانی گرم کرنے والے گیزروں (Geysers) اور کمرے گرم کرنے والے ہِیٹروں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں
چاہیئے کہ پانی و بجلی کی طرح اِس کو بھی ضائع ہونے سے بچانے کے لیئے درجِ ذیل
احتیا طی تدا بیر اختیا ر کریں :-۱ ۔ سب سے پہلے ہمیں یہ چیک کرنا چاہیئے کہ مِین
والوْ (Main Valve) بند کرنے کے بعد کہیں سے گیس لِیک تو نہیں
ہو رہی اگر ایسا ہے تو فوراً اِس کا تدارک
کیا جانا چاہیئے ورنہ یہ خطرناک بھی ہے اور کسی حادثہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔۲ ۔
بِلا وجہ چُو لھا جلتا ہؤا نہیں چھوڑنا چاہیئے۔۳ ۔ اکثر دِھیمی آنچ پر کوئ چیز
پکانے یا گرم کرنے کے لئے چُولھا جلتا چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن اگر ہَوا کا گُزر ہو
تو شعلہ بجھ جاتا ہے اور گیس ضائع ہونے
کے ساتھ ساتھ خطر ناک بھی ثا بت ہو سکتی ہے۔ ۴ ۔ رات کو سوتے وقت گیزر کا والوْ
بند کردینا چاہیئے کیونکہ ایک تو بلا وجہ پانی کھولتا رہیگا اور اگر کم درجۂ حرارت
پر سَیٹ کرنے کی وجہ سے بڑا شعلہ (Main flame) بند
بھی ہو جائے تو چھوٹا شعلہ (Pilot lamp) جلتا رہتا ہے جو تیز ہوا سے بُجھ جاتا ہے اور گیس ضائع ہوتی رہتی ہے۔ یہ
دونوں ہی صورتیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔۵ ۔ کمرے گرم کرنے کے لئے جو گیس کے ہیٹر
استعمال کئے جاتے ہیں اُن کو بھی رات کو سونے سے پہلے بند کرنا لازمی ہے کیونکہ وہ
جلتا رہے یا بجھ جائے دونوں صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔۶ ۔ اسی طرح رات
کو سونے سے پہلے کھانا پکانے والے چُولھوں کا مِین والوْ بند کر دینا بھی لازمی ہے
تاکہ کسی قِسم کا کوئ ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔۴ ۔ کھانے پینے کی اشیاء ضائع ہونے سے بچانا زندہ اور تندرست رہنا
ہر اُس مخلوق کا حق ہے جس نے اِس دنیا میں آنکھ کھول لی۔ اگر کسی کو یہ حق نہ ملے
تو ظاہر ہے وہ زندہ نہیں رہ پائے گا لیکن جس کو یہ حق مل رہا ہے وہ اگر اِنصاف کے
ساتھ اِس کو استعمال نہیں کرے گا تو وہ نہ صرف دوسروں کے ساتھ زیادتی کرے گا بلکہ
اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ درجِ ذیل باتوں پہ عمل کر کے ہم یہ مقصد حاصل کر
سکتے ہیں :-۱ ۔ کھانے کی چیز ہو یا پینے کی ، ہمیں اپنی ضرورت کے مطابق گھر میں
لانی اور رکھنی چاہئے۔ ضرورت سے زائد لا کر رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم بازار میں کم
یابی کی وجوہات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔۲ ۔
جتنا کھانا ہو اُتنا ہی اپنی پلیٹ میں نکالیں۔ اگر کم پڑے تو اور نکال لیں
، اگر پورا نہ کھا پائیں اور بچ جائے تو کُوڑے میں پھینکنے کے بجائے گھر کے کسی
فرد سے پوچھ لیں اور اگر کسی کی کھانے کی خواہش نہ ہو تو حفاظت سے رکھ لیں اور
مناسب موقع پر کسی مستحق کو دے دیں۔۳ ۔
ہمارا عام طور سے وطیرہ ہے کہ ہم گلاس بھر کے پانی لیتے ہیں اور اُس کے بعد
کافی سارا چھوڑ کر پھینک دیتے ہیں یا رکھ کر چلتے بنتے ہیں جو کہ بالآخر پھینکنا
ہی پڑتا ہے جبکہ ہمارے ہی مُلک میں بیشتر
لوگ پینے کے پانی کے ایک ایک گُھوٹ کو ترستے ہیں۔۴ ۔ شادی بیاہ یا دیگر
فنکشن میں کھانے پہ ٹوٹ کر پڑنا اور کھانے کی اشیاء کی لوٹ مار سے کون واقف نہیں ،
لگتا ہے کہ یہ زندگی کا آخری کھانا ہے اور اُس کے بعد ڈھیروں کھانا پلیٹوں میں
چھوڑ کرایسی بے حسی کے ساتھ ہم چل پڑتے ہیں جیسے ہم نے اِس فنکشن میں شرکت کر کے
احسان کیا ہو۔ نتیجہ یہ کہ بے شمار رِزق ضائع کر کے ہم بے شمار رِزق سے محروم
لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔۵ ۔ کبھی کبھار جب ہم اپنے دوست احباب کے ساتھ کسی ریسٹورنٹ
میں کھانا کھانے جاتے ہیں وہاں بھی کسی نہ کسی بہانے رزق کا ضیاع کر کے آتے ہیں جو
کہ کسی طرح بھی قابلِ ستائش نہیں۔

No comments:
Post a Comment