Search This Blog

Tuesday, June 9, 2026

والدین کے حقوق

(پیراماؤنٹ پبلشرز کے آفس میں لی گئی تصویر)

پچھلے دو اسباق میں سلوک کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جبکہ اِس سبق میں ہم حقوق کی بات کریں گے اِس کی وجہ یہ ہے کہ والدین کا درجہ سلوک کا متقاضی نہیں بلکہ اُن کا مقام حقوق کا مستحق ہے اور ہم پر فرض کی حد تک لازم ہے کہ درجِ ذیل فرائض انجام دینے میں کسی قِسم کی کوتاہی نہ برتیں۔ کیونکہ والدین کے حقوق یا ہمارے فرائض کا ایک ہی مطلب ہے۔۱۔ والدین کے ادب و احترام میں کسی وقت، کسی جگہ اور کسی بھی حالت میں ہماری کوئ مجبوری رُکاوٹ نہیں بننی چاہیئے۔۲۔ زندگی کے کسی لمحے میں خدمت کا موقع ملے اُسے ہرگز ضائع نہ کریں۔۳ ۔ اُن کی ہر بات کو نہایت توجّہ سے سُنیں ، اگر سمجھ نہ آئے تو بہت ادب سے سوال کریں۔۴ ۔ حتّیُ الو سع اُن کی ہر نصیحت پر عمل کریں ، اپنی منطق لڑانے کی کوشش نہ کریں۔۵ ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی معاملے میں اُن کا تجربہ اور ہمارا تجربہ مختلف ہو لیکن ہمیں اپنے تجربہ کو فوقیّت دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔۶۔ اسی طرح دیگر معاملات میں اختلافِ رائے ہونے پر اپنی رائے کو مسلّط کرنا بے ادبی میں شمار ہوگا۔۷۔ گھر میں کسی بھی شخصیّت کو والدین پر فوقیّت یا ترجیح حاصل نہیں خوا ہ وہ ہم سے عمر میں بڑی ہی کیوں نہ ہو البتّہ والدین کے والدین کا مقام اُن سے بھی بڑا ہے لہٰذا  اُن کو ضرور ترجیح حاصل ہے۔۸۔ والدین سے گُفتگو کے دوران ہماری آواز اور لہجہ دونوں دھیمے (Low tone)  ہونے چاہیئں اور تکرا ر سے پرہیز کرنا چاہیئے۔۹۔ والدین کی مرضی کے بغیر کوئ کام نہیں کرنا چاہیئے خاص طور پر گھر سے باہر جانے سے پہلے اُن سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہے خواہ کتنا ضروری کام ہی کیوں نہ ہو۔۱۰۔ اگر ہمارے دوست گھر میں آتے ہیں تو اُن کو بھی اُن تمام آداب کا خیال رکھنا ہوگا جو ہم پر لازم ہیں۔ یہ ہمیں پہلے سے اُن کو بتا دینا چاہیئے۔ اِسی طرح جب ہم اپنے دوستوں کے گھر جایئں تو اُن کے والدین کے سامنے تمام آداب کا خیال رکھیں۔۱۱۔ ہم اکثر اپنی معمولی سی مرضی، خوشی یا خواہش پوری کرنے کیلئے حِیلے بہانے بنا کر اور گول مول باتیں کرکے والدین کو چقمہ (Dodge)دینے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ ہم سے محبّت میں انجان بَن کر ہمیں نہیں روکتے، نتیجہ میں اکثر سب ٹھیک ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار بہت بھیانک انجام ہوتا ہے اور ہمارا بھانڈا پھُوٹ جاتا ہے اُس وقت ہمیں بہت شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے لہٰذا  ہمیں "ہمیں ہر وقت اور ہر حال میں سچ بولنا چاہیئے" کے اُصول پر قائم رہتے ہوئے ایسے موقعوں پہ بھی سچ ہی بولنا چاہیئے۔۱۲۔ اِس میں کوئ شک نہیں کہ تعلیم حاصل کرنا نہایت اہم ہے لیکن بوجوہ ہمارے والدین اگر تعلیم یافتہ نہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُن کو دنیا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور ہم اُن کی کسی نصیحت کو اِس بِنا پر رَد کر دیں کہ وہ کم یا غیر تعلیم یافتہ ہیں بلکہ اِس کے برعکس اُن کا عمر کے لحاظ سے ہم سے کہیں زیادہ تجربہ ہے اور عملی طور پر مشاہدہ و تجربہ کے ذریعے حاصل کردہ معلومات روایتی تعلیم سے کہیں زیادہ ٹھوس اور مُعتبر ہوتی ہیں لہٰذا ہمیں اَن کی ہر نصیحت کو مستند سمجھ کر عمل پیرا ہونا چاہیئے اِسی میں ہماری بہتری ہے۔۱۳۔  اس کے برعکس اگر والدین تعلیم حاصل کرنے کے بجائے ہم سے اِس بات کا تقاضہ کریں کہ ہم کسی بھی طریقے سے آمدنی کیلیئے کوئ روزگار تلاش کریں تاکہ گھر کے معاشی حالات بہتر ہو سکیں تو ہمیں اپنی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم اُن کو مؤدبانہ انداز میں قائل کرنے کی کوشش کریں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی مناسب روزگار مل پائے گا لیکن اُن کے زیادہ مجبور کرنے پر ہم اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیوشن یا کوئ اور با عزّت پارٹ ٹائم کام (Part Time Job) کر کے  اُن کی خواہش بھی پوری کر سکتے ہیں اور ہماری تعلیم کے اخراجات بھی نکل سکتے ہیں۔۱۴۔ چونکہ ہمارے والدین ہم سے بے حد پیار و محبّت کرتے ہیں اِس وجہ سے اپنی کوئ تکلیف، دُکھ یا پریشانی ہمیں نہیں بتاتے۔ صحیح وقت پر ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ اُس میں اضافہ ہونے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے جس کے نتیجہ میں ہم اُن پر خفا ہوتے ہیں کہ پہلے کیوں نہ بتایا۔ اِس قِسم  کا ردِّ عمل فطری تو یقیناً ہے لیکن اس طرح ہم انجانے میں ہم اُن کا دِل دُکھا رہے ہوتے ہیں اِس کے برعکس ہم ایک لمحے کیلئے حوصلے اور برداشت سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ پہ نظرِثانی کریں تو ہماری منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جایئگی اور ہماری ساری توجّہ اُن کے مسئلہ کو فوری طور پر حل کرنے کی طرف مبذول ہو جایئگی۔  


 

No comments:

Post a Comment

Archive