Search This Blog

Friday, June 19, 2026

فطرت سے ہم آہنگی میں زندگی آسان (باب دوم)

(انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر)

شب و روز کی تبدیلی کے مطابق ہم اپنے آپ کو ہم آہنگ رکھتے ہیں تو صحیح رہتے ہیں، غیر آہنگ ہوتے ہی طبیعت میں گرانی سی محسوس ہونے لگتی ہےیعنی رات کے وقت ہم نیند نہ لیں تو دن بھر چاق و چوبند نہیں رہ سکتے۔ فطرت نے ہمارے اندر کا نظام ایسے بنایا ہے کہ ایک دن یا چوبیس گھنٹے میں ہمیں چند گھنٹے کام کرنے کے بعد آرام کرنا لازم ہو جاتا ہے۔  ہر انسان کا  آرام کرنے اور کام کرنے کا وقت فطرت نے اس انسان کے جسمانی نظام کے حساب سے رکھا ہے۔گویا دونوں میں ہم آہنگی ہے۔اسی طرح ماہ و سال کی تبدیلیاں جب موسم کے تغیرات لاتی ہیں تو انسان کو ان کے ساتھ اپنے لباس میں تبدیلی لانی ہوتی ہے ورنہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، یعنی موسم گرما  اور موسم سرما کے لباس میں زمین و آسمان کی تبدیلی آجاتی ہے تب انسان کی صحت درست رہتی ہے۔ہمیں زندہ رہنے ، شب و روزاور  ماہ و سال کی تبدیلیوں کے حساب سےجوبیرونی  لوازمات درکار ہوتے ہیں انکے حصول کے لئے فطرت نے  بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ زندہ رہنے اور نشو نما کے لئے آکسیجن گیس، پانی  اور غذائیت سے بھرپور اجناس، سبزیاں ،پھل، درخت اور دیگر معدنیات  وغیرہ اسی زمین  پر  یا  اس کے اندر میسر ہیں۔یہ تمام نعمتیں زمین اور اس کی فضا کو نقصان پہنچائے بغیر استعمال کرتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے اپنے آپ اور اپنے طرزِ زندگی کو فطرت سے ہم آہنگ رکھا ہے۔لیکن ان نعمتوں میں سے کسی ایک کے حصول کے لئے ہم نے زمین یا اس کے ماحول کو نقصان پہنچایا  تو گویا ہم نے فطرت سے غیر آہنگی  کا عمل کیا جس کے نتیجے میں بالآخر انسانیت کو ہی خطرات لاحق ہو تے ہیں جن کو آگے چل کر تفصیل سے بیان کیا جائیگا۔انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات اپنے کھانے پینے کے لئیے تھوڑی بہت اشیاء ذخیرہ کر لیتی ہیں لیکن حضرتِ انسان اپنے کھانے پینے  کا سامان اور مال و دولت قیامت تک کا جمع کرنے کی خواہش رکھتا ہے جس کے حصول کی جدوجہد میں لڑائی جھگڑا  اور قتل و غارت کے واقعات ازل سے ہوتے چلے آرہے ہیں اور ابد تک ہوتے رہیں گے کیونکہ زن، زر اور زمین کا حصول اور اس کی ملکیت حاصل کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے۔ کسی بھی شے کے حصول کے لئے دوسرے کو محروم کرنا بھی لازم و ملزوم ہے اور یوں جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس کےاستعارہ نے جنم لیا جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔گویا طاقت کے بل بوتے پر ایک طاقتور انسان  ایک کمزور انسان سے سب کچھ چھین سکتا ہے۔ایسی صورت میں ہمیں اپنا عمل فطرت کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لئے کیا کرنا ہے؟زن ، لڑکی یا عورت کے حصول کے لئے دنیا کی ابتدا  میں ہی آدم کی اولاد قابیل نے ہابیل کو قتل کر کے نہائیت ہی ناپسندیدہ فعل ادا کیا  لیکن انسان نے اپنے آپ کو اشرف ثابت کرنے کے لئے اخلاقیات کے اصولوں پر جس معاشرہ کی تخلیق کی اس کی لامحدود ارتقائی منزلیں طے ہونے کے باوجود ہنوز جاری و ساری ہیں اور یوں مختلف النّوع اقسام کی روایات دنیا کے ان گنت معاشروں میں آج بھی پائی جاتی ہیں۔ 


 

No comments:

Post a Comment

Archive