(مائیکل جیکسن کاسمیٹکس سرجری سے پہلے اور
بعد میں)
چونکہ خالقِ کائنات کی کوئی جسمانی ہئیت نہیں لہٰذا وہ نہ
تو نظر آسکتاہے اور نہ ہی اس سے بالمشافہ بات چیت ہو سکتی ہے لیکن تمام قدرت اس کے
پاس ہونے کی بابت اس نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کیا اور مختلف ذرائع کی
وساطت سے اس تک اپنا پیغام پہنچا دیا کہ اگر کسی انسان کو اپنے آپ کو میرے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے،
اس پر عمل کرنے سے "جزا" اور عمل نہ کرنے کی "سزا" ہے ۔دنیائے
تاریخ کے ہر ادوار میں موجود انسانوں کے لئے ان ہی کی زبان میں اپنے مقرر کردہ
نظام کے تحت پیغام بھجوادیا۔خالقِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ضروری نہیں
ہر انسان اس سے بالمشافہ ملاقات کرے بلکہ اس کے نظام میں ملائکہ اور پیغمبران شامل
ہیں باقی اس کی نشانیاں ہیں جو غور کرنے والے انسانوں کو نظر آ جاتی ہیں، گویا
فطرت سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اس نظام میں داخل ہونا پڑتا ہے، جو اس نظام کا حصہ بن
گیا اور اس پر آہنگی سے اپنی زندگی گذاری اس کی نہ صرف یہ زندگی آسان ہے بلکہ اس
کے بعد کی زندگی بھی جزا کی صورت میں نہایت ہی آسان اور خوبصورت ہوگی۔جس انسان نے
اس نظام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی یا سمجھنے کے باوجود اس میں داخل نہ ہوا اس کی
موجودہ زندگی تو کرب و پریشانیوں میں گھری
رہے گی بلکہ اگلی زندگی میں بھی اس کو سزا کے طور پر ہر وہ تکلیف ملے گی جس کا ہم
تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بیان کردہ خالقِ کائنات کا نظام تو کسی نہ کسی صورت میں
روئے زمیں پر ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیل گیا اور لگ بھگ ہر انسان جان گیا
لیکن اس کے آگے بھی ایک نظام ہے جو غور کرنے کے باوجود بیشتر انسان یا تو سمجھ ہی
نہ پائے اور یا پھر سمجھنے کے باوجود اس پر عمل کرنا ان کے لئے مشکل ہے یا ممکن
نہیں۔ اس کو انسانی نظام کہتے ہیں کیونکہ اسے انسانوں نے بے شمار ارتقائی منازل سے
گزرنے کے ساتھ ساتھ وضع کیا ہے، اس کی بنیاد کا فطرت کے نظام کے ساتھ الحاق ہے
یعنی اس انسان کے بنائے ہوئے نظام میں بھی کوئی اصول فطرت کے نظام کے اصولوں سے
غیرآہنگ نہیں۔ایک تو یہ انسانی نظام "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کے
بنیادی اصول پر قائم ہے دوسرے اس میں انسانی فلاح و بہبود کے پیوند بمطابقِ ضرورت
لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ بھونڈے اصول قابلِ قبول اور مقبول ہیں کیونکہ جہاں
انسان کی اپنی فلاح نتیجتاً برآمد ہوتی ہو بھلا وہ کس کو ناقابلِ قبول ہوگا؟ گویا
براہِ راست فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے بجائے بالواسطہ نظام میں شامل ہو کر بھی
ہم اپنی زندگی آسان بنا سکتے ہیں اور اس کے بعد کی زندگی میں کڑی سزا سے بھی بچ
سکتے ہیں۔براہِ راست فطرت کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہر انسان کا اس
نظام کو اچھی طرح سمجھنا لازم ہے۔جب کہ بالواسطہ فطرت کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے اس
نظام کو سمجھنا لازم نہیں بلکہ آنکھ بند کر کے واسطہ کے پیچھے چلنا ہی کافی ہے۔براہ راست چلنے والے
انسان کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے جسم کے کون سے اعضاء
ہیں جن کو نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہونا لازم ہے اور کون سے اعضاء نہ بھی ہم آہنگ ہوں
تو فرق نہیں پڑے گا۔شکل صورت سمیت انسانی جسم کے اعضاء خالقِ کائنات کے تخلیق کئے
ہوئے ہیں لیکن بسا اوقات کئی اعضاء میں ردو بدل کرنا یا آپریشنل بہتری کے لئے کوئی
تبدیلی لا کر فطرت سے ہم آہنگ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن شوقیہ یا دکھاوے کے
لئے کسی قسم کا ردو بدل یا تبدیلی غیر آہنگی کی علامت ہے جس میں سراسر تکلیف ہے،
یہ نکتہ انسان کو ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد سمجھ آگیا لیکن پھر بھی تاریخ کے
ہر دور میں ایک ایسا طبقہ موجود رہا جس نے فیشن کے نام پر ایسا کیا اور آج بھی
ایسے لوگ موجود ہیں جو دولت کی فراوانی کے باعث فیشن کے نام پر اپنے لباس کے ساتھ
اپنی شکل صورت تو کیا، اپنی پوری کی پوری ہیئت ہی تبدیل کرنے پر تلے ہیں جن کو نہ
صف اس عمل کو بروئے کار لانے میں تکلیف ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو تمام زندگی ہی
شدید اذیت میں گذارنا پڑتی ہے۔میرا اشارہ چہرے کی پلاسٹک سرجری، نئے بال اگانے کی
سرجری اور جنس تبدیل کرنے کی سرجری کی جانب ہے۔
|
No comments:
Post a Comment