Search This Blog

Tuesday, July 7, 2026

خدا کا خوف کرو

(انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر کہہ رہی ہے میرے اندر ایک کمزور دل ہےلیکن اس کے پیچھے ایک مضبوط خدا ہے)

ہم لوگ اکثر ایک دوسرےکو اپنی بات پر قائل کرنے کے لئے جہاں اور کئی حربے آزماتے ہیں وہاں ایک اہم طریقہ واردات یہ بھی ہے کہ ہم خدا کو ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے وہ صرف میرا ہے دوسرے کسی کا نہیں اور اس خاطر جو استعارہ استعمال کرتے ہیں وہ ہے "خدا کا خوف کرو"۔حالانکہ خدانے اپنا وجود منوانے کے لئے کبھی کسی دور  یا کسی بھی عقیدے میں یہ نہیں کہا کہ مجھ سے ڈرو بلکہ ہمیشہ یہی سننے میں آیا  کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ، شیطان سے پنا ہ مانگو، گویا شیطان ایک ایسی قوت ہے جس کے نرغے میں پھنسنے سے بچنے کے لئے خدا کی پناہ مانگ لی جائے تو بہتر ہے ورنہ پھر خدا بھی کچھ نہ کر پائے شاید۔اب مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ خدا وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان بے بس ہوتا ہے  اور دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کو کوئی مانے یا نہ مانے اس کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا آخر نہ ماننے والوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے اور خدا ہی ان کو بھی خوب نواز رہا ہے۔ شیطان سے دوستی ہو یا دشمنی، دونوں میں خسارہ ہے  گو کہ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ بہت فائدہ ہو رہا ہے  لیکن ہم ایمانداری سے جب اپنے کھاتے پر نظر دوڑاتے ہیں تو ضمیر بتا دیتا ہے۔  ہم اپنے اندر جھانکتے ہی نہیں جو معلوم ہو کہ ہمارے اندر ہے کیا کیا؟ لیکن ایک اور استعارہ بھی اکثر استعمال ہوتا ہے کہ خدا ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ منصور بن حلاج نے گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے سیدھے الفاظ میں ساف صاف کہنا شروع کر دیا تھا کہ "میرے اندر خدا ہے یا میں خدا ہوں" تو قاضیئ وقت نے اس کو سُولی پر چڑھا دیا۔ماں کے پیٹ کے اندر ایک چھوٹے سے لوتھڑے کے اندر روح کس نے پھونکی، وہ روح اسی کی تو ہے جو خالقِ کائنات ہے گویا ہر جاندار کے اندر روح پھونکنے والے کی روح کا کچھ نہ کچھ حصہ ہی تو ہے جس نے منصور کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ میں خدا ہوں تو پھر خدا  سے خوف کیسا؟  منصور حلاج (اصل نام ابو المغیث الحسین بن منصور الحلاج) تیسری صدی ہجری کے مشہور و متنازع صوفی، شاعر اور مصنف تھے۔ ان کی وجہ شہرت ان کا فلسفہ وحدت الوجود اور مشہور نعرہ "اَنَا الحَق" (میں ہی حق/خدا ہوں) ہے، جس پر کفر کا فتویٰ لگا کر انہیں 922ء میں عباسی دورِ حکومت میں بغداد میں سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ منصور حلاج 858ء میں ایران کے صوبہ فارس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی عمر میں ہی صوفیائے کرام کی صحبت اختیار کی، جن میں حضرت جنید بغدادی جیسے جید صوفیا شامل تھے۔ حلاج نے عربی اور فارسی زبانوں میں بے شمار کتب اور اشعار تحریر کیے جو آج بھی صوفی لٹریچر کا حصہ ہیں۔ 


 

No comments:

Post a Comment

Archive