Search This Blog

Sunday, July 12, 2026

یہ حکمراں کون ہوتے ہیں آخر؟

(انٹرنیٹ سے لیا گیا خاکہ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کا)

حکمراں طاقت کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔قبل از تاریخ جنگل میں جب قبائلی نظام کی ابتدا ہوئی تو کسی بھی قبیلے کا سردار جسمانی طورسب سے طاقتور انسان منتخب ہؤا کیونکہ اس نے اپنی طاقت کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ  نہ صرف بہترین شکاری ہے بلکہ قبیلے والوں کی خطرناک درندوں سے حفاظت بھی کر سکتا ہے۔وہ  درندوں کا شکار ہی نہیں بلکہ قبیلے والے کمزور لوگوں کی نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لئےدیگر قبائل کی زنانیاں بھی  زبردستی اٹھا کر لا سکتا ہے۔اپنی بڑھتی ہوئی قوت کے استعمال سے اپنے قبیلے کے افراد میں بڑھوتی کے ساتھ زیرِ استعمال زمین کے ٹکڑے میں اضافہ بھی اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں رہتا تو تینوں "ز" یعنی زن، زر، زمین کے  بنیادی انسانی جبلّت کے مظہر کی تعبیر مکمل ہوتی ہے جس میں "زر"  یعنی دولت کا اظہار مویشیوں کی تعداد، شکار کرنے والے ہتھیاروں کے انبار اور بے شمار کنیزوں پر ظالمانہ جبری قبضہ  سے ہوتا ہے۔یہ تمام استعارہ فطری تقاضوں میں شمار ہوتا ہے گویا کمزور انسانوں کے نصیب میں حکمراں سردار کی بچی ہوئی زن، زر اور زمین ہوتی ہے جس پر اس کو صبر و شکر سے اپنی زندگی کو خوبصورت بنانا ہوتا ہے ورنہ وہ خود بھی کسی نہ کسی طرح طاقتور کا شکار بن جاتا ہے۔اب ذرا اس نظام کو آج کے ترقی یافتہ رسم رواج   پر منطبق کر کے دیکھیں تو لاکھ مذاہب و عقیدات  کا سہارا لینے کے باوجود   "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کا عدالتی نظام روزِ روشن کی مانند ملمع شدہ سونا نظر آئیگا خواہ دنیا کے کسی بھی کونے سے شروع کریں ، ہاں البتّیٰ سونے کے ملمع شدہ پرت کہیں قلیل اور کہیں کثرت سے نظر ضرور آئیں گے جیسے کسی ملک میں چوری  کی شکایت نہ ہونے کے برابر ہے تو کسی میں پولیس آٹے  میں نمک کے برابر، کہیں انصاف ہماری زندگی میں ہی مل جاتا ہے تو کہیں ہمارے مرنے کے بعد، ملتا ضرور ہے، کسی ملک میں دولت کو تصوراتی ضرب لگانے سے زیادہ بڑھاوا دیا سکتا ہے تو کہیں رزق کی فراوانی سے اموات رونما ہوتی ہیں۔کمزور  دنیا کے ہر کونے میں ماتم کرتا ہی نظر آتا ہے خواہ وہ امریکہ ہو یا ایران، روس ہو یا یوکرین، فارمولہ ایک ہی ہے  حکمرانوں کا "جس کی لاٹھی اس کی بھینس"طاقت ور ہی کا سب کچھ ہے۔ جب کوئی  طاقت ور اپنے بل بوتے پر زبردستی کسی کمزور کا مال اپنے قبضے میں کر لے تو یہ مثل کہی جاتی ہے۔اِس مثل کے وجود میں آنے کا سبب ایک دل چسپ حکایت ہے جو اِس طرح ہے: ایک بار کوئی  شخص بازار سے ایک بھینس خرید کر اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں سُنسان جنگل پڑتا تھا۔ جس وقت وہ سُنسان راستے سے گزر رہا تھا تو راستے میں ایک چور ملا۔ چور نے اُس کا راستہ روک لیا اور ڈرا دھمکا کر کہا کہ” بھینس میرے حوالے کر دوجب بھینس والے نے آنا کانی کی تو چور نے لاٹھی تان کر کہا۔ ”اگر تم بھینس نہیں دو گے تو اس لاٹھی سے تمارے سر کو چکنا چور کر دوں گا۔ پھر تم کو بھینس کے ساتھ ساتھ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اچھّائی  اسی میں ہے کہ بے چون و چُراں بھینس میرے حوالے کر دو اور اپنے گھر کا راستہ لو۔بھینس والے نے سوچا کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔ کہیں جان پر نہ بن آئے۔ بھینس دینے ہی میں عافیت ہے۔ اُس نے بھینس چور کے حوالے کر دی اور نہایت عاجزی و انکساری سے کہا۔اب یہ بھینس آپ کی ہے، راستہ سُنسان ہے اگر تم مجھے اپنی یہ لاٹھی دے دو تو میں اِس کے سہارے اپنے گھر تک پہنچ جاٶں گا۔چور نے سوچا قیمتی بھینس تو مجھے مل گئی  ہے اب لاٹھی دینے میں کیا مضائقہ  ہے۔ اُس نے بھینس والے کو اپنی لاٹھی دے دی۔ چور جُوں ہی بھینس کو لے کر چلنے لگا۔ اُس شخص نے لاٹھی تان کر کہا۔ ” اب کہاں جاتا ہے؟ تیری عافیت اس میں ہے کہ بھینس کو چھوڑ کر بھاگ جاؤ، ورنہ تیرے سر کے دو ٹُکڑے کر دوں گا۔چور گھبرا گیا۔ معاملہ اُلٹا ہو گیا تھا۔ موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے  اُس نے بھینس چھوڑ دی اور اپنی لاٹھی واپس مانگی۔ اُس شخص نے جواب دیا۔ ”اب یہ لاٹھی تیرے ہاتھ آنے والی نہیں ہے کیوں کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive