![]() |
(اپنی تصویر ذاتی البم سے لی گئی ہے)
رحمت لفظ رحم سے ہے یعنی خالقِ کائنات نے مجھ پہ رحم کیا کہ
انسان بنایا۔نعمت لفظ انعام سے ہے یعنی بے شمار انعامات سے نوازا جیسے لباس اور
خوراک وغیر۔برکت لفظ خوشحالی سے ہے یعنی
زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے وقت اور مال و دولت عطا کی۔رحمت ہمارے اختیار میں
نہیں کیونکہ رحم کرنا خالقِ کائنات کی صفت ہے۔ ہاں البتّیٰ اس کی عطا کردہ رحمت کی
حفاظت کرنا یعنی انسان ہونے کو انسانیت کی
فلاح و بہبود کے لئے صرف کرنا ہمارا فرض بھی ہے اور قرض بھی، یہی نہیں بلکہ دیگر
تمام مخلوقات کے ساتھ بھی رحم کے ساتھ پیش آنا بھی اشرف المخلوقات کی حیثیت سے
ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔اسی طرح کسی نعمت
سے نوازنا بھی خالقِ کائنات کی منشا ہے لیکن
جائز و ناجائز ذرائع سے ہم اپنی نعمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں ، فیصلہ ہمیں
کرنا ہے کہ جائز طریقے سے اپنے انعامات میں اضافہ کریں یا ناجائز ذرائع سے، انجام
ہمیں ہی بگھتنا ہوگا۔بعینئہ برکتوں کے حصول کے لئے ہمیں اپنی ضروریات کے مطابق ہر
شے میں خوشحالی کے حصول کے لئے میانہ روی کا راستہ اپنانا ہو گا۔ اللہ کی عطا کردہ کسی بھی نعمت کا زیاں یا بے جا
استعمال اس نعمت میں برکت
ڈالنے کے بجائے اس کی خوشحالی میں کمی واقع کر دیتا ہے جو کہ اس کی فطرت کے
عین مطابق ہے۔برکت سے مراد اللہ کی طرف سے کسی بھی چیز (جیسے مال، وقت، علم یا
صحت) میں خیر، اضافے اور پائیداری کا ہونا ہے۔ اس کا مطلب محض چیز کا زیادہ ہونا
نہیں، بلکہ تھوڑی سی چیز کا بھی انسان کے لیے بے پناہ سکون اور فائدے کا باعث بننا
ہے۔ یہ روحانی نعمت تقویٰ، استغفار، سچائی، اور رزق حلال کمانے سے حاصل ہوتی ہے۔آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد ہر
قسم کی برکات ہیں ، صحت میں ، کاموں میں ، وقت میں ، مال میں ، کھانے پینے اوراستعمال
و ضرورت کی تمام چیزوں میں برکت و رحمت نازل کی جاتی ہے ۔ مثلاً ایک آدمی کی صحت
تقریباً دس سال سے بالکل ٹھیک ہے ، کبھی سر میں درد نہیں ہوا۔ اُسے یاد بھی نہیں
ہے کہ وہ ڈاکٹر کے پاس کب گیا تھا ؟ یہ صحت کی برکت ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے آنے
کی کلفتوں اور الجھنوں سے بچ گیا۔ وہ مستقل اپنا کام کرتا رہا ۔ وقت بھی محفوظ رہا
اور پیسہ بھی۔ اسی طرح تھوڑے وقت میں امید سے زیادہ کام کرنا بھی ایک قسم کی برکت
ہے۔ جس کام کے لیے آدمی کہیں جاتا ہے یا جس کام میں مصروف رہتا ہے ، اگر وہ کام
صحیح طرح ہوگیا ، کوئی رکاوٹ نہ آئی تو یہ بھی برکت ہے اور اگر کام میں رکاوٹ پیدا
ہوجائے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے اعمال بد کی نحوست کے سبب اللہ کی طرف سے بے
برکتی کا انتظام کیا گیا۔ بہت سے لوگ وقت میں بے برکتی کی شکایت کرتے ہیں کہ صبح
سے شام ہوجاتی ہے ، وقت اس قدر تیزی سے گزر جاتا ہے کہ دن کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
کوئی کام مکمل نہیں ہوپاتا ہے کہ دوسرا دن بلکہ دوسرا ہفتہ اور دوسرامہینہ شروع
ہوجاتا ہے۔ سالہا سال تیزی سے گزر رہے ہیں۔ کوئی قابل لحاظ کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔
بلا شبہ یہ بے برکتی ہے ، جو انسان کے اعمال بد کا نتیجہ ۔ بہت سے کج فہم لوگوں کو
برکت کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ بعض لوگ مذاق بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے
پاس دس ہزار روپے ہیں ، کیا نیک کام کرنے سے وہ بارہ ہزار بن جائیں گے۔ یاد رہے کہ
برکت سے مراد روپے کی مقدار میں اضافہ نہیں ہے ، بلکہ روپے کا صحیح جگہ استعمال
ہونا ، کم پیسوں میں کام کا بن جانا ، تھوڑی آمدنی میں ضرورت پوری ہوجانا یہ سب
مال کی برکت ہے ، جو اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کی وجہ سے عطا کرتا ہے ۔ بہت سے دوست
و احباب کی آمدنی ایک لاکھ سے زائد ہر مہینے ہوتی ہے ، مگر کچھ پیسے بیماریوں اور
اسپتالوںمیں، کچھ ناجائز مقدمات کی پیروی میں، کچھ عیش و عشرت میں اور کچھ گناہ کے
کاموں میں خرچ ہوجاتے ہیں۔ مہینہ پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے سارے پیسے ختم ہوجاتے
ہیں اور قرض کی نوبت آجاتی ہے ۔ سماج میں کوئی عزت ہے اور نہ قلبی و ذہنی سکون
انھیں حاصل ہے۔ یہ اللہ سے بغاوت کا نتیجہ ہے ، جس کے سبب مال سے برکت اٹھالی گئی۔

No comments:
Post a Comment