Search This Blog

Wednesday, July 22, 2026

لامین یامال کی دادی

(لامین یامال اپنی دادی کے ساتھ، انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر)

یوں تو دولت کے جائز و ناجائز حصول نے  انسانی زندگی کے ہر شعبے میں جھوٹ، بے ایمانی، ہوس و لالچ جیسی بیماریوں نے ایک صحت مند رویئے کو بھی عرصہ دراز سے جوئے کی نظر کر دیا ہے۔پاکستان کی شان کرکٹ و ہاکی جیسے کھیلوں میں جب سے سٹّے کا کاروبار شروع ہؤا، کھیل میں دلچسپی ختم ہی ہو گئی۔ فٹبال ورلڈ کپ 2026 اسپین جیت گیا، سب کو معلوم ہے، انٹرنیٹ بھرا پڑا ہے اس پر کہانیاں اور تبصروں سے ۔میں صرف اس بات کی آگاہی پہنچانا چاہتا ہوں کہ اسپین کو جتانے والے لامین یامال کی اصلیت ہے کیا اور کیوں اللہ تعالیٰ نے  نیو ورلڈ آرڈر کی جنگ کے دوران اسپین کو جتوانے کا بندوبست کیا۔ مختصراً  اتنا کہوں گا کہ یہودیت کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود اسپین پر 700 سال اسلامی غلبہ و زوال اور پاکستانی فٹبال کو دنیا بھر کی ٹھوکروں کے باجود  "وَتُعزُّ مَن تَشاء" کا سلسہ شروع ہو چکا۔لامین یمل کی دادی  کا نام فاطمہ رومانی ہے (جسے فاطمہ ناصراوی بھی کہا جاتا ہے)۔ اس نے اسپین کے شہر ماتارو کے روکافونڈا محلے میں اس کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا۔اس کے بعد انہوں نے اس شاندار سفر کو یاد کیا جس نے ان کے خاندان کا مستقبل ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ "سب سے پہلے پہنچنے والی میرے والد کی والدہ تھیں۔ وہ بس سے اکیلی آئیں،" انہوں نے کہا۔ "وہ بس میں بیٹھی، الجیسیراس میں رکی، پھر گراناڈا، اور آخر کار ماتارو پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔"یمل کے مطابق، ایک بار جب وہ اسپین پہنچیں، تو فاطمہ نے فوری طور پر خاندان کو دوبارہ ملانے پر توجہ دی۔ "وہ  خاندان کی سب سے پہلے پہنچنے والی شخصیت تھیں  اور انھوں  نے کام کرنا شروع کر دیا،" لامین نے یاد کر کے کہا ۔ "وہ صبح، دوپہر، راتیں، سب کچھ کام کرتی تھیں تاکہ میرے والد آسکیں  کیونکہ وہ اپنی بہن کے ساتھ مراکش میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک بار جب انھوں  نے کافی رقم جمع کر لی تو انھوں  نے ایک عورت کو اسپین لانے کے لیے ادائیگی کی تاکہ والد کو لایا جاسکے۔"ایک صحافی نے امین جمال، لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟لامین یامال نے جواب دیا:"میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا تھا، وہ حقیقی دباؤ تھا۔ میرے والد گھر کا پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چن کر لاتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔"یہ جواب دراصل ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کر دیتا ہے، حالانکہ زیادہ تر مداح صرف ان کی کامیابی کا ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں۔لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے کم عمر والدین کرایہ ادا نہ کر سکے۔ اس مشکل وقت میں دو پڑوسی، جن کے نام لامین اور یامال تھے، آگے آئے اور ان کی مالی مدد کی۔ اس احسان کے بدلے ان کے والد نے عہد کیا کہ اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کا نام انہی دونوں پڑوسیوں کے نام پر رکھیں گے۔ اسی لیے ان کا پورا نام لامین یامال ہے، جو اس احسان کی ہمیشہ یاد دلانے والی ایک زندہ نشانی ہے، ایسا قرض جسے ان کا خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ عربی زبان میں ان ناموں کے معنی "امانت دار" اور "خوبصورتی" ہیں۔جب لامین تقریباً پانچ برس کے تھے تو ان کے والدین الگ ہو گئے۔ ان کی والدہ نے اسپین کے شہر گرانولیرس میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی معمولی تنخواہ پر کام کرتے ہوئے ان کی پرورش کی۔ایک دلچسپ حقیقت، جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں، یہ ہے کہ یہی ملازمت لامین کے فٹبالر بننے کی وجہ بنی۔ اسی کام کے دوران ان کی والدہ کی ملاقات CF La Torreta کلب کے یوتھ کوآرڈینیٹر کی بیٹی سے ہوئی، جو بعد میں لامین کے پہلے فٹبال کلب کا ذریعہ بنی۔ جب والدہ نے فیس ادا نہ کر سکنے کی پریشانی ظاہر کی تو کلب کے ذمہ دار نے کہا:"اگر یہ بچہ کھیلنا چاہتا ہے، تو پیسے کبھی بھی اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔"بچپن میں لامین اپنے والدین سے کہا کرتے تھے:"اگر آپ امید کر رہے ہیں کہ میں کوئی عام نوکری کروں گا، تو پھر ہم مشکل میں ہیں۔ لیکن اگر میں فٹبالر بن گیا، تو آپ کو زندگی بھر کسی چیز کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔"صرف سات سال کی عمر میں انہوں نے بارسلونا کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کر لی، اور صرف پندرہ برس کی عمر میں ثابت کر دیا کہ ان کا وعدہ سچا تھا۔ہر گول کرنے کے بعد وہ اپنی انگلیوں سے 304 کا اشارہ بناتے ہیں۔ یہ دراصل 08304 کا آخری حصہ ہے، جو روکافوندا کے پوسٹل کوڈ کا حصہ ہے، وہی محلہ جہاں ان کے خاندان کی مدد کی گئی تھی اور جہاں دو پڑوسیوں نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔ ہر گول کے ساتھ وہ اپنے ماضی، اپنے محلے اور ان محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔آج، 19 سال کی عمر میں، لامین یامال دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے میں اسپین کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اگر وہ آج رات گول کرتے ہیں، تو دنیا بھر میں اربوں ناظرین کی اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا، اور کہیں نہ کہیں وہ دو پڑوسی بھی فخر سے محسوس کریں گے کہ ان کے ایک چھوٹے سے احسان کی گونج پوری دنیا تک پہنچ گئی۔


 

No comments:

Post a Comment

Archive